شمائل ترمذي کل احادیث 417 :حدیث نمبر
سوانح حیات امام ترمذی رحمہ اللہ
امام ترمذی کے علم و فضل اور قوت حافظہ کے بارے میں علماء اور محدثین کے اقوال:​
ابو اسعد عبدالرحمن بن محمد ادریسی:
ابو اسعد عبدالرحمن بن محمد ادریسی کہتے ہیں: ابوعیسی ترمذی حفظ حدیث میں ضرب المثل تھے، اس سلسلے کا ایک واقعہ وہ اپنے شیخ ابوبکر احمد بن محمد بن حارث مروزی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے احمد بن عبداللہ بن داود کو یہ کہتے سنا کہ میں نے امام ترمذی کو کہتے سنا: ایک بار میں مکہ کے راستے میں تھا اور میں نے ایک شیخ کی احادیث کے دو جزء لکھے تھے، مجھے شیخ ملے تو میں نے آپ سے سماع حدیث کا مطالبہ کیا، میں سمجھ رہا تھا کہ شیخ کی احادیث کے دونوں جزء میرے پاس ہیں، آپ نے قرأت حدیث پر آمادگی ظاہر کی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے پاس سادہ کاغذوں کے دو جزء ہیں، شیخ یہ احادیث پڑھ کر مجھے سنانے لگے اور مجھے دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سادہ کاغذ ہے، اور مجھ سے کہا: تمہیں ایسا کرتے مجھ سے شرم نہیں آتی تو میں نے صورت حال سے آپ کو باخبر کیا، اور عرض کیا کہ مجھے ساری احادیث یاد ہیں، تو آپ نے کہا کہ پڑھو میں نے انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے میری تصدیق نہ کی اور کہا کہ کیا آنے سے پہلے تم نے ان احادیث کو یاد کر لیا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے دوسری حدیثیں سنائیں، تو آپ نے چالیس حدیثیں مجھے پڑھ کر سنائیں پھر مجھ سے کہا کہ لاؤ سناؤ، تو میں نے ان کو پڑھ کر سنا دیا، ایک بھی حرف کا فرق نہ تھا تو انہوں نے کہا: میں نے تمہارے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔ [تهذيب التهذيب، السير 273/13]