شمائل ترمذي کل احادیث 417 :حدیث نمبر
سوانح حیات امام ترمذی رحمہ اللہ
امام ترمذی کے علم و فضل اور قوت حافظہ کے بارے میں علماء اور محدثین کے اقوال:​
ابن عماد حنبلی:
ابن عماد حنبلی کہتے ہیں: امام ترمذی اپنے ہم عصروں میں واضح مقام رکھتے تھے۔ اور حفظ اور اتقان میں وہ ایک نشانی، نمونہ تھے۔ [كتاب شذرات الذهب]

امام ترمذی متفقہ طور پر ثقہ محدث، ناقد حدیث اور امام دین ہیں، آپ کی تصانیف مشہور و معروف ہیں، لیکن اس شہرت اور امامت کے علی الرغم ابن حزم نے آپ کے بارے میں کتاب الاتصال کے باب الفرائض میں یہ کہہ دیا کہ آپ مجہول راوی ہیں، اس پر علماء نے نکیر کی،

حافظ ذہبی: حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں کہتے ہیں: ترمذی حافظ اور اعلام میں سے ہیں، جامع کے مؤلف اور متفق علیہ ثقہ ہیں، ابن حزم کا یہ کہنا کہ ترمذی مجہول ہیں، لائق التفات بات نہیں ہے، ابن حزم نے نہ ترمذی کو جانا اور نہ ہی جامع ترمذی اور علل ترمذی کے وجود کا انہیں علم تھا۔ [ميزان الاعتدال]

◈ امام ذہبی سیر أعلام النبلاء میں ابن حزم کے فضائل اور عیوب کے گنانے کے بعد فرماتے ہیں: مجھے ابومحمد ابن حزم سے ان کی صحیح حدیث سے محبت اور اس کی معرفت کی بنا پر محبت ہے، گرچہ میں ان کے علم رجال، علل حدیث اور اصول و فروع میں غلط مسائل کی کثرت کی وجہ سے ان کی موافقت نہیں کرتا، اور کئی مسئلے میں قطعی طور پر ان کو غلط کہتا ہوں، لیکن نہ تو ان کی تکفیر کرتا ہوں، اور نہ انہیں گمراہ کہتا ہوں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کا امیدوار ہوں، ان کے ذہن کی تیزی اور علم کی وسعت کا قائل و معترف ہوں، میں نے دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کا یہ قول ذکر کیا کہ سب سے عظیم اور اہم کتاب موطأ امام مالک ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: بلکہ سب سے عظیم کتابیں صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن السکن، منتقی ابن الجارود، اور منتقی قاسم بن اصبغ ہے، پھر اس کے بعد سنن ابی داود، سنن نسائی، مصنف قاسم بن اصبغ، مصنف ابی جعفر الطحاوی کا نمبر آتا ہے،

◈ ذہبی کہتے ہیں: ابن حزم نے نہ تو ابن ماجہ کا ذکر کیا اور نہ ہی جامع ترمذی کا، یہ دونوں کتابیں ابن حزم نے دیکھی نہ تھی، بلکہ ان کی موت کے بعد یہ دونوں کتابیں اندلس پہنچیں۔ [سير أعلام النبلاء]

حافظ ابن حجر: حافظ ابن حجر تہذیب التہذیب میں کہتے ہیں: خلیلی نے ترمذی کو متفق علیہ ثقہ کہا ہے، لیکن ابن حزم نے اپنے بارے میں یہ اعلان کیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا اس لیے کہ انہوں نے کتاب الاتصال کے کتاب الفرائض میں محمد بن عیسیٰ ترمذی کو مجہول کہا، ہرگز کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ شاید ابن حزم نے ترمذی کو نہ جانا اور نہ ان کے حفظ اور ان کی تصانیف پر مطلع ہوئے، اس لیے کہ یہ حضرت مشاہیر ثقات حفاظ کی ایک جماعت کے بارے میں اس طرح کی عبارات استعمال کرتے ہیں، جیسے ابوالقاسم البغوی اسماعیل بن محمد الصفار اور ابوالعباس الاصم وغیرہ وغیرہ۔

تعجب یہ ہے کہ حافظ ابن الفرضی نے اپنی کتاب المؤتلف والمختلف میں ترمذی کا تذکرہ کیا، اور ان کی علمی منزلت کو واضح کیا، تو ابن حزم کیسے ان معلومات کی آگاہی سے چوک گئے۔ [تهذيب التهذيب]

واضح رہے کہ مشاہیر کے سلسلے میں اس طرح کی عدم واقفیت ابن حزم ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے، امام بیہقی کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے پاس سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نہیں تھیں، ہاں ان کے پاس حاکم کی مستدرک علی الصحیحین تھی، جس سے انہوں نے بکثرت احادیث روایت کی۔ [تذكرة الحفاظ، مقدمه تحفة الأحوذي 271/1]