شمائل ترمذي کل احادیث 417 :حدیث نمبر
سوانح حیات امام ترمذی رحمہ اللہ
عقیدہ:​
امام ترمذی کا عقیدہ:
اللہ رب العزت نے اپنے دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، اور مادی اسباب کی دنیا میں گروہ محدثین کو اس بات کی توفیق دی کہ وہ کتاب و سنت کی محبت سے سرشار ہو کر اس کی ممکن خدمت کریں، چنانچہ طلب علم سے لے کر تدوین حدیث کے مختلف مراحل تک کتاب و سنت کو صحیح سندوں کے ساتھ اور صحیح معانی و مفاہیم کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں اس گروہ کو نمایاں مقام حاصل ہے، اور آیت کریمہ: «إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون» کی عملی تفسیر ائمہ اسلام کی یہی جدوجہد ہے، جس کے نتیجے میں دینی نصوص صحیح سندوں اور سلف صالحین کی تعبیرات کے ساتھ محفوظ ہیں، امام ترمذی سلسلہ محدثین کی اہم کڑی ہیں، جنہوں نے حدیث کی حفاظت و تدوین کے ساتھ ساتھ جرح و تعدیل رواۃ پر بھی بڑا سرمایہ چھوڑا اور فہم حدیث کے سلسلہ میں بھی آپ کی کوششوں سے مسلک سلف ہم تک پہنچا، صحیح اسلامی عقائد کو بھی آپ نے امت تک پہنچایا، اسی وجہ سے سنن الترمذی کی افادیت کے ایک سے زیادہ پہلو کی ائمہ نے صراحت کی ہے۔

امام ترمذی عقائد کے باب میں بھی امام ہدیٰ تھے، اور اپنے شیوخ کے نقش قدم پر سنن ترمذی میں اسماء و صفات کے بارے میں اپنے پیش رو ائمہ کے اقوال و مذاہب کو جگہ دیتے ہیں، چنانچہ کتاب صفۃ الجنۃ میں باب «ما جاء فى خلود اهل الجنة واهل النار» کے تحت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت باری تعالیٰ سے متعلق حدیث روایت کر کے فرماتے ہیں: رویت باری سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری احادیث مروی ہیں، جس میں یہ ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے قدم کا ذکر ہے، اور اس طرح کے دوسرے مسائل کا ذکر ہے،

اس بارے میں اہل علم ائمہ جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، سفیان بن عیینہ، وکیع وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ ان حضرات نے صفات باری تعالیٰ سے متعلق احادیث کی روایت کی، پھر فرمایا: یہ احادیث روایت کی جائیں گی اور ان پر ایمان بھی لایا جائے گا، اور ان صفات کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کہ ان کی کیفیت اور حقیقت کیا ہے، یہ اہل حدیث کا اختیار کردہ مذہب ہے کہ احادیث جیسی آئی ہیں، ان کو ویسے ہی روایت کیا جائے گا اور ان پر ایمان لایا جائے گا، اور ان کی تفسیر نہ بیان کی جائے گی، اور نہ اس میں اپنے وہم و گمان سے بات کی جائے گی اور نہ یہی کہا جائے گا کہ ان کی کیفیت کیا ہے، ان صفات کے بارے میں اہل علم کا یہی مختار مذہب ہے۔ [سنن الترمذي 691/4]
تقریباً اسی طرح کی بات امام موصوف نے کتاب التفسیر کے باب تفسیر سورۃ المائدۃ میں لکھی ہے،
حدیث یہ ہے:
«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: يَمِينُ الرَّحْمَنِ مَلأَى سَحَّاءُ لاَ يُغِيضُهَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ قَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.»
«وَتَفْسِيرُ هَذِهِ الآيَةِ: *** وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ *** وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَتْهُ الأَئِمَّةُ نُؤْمِنُ بِهِ كَمَا جَاءَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفَسَّرَ أَوْ يُتَوَهَّمَ هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ مِنْهِمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ تُرْوَى هَذِهِ الأَشْيَاءُ وَيُؤْمَنُ بِهَا، وَلاَيُقَالُ كَيْفَ.»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، (کبھی خالی نہیں ہوتا) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے دیکھا (سوچا؟) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر چکا ہے؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے (جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

پھر فرماتے ہیں: یہ حدیث اس آیت «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ» اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، انہی کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ [المائده: 64] کی تفسیر ہے،

اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی کسی طرح کا وہم و قیاس لڑایا جائے گا۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام: سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ [سنن الترمذي: 3045]
↰ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ [ملاحظه هو: خ/تفسير هود 2، 4684، والتوحيد 19، 7411، و 22، 7419، م/الزكاة 11، 993]

امام ترمذی نے اس حدیث میں بھی ائمہ سلف کا صفات باری تعالیٰ کے بارے میں اجماعی عقیدہ نقل کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جن اسماء و صفات کا ذکر کیا ہے اس کی نہ تو بےجا تاویل کی جائے گی اور نہ ہی کوئی غلط تفسیر، یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ ایسا ایسا ہے بلکہ جیسی اس کی ذات ہے ایسے ہی اس کا ہاتھ بھی ہے، اس کی کیفیت بیان کئے بغیر اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

ایسے ہی کتاب صفۃ القیامۃ کے باب «في القيامه ميں عدي بن حاتم رضي الله عنه» کی حدیث: «ما منكم من رجل إلا سيكلمه ربه يوم القيامة وليس بينه وبينه ترجمان...» إلخ. تم میں سے ہر آدمی سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات کرے گا، اور اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی مترجم نہیں ہو گا۔

اس حدیث میں اللہ رب العزت کی صفت کلام کا ذکر ہے، اس کی روایت کے بعد امام ترمذی کہتے ہیں کہ ہم سے ابوالسائب نے بیان کیا کہ وکیع نے اعمش سے اس حدیث کی روایت کے بعد فرمایا: یہاں پر خراسان والوں میں سے جو موجود ہو اس کو اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے خراسان میں اس حدیث کو بیان کرنا چاہئے اس لیے کہ جہمیہ صفت کلام باری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں۔ [ 611/4]

صحیح سنت پر عمل کرنے، اس کے مطابق فتویٰ دینے، اس کی نشر و اشاعت کرنے، اور اس کے مخالف مسلک کے رد و ابطال میں یہ مثال بھی بےجا نہ ہو گی کہ امام ترمذی نے یہ حدیث ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں ہدی (قربانی) کے جانور کا اشعار کیا، یعنی ان کو زخمی کر کے یہ ظاہر کیا کہ یہ ہدی (قربانی کا جانور) ہے، اپنی سند سے اس حدیث کو امام وکیع سے روایت کرنے کے بعد ان کا یہ قول نقل کیا: اس مسئلہ میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو اس لیے کہ اشعار سنت ہے، اور ان کا قول بدعت ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابوالسائب کو یہ کہتے سنا کہ ہم وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے ایک آدمی سے جو رائے میں پڑتا تھا اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے جانور کا اشعار کیا، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ اشعار مثلہ ہے، تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی قول ہے کہ اشعار مثلہ ہے، تو میں نے دیکھا کہ امام وکیع سخت غصہ ہوئے، اور کہا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں، تم کتنا زیادہ اس بات کے حقدار ہو کہ تم کو جیل میں بند کر دیا جائے اور اس وقت تک تم کو وہاں سے نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ۔ [سنن الترمذي 241/3]

اسی طرح سے کتاب النکاح میں امام ترمذی نے باب «ماجاء فى المحل والمحلل له» میں اس موضوع پر علی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے دو حدیثیں روایت کیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے، اور ذکر کیا کہ صحابہ اور فقہائے تابعین اور دوسرے علمائے دین کا اس حدیث پر عمل رہا ہے، پھر کہا: میں نے جارود بن معاذ کو سنا کہ وکیع بھی یہی فتویٰ دیتے تھے، اور وکیع نے کہا: اس باب سے اہل رائے کے قول کو رد کر دینا چاہئے، اور وکیع سے روایت ہے کہ سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے (پہلے شوہر کے لیے) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔ [1119، 1120]

اس مثال میں واضح طور پر امام ترمذی نے جمہور ائمہ حدیث وائمہ فقہ کے مقابلے میں حدیث کے مخالف اہل رائے کا حلالہ کے بارے میں فتویٰ نقل کیا، اور اس پر وکیع اور سفیان ثوری کے قول کے ذریعے واضح طور پر تردید کی، اور یہ معلوم ہے کہ اصحاب رائے سے مراد امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نکاح حلالہ صحیح ہے گو حلال کرنے کی ہی نیت سے ہو۔ ان کی رائے کو چھوڑ دینا اس لیے مناسب ہے کہ ان کا یہ قول حدیث کے مخالف ہے۔

شروع ہی سے عقائد کے باب میں انحراف کی روش رکھنے والوں کی کج فکری اور اعتقادی گمراہیوں پر نقد و نظر ائمہ دین کے یہاں بہت معروف و مشہور بات ہے، بلکہ راہ اعتدال سے ہٹ جانے والے حضرات پر تنقید سلف صالحین کا شعار اور منہج رہا ہے، بالخصوص محدثین عظام نے یہ کام بڑی ذمہ داری سے انجام دیا، گمراہ فرقوں اور ان کے ائمہ اور ان کے مقالات و اعتقادات پر کھل کر تنقید کی، سلفی عقائد و اصول اور اتباع سنت کے مضامین کو خوب اچھی طرح سے بیان کیا۔

معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ وغیرہ، گمراہ فرقوں کے خلاف ائمہ حدیث کے مقدس گروہ نے شروع ہی سے جنگ چھیڑی، معتزلہ اور جہمیہ کے رد کے نام سے مستقل کتابیں لکھیں اور عقائد کی کتابوں میں ان گمراہ عقائد پر کھل کر تنقید کی، امام احمد بن حنبل تو مسئلہ خلق قرآن کے خلاف فتوے پر ڈٹے رہنے کی بنا پر امام اہل سنت و الجماعت کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے شاگرد رشید امام بخاری نے خلق أفعال العباد نامی مستقل رسالہ لکھا، اور صحیح بخاری میں کتاب العلم، کتاب الإیمان، کتاب التوحید والرد علی الجہمیہ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ وغیرہ وغیرہ کتب میں اتباع سنت اور عقیدہ سلف کی خوب خوب وضاحت کی،

امام احمد کے تلامذہ میں امام ابوداود نے اپنی سنن میں کتاب السنہ کے نام سے یہ خدمت انجام دی، امام ترمذی نے کتاب العلم، کتاب الإیمان، کتاب القدر اور کتاب صفۃ القیامۃ وغیرہ میں ان مسائل پر روشنی ڈالی،

اگر ائمہ حدیث کی عقائد سلف کی شرح و وضاحت اور منحرفین کے رد و ابطال سے متعلق کتب و رسائل کی محض فہرست ذکر کی جائے تو یہ مقدمہ طویل ہو جائے گا، میں نے امام وکیع بن الجراح کی کتاب الزہد کی تحقیق میں ائمہ دین کی ان کتابوں کا تذکرہ کیا ہے، اس باب میں علامہ عبدالسلام مبارک پوری کی کتاب سیرۃ البخاری کے ساتویں باب عقائد اور علم کلام کا مطالعہ مفید ہو گا۔

سلف صالحین کتاب وسنت کے صحیح دلائل کی روشنی میں عقیدہ کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کو سمجھتے، اور اس پر ایمان رکھتے، اس کی دعوت دیتے تھے، اور اس کے خلاف ہر رائے اور عقیدے کا رد و ابطال کرتے تھے، اور فلاسفہ اور متکلمین کی موشگافیوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، اس سلسلے میں امام مالک کے اقوال کافی مشہور ہیں، جن میں سے آپ کا یہ قول عقیدہ سلف کی نمائندگی واضح طور پر کرتا ہے: «الاستواء معلوم والكيف مجهول والإيمان به واجب والسؤال عنه بدعة.» یعنی اللہ رب العزت نے قرآن میں جو اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے، تو استواء کا معنی و مفہوم معلوم و مشہور بات ہے، لیکن یہ استواء کیسے ہو گا، اس کی کیفیت کا علم نہیں ہے، اور اس پر ایمان لانا واجب اور فرض ہے، اور اس سلسلے میں سوال و جواب کرنا بدعت ہے۔

امام مالک نے یہ بات اس وقت کہی جب ایک آدمی نے آپ سے اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، اسی طرح سے امام بخاری کو خلق قرآن کے مسئلہ پر نیساپور میں جب کچھ کہنے کے لیے مجبور کیا گیا تو آپ نے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: «القرآن كلام الله غير مخلوق وأفعال العباد مخلوقة والامتحان بدعة.» یعنی قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، اور بندوں کے افعال مخلوق ہیں، یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اور اس مسئلے پر کسی کو امتحان میں ڈالنا اور اس سے پوچھ گچھ کرنا بدعت ہے۔ [مقدمة فتح الباري: 490]

سلف کا منہج عقائد کے بارے میں یہ تھا کہ وہ علم کلام کے مسائل میں زیادہ غور و خوض کو سخت ناپسند کرتے تھے، اور ان مسائل میں سوال جواب کو بدعت کہتے تھے، امام احمد بن حنبل اس باب میں بہت سخت موقف رکھتے تھے، چنانچہ خلق قرآن کے مسئلے میں کتاب وسنت کے علاوہ اور کسی بات کے سننے کے قائل نہ تھے، احادیث رسول سے اس مسلک کی تقویت ہوتی ہے۔

چنانچہ خود امام ترمذی نے «كِتَاب الْقَدَرِ، بَاب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي الْخَوْضِ فِي الْقَدَرِ:» ‏‏‏‏ میں نیز امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں یہ حدیث نقل کی ہے:
«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ، فَقَالَ: أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الأَمْرِ، عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تَتَنَازَعُوا فِيهِ»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ بے شک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث ومباحثہ نہ کرو۔

تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کا ظہور اللہ کے قضاء و قدر اور اس کے ارادے و مشیئت پر ہے، اور اس کا علم اللہ کو پوری طرح ہے، لیکن ان امور کا صدور خود بندے کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اچھے اعمال کو پسند کرتا ہے، اور برے اعمال کو ناپسند کرتا ہے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر جزا و سزا دیتا ہے، تقدیر کے مسئلہ میں عقل سے غور و خوض اور بحث و مباحثہ جائز نہیں، کیوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گمراہی کا خطرہ ہے۔

اوپر کی گزارشات سے یہ واضح ہو گیا کہ سلف صالحین کے نزدیک باطل عقائد کا رد و ابطال کتاب وسنت کے دلائل اور سلف کے اقوال سے ہوتا ہے، اور یہی صحیح علم کلام ہے، صحابہ کرام کے زمانے میں خوارج، قدریہ اور روافض جیسے فرقوں کا فتنہ موجود تھا، خود صحابہ کرام نے تمام مسائل پر کتاب وسنت کی روشنی میں کلام کیا، اور محدثین نے اسی اسلوب کو آگے بڑھا کر ہر طرح کے منحرف فرقوں اور ان کے آراء و اقوال کا رد و ابطال کیا، ساتھ ہی غیر سلفی منہج و فکر پر مبنی علم کلام اور اس سے تعلق رکھنے والوں سے خود دور رہنے اور دوسروں کو ان سے دور رہنے کی تلقین اور وصیت فرمائی تاکہ نہ خود ان کے میل جول سے متاثر ہوں اور نہ ہی وہ اس تعلق کے ذریعے افراد امت کو گمراہ کر سکیں۔