🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب فضل صلة اصدقاء الاب والام ونحوهما:
باب: ماں باپ کے دوستوں کے ساتھ سلوک کر نے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2552 ترقیم شاملہ: -- 6513
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً، كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ، وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ ".
ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدوی شخص ملا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ ابن دینار نے کہا: ہم نے ان سے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ تو حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کا والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: والدین کے ساتھ بہترین سلوک ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6513]
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی انہیں مکہ کے راستے میں ملا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے سلام کہا، وہ ایک گدھے پر سوار تھے، انہوں نے وہ اسے سواری کے لیے دے دیا اور اسے اپنے سر والی پگڑی عنایت کی، ابن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے حالات درست رکھے، یہ جنگلی لوگ ہیں اور یہ لوگ معمولی چیز پر بھی خوش ہو جاتے ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اس کا باپ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: سب سے بڑی وفاداری اور نیکی یہ ہے کہ اولاد اپنے باپ سے محبت کرنے والوں سے تعلق رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6513]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2552 ترقیم شاملہ: -- 6514
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ ".
حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کے ساتھ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ انسان اس شخص سے بھی بہت اچھا سلوک کرے جس کے ساتھ اس کے والد کا محبت کا رشتہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6514]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا ایفائے عہد یا حقوق کی ادائیگی، آدمی کا اپنے باپ سے محبت کرنے والوں سے تعلق رکھنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6514]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2552 ترقیم شاملہ: -- 6515
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ، وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ؟ قَالَ: بَلَى، فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ، وَقَالَ: ارْكَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ، قَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا، كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ "، وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ.
ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد دونوں نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے تو جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو ان کا گدھا (ساتھ ہوتا) تھا جس پر وہ سہولت کے لیے سواری کرتے۔ اور ایک عمامہ (ہوتا) تھا جو اپنے سر پر باندھتے تھے۔ تو ایسا ہوا کہ ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ ایک بادیہ نشیں ان کے قریب سے گزرا، انہوں نے اس سے کہا: تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں (اسی کا بیٹا ہوں) تو انہوں نے گدھا اس کو دے دیا اور کہا: اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ (بھی) اسے دے کر کہا: اسے سر پر باندھ لو۔ تو ان کے کسی ساتھی نے ان سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ نے اس بدو کو وہ گدھا بھی دے دیا جس پر آپ سہولت (تکان اتارنے) کے لیے سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ (بھی) ہے کہ جب اس کا والد رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والے آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اس کا والد (میرے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6515]
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا، جب وہ اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو اس پر سوار ہو کر آرام حاصل کرتے اور ایک پگڑی تھی جسے اپنے سر پر باندھتے تھے، ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ اس دوران ان کے پاس سے ایک بدوی گزرا، چنانچہ انہوں نے پوچھا: کیا تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے اسے اپنا گدھا دے دیا اور فرمایا: اس پر سوار ہو جا، اور پگڑی دی کہ اسے اپنے سر پر باندھ لو، تو انہیں ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے اس بدو کو وہ گدھا دے دیا ہے جس پر آپ راحت حاصل کرتے تھے اور وہ پگڑی عنایت فرما دی ہے جسے اپنے سر پر باندھتے تھے، تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: حسن سلوک کی ایک اعلیٰ قسم یہ ہے کہ باپ کے انتقال کے بعد انسان اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ (احترام و تکریم) کا تعلق رکھے۔ اور اس کا باپ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں