🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب النهى عن الرواية عن الضعفاء والاحتياط في تحملها
باب: ضعیف راویوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت لینے میں احتیاط برتنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 16
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال: حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ، بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ".
حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی، ابن وہب، شراحیل بن یزید کہتے ہیں: مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں (ایسے) دجال (فریب کار) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے۔ تم ان سے دور رہنا (کہیں) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 16]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں دجال (ملمع ساز، جھوٹ کو سچ بنانے والے) اور جھوٹے لوگ تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے (پیش کریں گے) جو نہ تم نے سنی ہوں گی، اور نہ تمہارے باپ دادا نے، چنانچہ تم اپنے آپ کو ان سے بچانا، (ان سے دور رہنا) کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور دین سے برگشتہ نہ کر دیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 16]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (4612) انظر ((جامع الاصول)) برقم (8193)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 17
وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبَدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ، فَيَتَفَرَّقُونَ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا، أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِى مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ
ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، مسیب بن رافع، عامر بن عبدہ سے روایت ہے، کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلاشبہ شیطان کسی آدمی کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹ (پر مبنی) کوئی حدیث سناتا ہے، پھر وہ بکھر جاتے ہیں، ان میں سے کوئی آدمی کہتا ہے: میں نے ایک آدمی سے (حدیث) سنی ہے، میں اس کا چہرہ تو پہچانتا ہوں پر اس کا نام نہیں جانتا، وہ حدیث سنا رہا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 17]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان آدمی کی صورت و شکل اپنا کر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹی باتیں سناتا ہے، چنانچہ وہ لوگ بکھر جاتے ہیں، تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے ایک آدمی سے (یہ یہ سنا ہے) میں اس کا چہرہ (شکل و صورت سے) پہچانتا ہوں اور مجھے اس کے نام کا پتا نہیں ہے، وہ بیان کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 17]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (9326) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (8194)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 18
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: سمندر (کی تہ) میں بہت سے شیطان قید ہیں جنہیں حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا، وقت آ رہا ہے کہ وہ نکلیں گے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 18]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سمندر میں بہت سے شیاطین قید ہیں، جنہیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے باندھا تھا، قریب ہے وہ نکلیں اور لوگوں کو قرآن سنائیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 18]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (8831) وهو في ((جامع الاصول)) برقم (8195)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 19
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ هَذَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي بُشَيْرَ بْنَ كَعْبٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ:" عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا، فَعَادَ لَهُ، ثُمَّ حَدَّثَهُ، فَقَالَ لَهُ: عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا، فَعَادَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا أَدْرِى، أَعَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا، أَمْ أَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَعَرَفْتَ هَذَا؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ، تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ
محمد بن عباد، سعید بن عمر، اشعثیٰ، ابن عیینہ، سعید، سفیان، ہشام بن جحیر نے طاؤس سے روایت کی، کہا: یہ (ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے کہا: فلاں فلاں حدیث دہراؤ۔ اس نے دہرا دیں، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں۔ انہوں نے اس سے کہا: فلاں حدیث دوبارہ سناؤ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں، پھر آپ سے عرض کی: میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری (بیان کی ہوئی) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب لوگ (ہر) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے (بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے) تو ہم نے (براہ راست) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 19]
امام طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بشیر بن کعب رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں حدیثیں سنانے لگا، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: فلاں فلاں حدیث دوبارہ سناؤ! اس نے انہیں دوبارہ سنا دیں۔ پھر اس نے ان سے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری تمام حدیثیں پہچان لی ہیں (ان کی تصدیق اور تائید کرتے ہیں) اور اس کا انکار کیا ہے (منکر ہونے کی وجہ سے دوبارہ سنا ہے)، یا میری تمام احادیث کو آپ نے منکر سمجھا ہے اور اس کو پہچان لیا ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا جاتا تھا، تو ہم (بلا جھجک اور بلا خوف خطر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتے تھے، لیکن جب لوگوں نے ہر قسم کے دشوار گزار اور پامال شدہ اور چلے ہوئے راستے پر چلنا شروع کر دیا (صحیح اور ضعیف کو بیان کرنا شروع کر دیا) تو ہم نے آپ سے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا۔ (یعنی صرف وہی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی صحت کا ہمیں علم ہے اور وہی حدیثیں سنتے ہیں جن سے ہم آگاہ ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 19]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5759)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 20
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا" كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذْ رَكِبْتُمْ كُلَّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ، فَهَيْهَاتَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن طاؤس، طاؤس کے بیٹے نے اپنے والد (طاؤس) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مروی) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے (بغیر تمیز کے) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ (معاملہ) دور ہو گیا (یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں، پھر یاد رکھیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 20]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم احادیث یاد کیا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد ہی کرنا چاہیے، چنانچہ جب تم نے ہر اناڑی اور رام (رطب و یابس) کو قبول کر لیا، تو تم راہِ راست سے دور ہٹ گئے (تمہاری احادیث پر ہمیں اعتماد نہیں رہا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 20]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، وأخرجه ابن ماجه في ((المقدمة)) باب: التوقي في الحديث عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (27) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (5717)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 21
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ.فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي، أُحَدِّثُكَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما (نے یہ رویہ رکھا کہ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ کہنے لگا: اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا (معاملہ) ہے، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری (بیان کردہ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے، پھر جب لوگوں نے (بلا تمیز) ہر مشکل اور آسان پر سواری (شروع) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس (حدیث) کے جسے ہم جانتے تھے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 21]
امام مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، بشیر عَدَوی رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیثیں بیان کرتے ہوئے: «قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، «قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہنے لگے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی احادیث پر کان نہ دھرا اور نہ ان کی طرف توجہ کی تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا وجہ ہے کہ آپ میری احادیث سنتے ہی نہیں ہیں، جب کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کبھی یہ تھا، جب ہم کسی آدمی کو یہ کہتے سنتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو ہماری آنکھیں اس کی طرف لپکتیں (فوراً اس کی طرف اٹھتیں)، اور ہم اس کی باتوں پر کان لگاتے، مگر جب لوگوں نے دشوار اور نرم (ضعیف اور صحیح) ہر راستہ پر چلنا شروع کر دیا، تو ہم لوگوں سے وہ حدیث لیتے ہیں جس کو ہم پہچانتے ہیں، جن کی صحت کا ہمیں علم ہے، یا جن کو ہم صحیح خیال کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 21]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (6419)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 22
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ، أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابًا وَيُخْفِي عَنِّى، فَقَالَ:" وَلَدٌ نَاصِحٌ، أَنَا أَخْتَارُ لَهُ الأُمُورَ اخْتِيَارًا، وَأُخْفِى عَنْهُ، قَال: فَدَعَا بِقَضَاءِ عَلِيٍّ، فَجَعَلَ يَكْتُبُ مِنْهُ أَشْيَاءَ وَيَمُرُّ بِهِ الشَّيْءُ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا قَضَى بِهَذَا عَلِيٌّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ ضَلَّ
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور (جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ) باتیں مجھ سے چھپا لیں۔ انہوں نے فرمایا: لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے، میں اس کے لیے (حدیث سے متعلق) تمام معاملات میں (صحیح کا) انتخاب کروں گا اور (موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو) ہٹا دوں گا (کہا: انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے منگوائے) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور (یہ ہوا کہ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے: بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا، سوائے اس کے کہ (خدانخواستہ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں (جب کہ ایسا نہیں ہوا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 22]
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر درخواست کی کہ آپ مجھے ایک نوشتہ (تحریر) لکھ دیں، اور مجھ سے مشکل حدیث (جو بد فہمی اور غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہو) چھپائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خیر خواہ اور مخلص بچہ ہے، میں اس کے لیے چند باتوں کا اچھی طرح انتخاب کروں گا اور اس سے مشکل چیزوں کو پوشیدہ رکھوں گا۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ جات کو منگوایا اور ان سے کچھ باتیں (منتخب باتیں لکھواتے) یعنی فیصلہ جات لکھوائے گئے، اور بعض فیصلوں کو سامنے آنے پر کہتے: «وَاللّٰهِ!» اللہ کی قسم! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ نہیں کیا الا یہ کہ وہ راہِ راست سے بھٹک گئے ہوں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 22]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5806)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 23
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ:" أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِكِتَابٍ، فِيهِ قَضَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ
عمر وناقد، سفیان بن عیینہ، ہشام، بن حجیر، طاؤس سے روایت ہے، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے (لکھے ہوئے) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی (سب کچھ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ (جتنی لمبائی) کا اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 23]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک تحریر یا کتاب لائی گئی، جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے تھے، انہوں نے اس ساری تحریر کو مٹا ڈالا، مگر اتنا حصہ (سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے اپنے بازو سے اشارہ کیا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 23]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5760)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 24
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق، قَالَ: لَمَّا أَحْدَثُوا تِلْكَ الأَشْيَاءَ، بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ: قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، أَيَّ عِلْمٍ أَفْسَدُوا؟
حسن بن علی حلوانی، یحییٰ بن آدم، ابن ادریس، اعمش، ابواسحاق سے روایت ہے، کہا: جب (بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے) لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد (ان کے نام پر) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ ان (لوگوں) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا (عظیم الشان) علم بگاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 24]
ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب ان لوگوں (روافض) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد یہ اشیاء ایجاد کر لیں (ان کی باتوں میں اپنی طرف سے غلط اور باطل چیزیں ملا دیں) تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ ان لوگوں کو تباہ و برباد کرے! اپنی رحمت سے محروم کرے، انہوں نے کتنا عظیم علم برباد کر ڈالا۔ یعنی صحیح اور عمدہ باتوں میں غلط اور باطل کی آمیزش کر کے لوگوں کو صحیح چیزوں سے بھی محروم کر ڈالا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 24]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19617)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 25
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِى ابْنَ عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ يَصْدُقُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي الْحَدِيثِ عَنْهُ، إِلَّا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
علی بن خشرم، ابوبکر بن عیاش نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے مغیرہ سے سنا، فرماتے تھے: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی، سوائے اس کے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 25]
امام مغیرہ رحمہ اللہ کہتے تھے: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صحیح باتیں صرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہی بیان کرتے تھے، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو لوگ روایت کرتے ہیں، ان کی وہی روایت مانی جاتی جس کی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد تصدیق کرتے۔ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی وہی باتیں قابل قبول ہیں، جن کی تصدیق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کریں، کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صحیح باتیں نقل کرتے ہیں، ان میں اپنی طرف سے آمیزش نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 25]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19450)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 26
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَال: وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ
حسن بن ربیع، حماد بن زید، ایوب، ہشام، محمد، ح، فضیل، ہشام، مخلد بن حسین، ہشام، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، یہ علم، دین ہے، اس لیے (اچھی طرح) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 26]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ علم (علم حدیث) دین ہے، لہٰذا سوچ لو تم کن سے اپنا دین لیتے ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 26]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19292)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 27
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَل، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ، فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ، فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی، کہا: (ابتدائی دور میں عالمان حدیث) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا: ہمارے سامنے اپنے رجال (حدیث) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 27]
ابن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ تابعین سند کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، تو جب فتنہ پیدا ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اپنے «رِجَالَكُمْ» (راویوں) کے نام بتاؤ! تو «أَهْلِ السُّنَّةِ» (اہلِ سنت) راویوں کی روایت ان کو جان کر قبول کر لی جاتی ہے، «أَهْلِ الْبِدْعَةِ» (اہلِ بدعت) کی پہچان کر ان کی روایت قبول نہ کی جاتی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 27]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19294)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 28
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: لَقِيتُ طَاوُسًا، فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ
اوزاعی نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں طاؤس رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ایک شخص نے اس اس طرح حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: اگر تمہارے صاحب (استاد) پوری طرح قابل اعتماد ہیں تو ان سے اخذ کر لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 28]
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ سے ملے اور ان سے کہا کہ فلاں نے فلاں فلاں حدیث سنائی ہے، طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اگر تیرا استاد ثقہ، قابلِ اعتماد ہے تو اس سے لے لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 28]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18826)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 29
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ
سعید بن عبدالعزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے طاؤس رضی اللہ عنہ سے عرض کی: فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھرپور ہیں تو ان سے اخذ کر لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 29]
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ فلاں نے فلاں فلاں حدیث سنائی ہے، تو طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اگر تمہارا استاد علم و معرفت اور دین سے لبریز ہے تو ان کی روایت لے لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 29]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18826)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 30
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الأَصْمَعِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَدْرَكْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً، كُلُّهُمْ مَأْمُونٌ، مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمُ الْحَدِيثُ، يُقَالُ: لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ
(عبدالرحمن) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ میں سو (اہل علم) سے ملا جو (دین میں تو) محفوظ و مامون تھے (لیکن) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں، کہا جاتا تھا یہ اس (علم) کے اہل نہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 30]
امام ابو زناد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میری مدینہ میں ایک سو راویوں سے ملاقات ہوئی، سب کے سب دین دار تھے، لیکن ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی، کہا جاتا تھا: وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 30]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18899)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 31
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ.ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: لَا يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا الثِّقَاتُ
مسعر سے روایت ہے، کہا: میں نے سعد بن ابراہیم (بن عبدالرحمن بن عوف) سے سنا، کہہ رہے تھے: ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان نہ کرے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 31]
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ثقہ راویوں کو روایت بیان کرنا چاہیے۔ یعنی صرف ثقہ راویوں کی روایت ہی قبول کی جا سکتی ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 31]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18673)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 32
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذ َ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الإِسْنَادُ، لَقَالَ: مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ يَعْنِي الإِسْنَاد وقَال مُحَمَّدٌ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَى الطَّالَقَانِيَّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَك: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ، إِنَّ مِنَ الْبِرِّ، بَعْدَ الْبِرِّ، أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْكَ مَعَ صَلَاتِكَ، وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِكَ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَبَا إِسْحَاق، عَمَّنْ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاق، إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ، تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ
محمد بن عبداللہ بن قہزاد نے (جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں) کہا: میں نے عبدان بن عثمان سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اسناد (سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا) دین میں سے ہے۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا، کہہ دیتا۔ (امام مسلم رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور محمد بن عبداللہ نے کہا: مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ (بن مبارک) کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور لوگوں کے درمیان (فیصلہ کن چیز، بیان کی جانے والی خبروں کے) پاؤں، یعنی سندیں ہیں (جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں)۔ ابواسحاق نے (جن کا نام ابراہیم بن عیسیٰ طاتقانی ہے) کہا: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ حدیث کیسی ہے جو روایت کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو نماز پڑھے اپنے ماں باپ کے لیے اپنی نماز کے بعد اور روزہ رکھے ان کے لیے اپنے روزے کے ساتھ۔ انہوں نے کہا: اے ابواسحاق! یہ حدیث کون روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: شہاب بن خراش۔ انہوں نے کہا: وہ تو ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن دینار سے۔ انہوں نے کہا وہ بھی ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا۔ عبداللہ نے کہا: اے ابواسحاق! ابھی تو حجاج سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اتنے بڑے بڑے جنگل باقی ہیں کہ ان کے طے کرنے کے لیے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں البتہ صدقہ دینے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ عبداللہ بن مبارک لوگوں کے سامنے کہتے تھے چھوڑ دو روایت کرنا عمرو بن ثابت سے کیوں کہ وہ برا کہتا تھا اگلے بزرگوں کو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 32]
حضرت امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے تھے: اسناد دین کا حصہ ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو جو انسان جو کچھ چاہتا کہہ دیتا۔ اور فرماتے تھے: ہمارے اور لوگوں (راویوں) کے درمیان «الْقَوَائِمُ» (پاؤں یا ستون) ہیں۔ ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ طالقانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! یہ حدیث کیسی ہے؟ یہ نیکی در نیکی ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو، اور اپنے روزوں کے ساتھ ان دونوں کے لیے روزے رکھو۔ تو امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے پوچھا: اے ابو اسحاق! یہ حدیث کون بیان کرتا ہے؟ میں نے انہیں کہا: یہ شہاب بن خراش رحمہ اللہ کی حدیث ہے۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ (قابل اعتماد) راوی ہے، وہ کس سے بیان کرتا ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن دینار رحمہ اللہ سے۔ انہوں نے کہا: وہ بھی قابل اعتماد ہے، اس نے یہ حدیث کس سے بیان کی ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو اسحاق! حجاج بن دینار رحمہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اتنے بڑے بیاباں (صحرا) ہیں، جن میں سواریوں کی گردنیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر صدقہ کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سب لوگوں کے سامنے علی الاعلان فرماتے تھے: عمرو بن ثابت کی حدیث قبول نہ کرو، کیونکہ وہ سلف صالحین کو گالیاں دیتا اور برا بھلا کہتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 32]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18487 و 18923 و 18923 و 18924 و 18925)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 33
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ صَاحِبُ بُهَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، فَقَالَ يَحْيَى لِلْقَاسِمِ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّهُ قَبِيحٌ عَلَى مِثْلِكَ عَظِيمٌ، أَنْ تُسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذَا الدِّينِ، فَلَا يُوجَدَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، وَلَا فَرَجٌ أَوْ عِلْمٌ، وَلَا مَخْرَجٌ، فَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ: وَعَمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّكَ ابْنُ إِمَامَيْ هُدًى ابْنُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَر قَالَ: يَقُولُ لَهُ الْقَاسِمُ: أَقْبَحُ مِنْ ذَاكَ عِنْدَ مَنْ عَقَلَ، عَنِ اللَّهِ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ آخُذَ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ، قَالَ: فَسَكَتَ فَمَا أَجَابَهُ
ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل (یحییٰ بن متوکل) نے حدیث بیان کی، کہا: میں قاسم بن عبیداللہ (بن عبداللہ بن عمر جن کی والدہ ام عبداللہ بنت قاسم بن محمد بن ابوبکر تھیں) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبیداللہ سے کہا: جناب ابومحمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں (کچھ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا (یہ الفاظ کہے) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ۔ تو قاسم نے ان سے کہا: کس وجہ سے؟ (یحییٰ نے) کہا: کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فرزند ہیں۔ کہا: قاسم اس سے کہنے لگے: جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو، اس کے نزدیک اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو۔ (یہ سن کر یحییٰ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 33]
ابو عقیل رحمہ اللہ، جو بہیہ نامی عورت کے شاگرد ہیں، بیان کرتے ہیں کہ میں قاسم بن عبید اللہ رحمہ اللہ اور یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو یحییٰ رحمہ اللہ نے قاسم رحمہ اللہ سے کہا: اے ابو محمد! آپ جیسے بلند شان انسان کے لیے انتہائی بری بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی مسئلہ (معاملہ) کے بارے میں دریافت کیا جائے اور آپ کے پاس اس کے بارے میں معلومات موجود نہ ہوں، اور آپ اس کو حل نہ کر سکیں، یا اس کے بارے میں علم اور نکلنے کی راہ نہ ہو۔ قاسم رحمہ اللہ نے یحییٰ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیوں؟ انہوں نے کہا: کیونکہ آپ ہدایت و رہنمائی کے دو ائمہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں۔ قاسم رحمہ اللہ جواب دیتے ہیں: جو اللہ کے دین کی عقل و دانش رکھتا ہے، اس کے نزدیک اس سے زیادہ قبیح اور بری بات یہ ہے کہ میں بلا سند و حجت (بلا علم) بات کہوں (جواب دوں) یا غیر ثقہ ناقابل اعتبار آدمی سے روایت لوں۔ تو یحییٰ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے اور کچھ جواب نہ دے سکے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 33]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18487 و 18924 و 18925)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 34
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أَخْبَرُونِي، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ، أَنَّ أَبْنَاءً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، سَأَلُوهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُكَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيِ الْهُدَى يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ، تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ، وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ أُخْبِرَ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ، قَالَ: وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حِينَ قَالَا ذَلِك
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل سے (سن کر) روایت کی کہ (کچھ) لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا: میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے (جبکہ آپ ہدایت کے دو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، کوئی بات پوچھی جائے (اور) اس کے بارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا: بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں۔ (سفیان نے) کہا: ابوعقیل یحییٰ بن متوکل (بھی) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 34]
بہیہ نامی عورت کے شاگرد اور غلام ابو عقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے (پوتے) سے ایک ایسا مسئلہ دریافت کیا جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے تھے، تو انہیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو انتہائی ناگوار سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے مرتبہ کے مالک، جو ہدایت کے دو راہنماؤں یعنی عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور وہ اس کے بارے میں علم نہ رکھتے ہوں۔ تو انہوں نے جواب دیا: اس سے زیادہ ناگوار اور گراں اللہ کے ہاں اور ان لوگوں کے ہاں جو اللہ کے بارے میں عقل و شعور رکھتے ہیں، اللہ کی قسم! یہ بات ہے کہ میں علم (دلیل و سند) کے بغیر بات کہہ دوں (رائے پیش کر دوں) یا ناقابل اعتبار روایت پیش کر دوں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں (یحییٰ رحمہ اللہ اور قاسم رحمہ اللہ) کی گفتگو کے وقت ابو عقیل یحییٰ بن متوکّل رحمہ اللہ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 34]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19201 و 19533)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 35
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَشُعْبَةَ، وَمَالِكًا، وَابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنِ الرَّجُلِ، لَا يَكُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ، فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالُوا: أَخْبِرْ عَنْهُ، أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ
یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سفیان ثوری، شعبہ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پوری طرح قابل اعتماد (ثقہ) نہ ہو، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا: اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 35]
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ اور ابن عیینہ رحمہ اللہ (ائمہ دین اور ائمہ جرح و تعدیل) سے پوچھا: ایک آدمی حدیث میں معتبر اور ثقہ نہیں ہے، کوئی دوسرا آدمی میرے پاس آتا ہے اور اس کے بارے میں دریافت کرتا ہے (کہ یہ ثقہ اور معتبر ہے یا نہیں؟) سب نے کہا: اس کے بارے میں بتا دو کہ یہ ثقہ اور معتبر نہیں ہے۔ (کیونکہ اگر اس کی اصلیت اور حقیقت سے آگاہ نہیں کیا جائے گا، تو لوگ اس پر اعتماد کر کے اس کی غلط اور ضعیف روایات کو مان لیں گے اور وہ دین بن جائیں گی)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 35]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18762 و 18775 و 18803 و 19248)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 36
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، فَقَالَ: إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، قَالَ مٌسْلِمٌ: رَحِمَهُ اللَّهُ، يَقُولُ: أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَكَلَّمُوا فِيهِ
نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر (بن حوشب) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا، (اس وقت) وہ (اپنی) دہلیز پر کھڑے تھے، وہ کہنے لگے: انہوں (محدثین) نے یقیناً شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا، ان کے بارے میں باتیں کیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 36]
نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں، ابن عون رحمہ اللہ سے جب کہ وہ دروازے کی دہلیز پر کھڑے تھے شہر (راوی کا نام ہے) کی حدیثوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: شہر بن حوشب پر محدثین رحمہم اللہ نے جرح کی ہے، شہر پر لوگوں نے طعن کیا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا مقصد ہے، لوگوں کی زبانوں نے اس پر گرفت کی ہے، اس کو جرح اور نقد کا نشانہ بنایا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 36]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الاستئذان، باب ماجاء في التسليم علي النساء بعد حديث (2697) انظر ((التحفة)) (18921)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 37
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: قَال شُعْبَةُ: وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا، فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
ہمیں شبابہ نے بتایا، کہا: شعبہ نے کہا: میں شہر سے ملا لیکن (روایت حدیث کے حوالے سے) میں نے انہیں اہمیت نہ دی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 37]
امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شہر سے ملاقات کی، تو میں نے اسے قابل اعتماد نہیں سمجھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 37]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18804)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 38
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ، وَإِذَا حَدَّثَ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ؟ قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ، وَأَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ، فَقَالَ: هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے عرض کی: بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں: اس سے (حدیث) نہ لو؟ سفیان کہنے لگے: کیوں نہیں! عبداللہ نے کہا: پھر یہ (میرا معمول) ہو گیا کہ جب میں کسی (علمی) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور (ساتھ یہ بھی) کہتا: اس سے (حدیث) نہ لو۔ ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے کہا: عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے (بھی) کہا: یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے (حدیث بیان کرنے میں) احتیاط کرو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 38]
امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: عباد بن کثیر کے حالات سے تو آپ آگاہ ہیں، وہ جب حدیث بیان کرتا ہے تو انتہائی ناگوار یا سنگین حرکت کرتا ہے (غلط اور موضوع روایات بیان کرتا ہے)؛ تو آپ کا کیا خیال ہے، میں لوگوں کو کہہ دوں کہ اس سے روایت نہ لو؟ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہا: ضرور کہو۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میں کسی ایسی مجلس میں ہوتا جس میں عباد کا تذکرہ ہوتا تو میں اس کی دیانت و امانت اور زہد و تقویٰ کی تعریف کرتا اور کہہ دیتا: اس سے روایت نہ لو۔ (کیونکہ روایت بیان کرنے میں قابل اعتماد نہیں، کمزور اور موضوع روایات بیان کر دیتا ہے)؛ یہ بات دوسری سند سے بیان کی گئی ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں شعبہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: یہ عباد بن کثیر ہے، اس سے بچ کر رہو۔ (اس سے روایت نہ لو)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 38]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18763 و 18805 و 18926)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 39
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُعَلًّى الرَّازِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَبَّادٌ، فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ: كُنْتُ عَلَى بَابِهِ، وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَذَّابٌ
فضل بن سہل نے بتایا، کہا: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا، کہا: میں اس کے دروازے پر تھا، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان (سفیان) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذّاب ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 39]
فضل بن سہیل بیان کرتے ہیں: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں پوچھا، جس سے عباد بن کثیر روایت بیان کرتا ہے، تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس سے نقل کیا۔ میں اس کے دروازے پر تھا اور سفیان اس کے پاس حاضر تھے، جب وہ نکلے تو میں نے ان سے (سفیان سے) اس (محمد بن سعید) کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: وہ جھوٹا ہے۔ (مولانا عبدالسلام بستوی نے اس سے مراد عباد بن کثیر لیا ہے، کہ وہ جھوٹا ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 39]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18764)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 40
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ: لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِم: يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ
محمد بن ابی عتاب نے کہا: مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہم نے نیک لوگوں (صوفیا) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا۔ ابن ابی عتاب نے کہا: میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس (بات کے) بارے میں پوچھا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا: تم اہل خیر (زہد و ورع والوں) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا: ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 40]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے بعض نیک لوگوں کو حدیث میں سب باتوں سے زیادہ جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔ ابن ابی عتاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کے بیٹے محمد رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے اس قول کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا: ہم نے اہل خیر کو کسی چیز میں حدیث سے زیادہ جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ یعنی: جتنا جھوٹ وہ حدیثوں کے بیان میں بولتے ہیں اتنا جھوٹ عام گفتگو میں نہیں بولتے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا مقصد یہ ہے کہ جھوٹ ان کی زبانوں پر جاری ہو جاتا ہے (کیونکہ وہ بلا تحقیق اور تنقیح ہر ایک پر اعتماد کر لیتے ہیں) وہ قصداً (جان بوجھ کر) جھوٹ نہیں بولتے (کیونکہ عمداً جھوٹ بولنے والا صالح یا اہل خیر نہیں ہو سکتا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 40]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19527)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 41
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ، فَقَامَ، فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ، فَإِذَا فِيهَا، حَدَّثَنِي أَبَانٌ، عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانٌ، عَنْ فُلَانٍ، فَتَرَكْتُهُ، وَقُمْتُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ، حَدِيثُ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز، قَالَ هِشَامٌ: حَدَّثَنِي جُلٌ، يُقَالُ لَهُ: يَحْيَي بْنُ فُلَانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ، كَانَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي، عَنْ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: میں غالب بن عبیداللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا: مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا، میں نے (جو) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا: مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ (امام مسلم نے کہا:) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عفان کی کتاب میں ابومقدام ہشام کی (وہ) روایت دیکھی (جو عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ہے) (اس میں تھا:) ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا، محمد بن کعب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عفان سے کہا: (اہل علم) کہتے ہیں: ہشام نے یہ (حدیث) محمد بن کعب سے سنی تھی۔ تو وہ کہنے لگے: وہ (ہشام) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے۔ (پہلے) وہ کہا کرتے تھے: مجھے یحییٰ نے محمد (بن کعب) سے روایت کی، بعدازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ (حدیث براہ راست) محمد سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 41]
خلیفہ بن موسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں غالب بن عبیداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ مجھے حدیثیں املا کرانے (لکھوانے) لگے کہ مجھے مکحول رحمہ اللہ نے بتایا، تو انہیں پیشاب آ گیا جس سے وہ اٹھ کھڑے ہوئے، سو میں نے ان کی کاپی (کاغذات) پر نظر دوڑائی تو اس میں لکھا تھا: مجھے ابان رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور ابان سے فلاں نے روایت کی، تو میں انہیں چھوڑ کر چلا آیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 41]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18616 و 19098)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 42
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَوْمُ الْفِطْرِ، يَوْمُ الْجَوَائِزِ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ: انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ، قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ: وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْكُرُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ، قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي، أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ، كُرْهَ حَدِيثِه.
مجھے محمد بن عبداللہ قہزاذ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: یہ کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔ روایت کی؟ کہا: سلیمان بن حجاج، ان میں سے جو (احادیث) تم نے اپنے پاس (لکھ) رکھی ہیں (یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں) ان میں (اچھی طرح) نظر کرنا (غور کر لینا)۔ ابن قہزاذ نے کہا: میں نے وہب بن زمعہ سے سنا، وہ سفیان بن عبدالملک سے روایت کر رہے تھے، کہا: عبداللہ، یعنی ابن مبارک نے کہا: میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 42]
عبداللہ بن عثمان بن جبلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ انسان کون ہے، جس سے آپ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔؟ انہوں نے کہا: وہ سلیمان بن حجاج ہے، دیکھو میں نے اس سے تیرے ہاتھ میں کیسی چیز رکھ دی ہے! (یعنی وہ ثقہ ہے، اور اس نے بہت عمدہ حدیث سنائی ہے۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 42]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18927 و 18928)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 43
حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا، يَقُولُ: عَنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَكِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ
ابن قہزاذ نے کہا، میں نے وہب سے سنا، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے روایت کی، کہا: بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے (علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص) سے حدیث لے لیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 43]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ابن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: بقیہ بذات خود زبان کا سچا ہے، لیکن وہ ہر آنے جانے والے سے روایات لے لیتا ہے (یعنی: وہ ہر ثقہ اور ضعیف سے روایت بیان کرتا ہے، جانچ پڑتال اور امتیاز کی قوت سے محروم ہے، اس لیے محدثین اس کی روایت قبول نہیں کرتے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 43]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18929)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 44
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَكَانَ كَذَّابًا،
قتیبہ بن سعید، جریر نے مغیرہ سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذّاب تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 44]
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 44]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 45
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ،
ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری، ابواسامہ، مفضل بن مغیرہ سے روایت کی، کہا: میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے حارث اعور نے روایت بیان کی اور (یہ کہ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ (حارث) جھوٹوں میں سے ایک تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 45]
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے حارث اعور نے حدیث سنائی اور وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ (اعور) جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 45]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 46
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ، فَقَالَ الْحَارِثُ: الْقُرْآنُ هَيِّنٌ، الْوَحْيُ أَشَدُّ،
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: علقمہ نے کہا: میں نے دو سال میں قرآن پڑھا (تدبر کرتے ہوئے ختم کیا)۔ تو حارث نے کہا: قرآن آسان ہے، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 46]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے قرآن دو سال پڑھا، تو حارث نے کہا: قرآن آسان ہے، وحی بہت مشکل اور بھاری ہے (یعنی: وہ راز کی باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتائیں اور انہیں اپنا وصی بنایا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 46]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (000)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 47
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ، أَوَ قَالَ: الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ،
حجاج بن شاعر، احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث (اعور) نے کہا: میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں (یا کہا): وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں، مثلاً: اشارہ کرنا، کتابت، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے، اپنے رسول کی طرف کلام، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 47]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حارث نے کہا: میں نے قرآن مجید تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں، یا کہا کہ وحی تین سال میں سیکھی اور قرآن دو سال میں (یہی قول علقمہ رحمہ اللہ کی کہی ہوئی بات کے مطابق ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 47]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18399)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 48
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، اتُّهِمَ.
منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 48]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: حارث پر جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 48]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18397)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 49
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، قَالَ: سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ، مِنَ الْحَارِثِ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: اقْعُدْ بِالْبَابِ، قَالَ: فَدَخَلَ مُرَّةُ، وَأَخَذَ سَيْفَهُ، قَالَ: وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَهَبَ،
حمزہ زیات سے روایت ہے، کہا: مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا: تم دروازے ہی پر بیٹھو (اندر نہ آؤ)۔ پھر وہ (گھر میں) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 49]
حمزہ زیات رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مرہ ہمدانی رحمہ اللہ نے حارث سے کوئی بات سنی، تو اسے کہا: دروازے پر بیٹھو (میں ابھی اندر ہو کر آتا ہوں) چنانچہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی (تاکہ حارث کی گردن اڑا دیں)، حارث نے برائی کو بھانپ لیا (سمجھ گیا کہ وہ اچھے ارادے سے اندر نہیں گئے) تو بھاگ گیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 49]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18597 و 19429)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 50
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاكُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ، فَإِنَّهُمَا كَذَّابَانِ،
(عبداللہ) بن عون سے روایت ہے، کہا: ابراہیم (نخعی) نے ہم سے کہا: تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے بچ کر رہو، وہ کذّاب ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 50]
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم سے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اپنے آپ کو مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے دور رکھو! کیونکہ یہ دونوں جھوٹے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 50]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18398)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 51
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ، وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ، غَيْرَ أَبِي الأَحْوَصِ: وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا، قَالَ: وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا، يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ،
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابوعبدالرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے، وہ ہم سے کہا کرتے تھے: ابواحوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں (واعظوں) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا، یہ ابووائل نہیں (بلکہ شقیق ضبی ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 51]
عاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم ابو عبدالرحمن سلمیٰ رحمہ اللہ کے پاس آتے تھے جبکہ ہم بالغ نوجوان تھے، تو وہ ہمیں کہا کرتے تھے: ابو الاحوص رحمہ اللہ کے سوا قصہ خوانوں کے پاس نہ بیٹھا کرو! اور اپنے آپ کو شقیق سے بچاؤ اور اس شقیق کے نظریات خارجیوں والے تھے اور یہ شقیق ابو وائل شقیق بن سلمہ اسدی نہیں ہے (کیونکہ وہ تو کبار تابعین میں سے ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 51]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18897)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 52
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا، يَقُولُ:" لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ، فَلَمْ أَكْتُبْ عَنْهُ، كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ.
جریر کہتے ہیں: میں جابر بن یزید جعفی سے ملا تو میں نے اس سے حدیث نہ لکھی، وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 52]
جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں جابر بن یزید جعفی سے ملا، لیکن میں نے اس سے حدیثیں نہیں لکھیں، کیونکہ وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 52]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18476)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 53
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ.
مسعر نے کہا: ہم سے جابر بن یزید (جعفی) نے ان بدعتوں سے پہلے، جو اس نے گھڑیں، حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 53]
مسعر رحمہ اللہ کہتے ہیں: جابر بن یزید نے ہمیں احادیث سنائیں، ان بدعات سے پہلے جو اس نے ایجاد کر لی ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 53]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسل - انظر ((التحفة)) برقم (19437)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 54
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ، عَنْ جَابِر، قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ، اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا أَظْهَرَ؟ قَالَ: الإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ،
سفیان نے کہا: جابر نے جس (عقیدے) کا اظہار کیا اس کے اظہار سے پہلے لوگ اس سے حدیث لیتے تھے، جب اس نے اس کا اظہار کر دیا تو لوگوں نے اسے اس کی (بیان کردہ) حدیث کے بارے میں مطعون کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا: اس نے کس چیز کا [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 54]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ جابر سے احادیث لے لیتے تھے، جب کہ ابھی اس نے اپنی بدعت کا اظہار نہیں کیا تھا، تو جب اس نے اپنی بدعت (بد اعتقادی) نمایاں کر دی، لوگوں نے اس پر حدیث میں جھوٹ بولنے کا الزام لگایا، اور بعض لوگوں نے اسے چھوڑ دیا۔ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس نے کس چیز کا اظہار کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ رجعت پر ایمان لے آیا تھا۔ (اور اس کی حمایت میں حدیثیں وضع کرنا شروع کر دی تھیں) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 54]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 55
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، وَأَخُوهُ، أنهما سمعا الجراح بن مليح، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا.
جراح بن ملیح کہتے ہیں: میں نے جابر بن یزید (جعفی) کو یہ کہتے سنا: میرے ابوجعفر (محمد باقر بن علی بن حسین بن علی) کی ستر ہزار حدیثیں ہیں جو سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کی گئی) ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 55]
جراح بن ملیح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے ابو جعفر رحمہ اللہ (امام محمد باقر) سے ستر ہزار احادیث یاد ہیں۔ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 55]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18475)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 56
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْءٍ.قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْخَمْسِينَ أَلْفًا.
زہیر کہتے ہیں: جابر نے کہا یا میں نے جابر (بن یزید) کو یہ کہتے سنا: بلاشبہ میرے پاس پچاس ہزار حدیثیں (ایسی) ہیں جن میں سے میں نے کوئی حدیث بیان نہیں کی، پھر ایک دن اس نے ایک حدیث بیان کی اور کہا: یہ (ان) پچاس ہزار حدیثوں میں سے (ایک) ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 56]
زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جابر رحمہ اللہ نے کہا: میرے پاس پچاس ہزار احادیث ایسی ہیں کہ میں نے ان میں سے کوئی حدیث نہیں سنائی۔ پھر ایک دن ایک حدیث بیان کی اور کہا: یہ ان ہی پچاس ہزار میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 56]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 57
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ، يَقُولُ: عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں: میں نے جابر جعفی کو یہ کہتے سنا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کردہ) پچاس ہزار احادیث ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 57]
سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر جعفی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پچاس ہزار احادیث ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 57]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18797)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 58
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ سورة يوسف آية 80، فَقَالَ جَابِرٌ: لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَبَ.فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ: وَمَا أَرَادَ بِهَذَا، فَقَالَ: إِنَّ الرَّافِضَةَ، تَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ، يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي، اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ. يَقُولُ جَابِرٌ: فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الآيَةِ، وَكَذَبَ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ"
سفیان (بن عیینہ) نے کہا: میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے جابر سے ارشاد ربانی: ﴿فلن أبرح الأرض حتی یأذن لی أبی أو یحکم اللہ لی وہو خیر الحاکمین﴾ اب میں اس زمین سے ہرگز نہ ہلوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ میرے لیے فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ کے بارے میں سوال کیا، تو جابر نے کہا: اس کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ سفیان نے کہا: اور اس نے یہ جھوٹ بولا۔ تو ہم نے سفیان سے کہا: اس سے مراد اس کی کیا تھی؟ انہوں نے کہا: روافض کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ بادلوں میں ہیں۔ ان کی اولاد میں سے جو کوئی خروج کرے گا ہم اس کے ساتھ خروج نہیں کریں گے حتیٰ کہ آسمان کی طرف سے پکارنے والا (اس کی مراد علی سے ہے) پکارے۔ یقیناً وہی پکارے گا کہ فلاں کے ساتھ (مل کر) خروج کرو۔ جابر کہتا تھا: یہ اس آیت کی تفسیر ہے اور اس نے جھوٹ کہا۔ یہ آیت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں (نازل ہوئی) تھی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 58]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے جابر سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 80] کا معنی پوچھا: میں تو اس سر زمین سے کبھی نہ جاؤں گا حتیٰ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے، یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرما دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو جابر نے کہا: اس کی حقیقت یا اس کا مصداق ابھی تک ظاہر نہیں ہوا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس نے جھوٹ بولا ہے (کیونکہ اس واقعہ کا تعلق تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کے ساتھ ہے) ہم نے سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کہنے سے اس کا مقصد کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رافضیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بادل میں ہیں، ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہیں نکلیں گے، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی کرنے والا آواز دے گا، یعنی: حضرت علی رضی اللہ عنہ آواز دیں گے: فلاں کے ساتھ نکلو (اس کے ساتھ ہم نکلیں گے)۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس آیت کی حقیقت یا مصداق یہی ہے، اور اس نے جھوٹ بولا ہے، یہ آیت تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں ہے (یہ بات ان کے بڑے بھائی نے کہی تھی، جس کی تفصیل اور پس منظر قرآن مجید میں موجود ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 58]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 59
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْكُرَ مِنْهَا شَيْئًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ مُسْلِم: وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ، قَالَ: سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، فَقُلْتُ: الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، شَيْخٌ طَوِيلُ السُّكُوتِ، يُصِرُّ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ.
سفیان سے روایت ہے، کہا: میں نے جابر کو تقریباً تیس ہزار احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں ان میں سے ایک حدیث بیان کرنا بھی حلال نہیں سمجھتا، چاہے (اس کے بدلے) میرے لیے اتنا اور اتنا ہو۔ (امام) مسلم نے کہا: میں نے ابوغسان محمد بن عمرو رازی سے سنا، کہا: میں نے جریر بن عبدالحمید سے پوچھا، میں نے کہا: (یہ جو) حارث بن حصیرہ ہے، آپ اس سے ملے ہیں؟ کہا: ہاں، لمبی خاموشی والا بوڑھا ہے۔ ایک بہت بڑی بات پر اصرار کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 59]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر کو تقریباً تیس ہزار احادیث بیان کرتے سنا، اور میں اتنی اتنی دولت لے کر بھی ان میں سے کسی ایک کو بیان کرنا حلال نہیں سمجھتا (کیونکہ وہ سب موضوع اور جعلی ہیں)۔ ابو غسان محمد بن عمرو رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جریر بن عبدالحمید رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ حارث بن حصیرہ رحمہ اللہ کو ملے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! وہ بوڑھا ہے، بہت خاموش (چپ چپ) رہتا ہے، ایک انتہائی ناگوار عقیدے پر اصرار کرتا ہے، یعنی رجعت پر ایمان رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 59]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18477 و 18774)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 60
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذَكَرَ أَيُّوبُ رَجُلًا يَوْمًا، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ بِمُسْتَقِيمِ اللِّسَانِ، وَذَكَرَ آخَرَ، فَقَالَ: هُوَ يَزِيدُ فِي الرَّقْمِ
عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن زید سے روایت کی، کہا: ایوب نے ایک دن ایک شخص کا ذکر کیا اور کہا: وہ کج زبان (جھوٹا، تہمت تراش اور بد زبان) تھا اور دوسرے کا ذکر کیا تو کہا: وہ رقم (اشیاء پر لکھی ہوئی قیمت) میں اضافہ کر دیتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 60]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ نے ایک دن ایک آدمی کا تذکرہ کیا، چنانچہ کہا: اس کی زبان درست نہیں ہے، (یعنی: جھوٹا ہے۔) ایک اور آدمی کا تذکرہ کیا، تو کہا: وہ تحریر میں اضافہ کرتا ہے، (یعنی حدیث میں اضافہ کرتا ہے۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 60]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18443)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 61
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ: إِنَّ لِي جَارًا، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ فَضْلِهِ، وَلَوْ شَهِدَ عِنْدِي عَلَى تَمْرَتَيْنِ، مَا رَأَيْتُ شَهَادَتَهُ جَائِزَةً،
سلیمان بن حرب نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایوب نے کہا: میرا ایک ہمسایہ ہے، پھر (زہد وورع میں) اس کی فضیلت کا ذکر کیا، اگر وہ میرے سامنے دو کجھوروں کے بارے میں گواہی دے تو میں (اس میں بھی) اس کی شہادت قابل قبول نہ سمجھوں گا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 61]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ نے کہا: میرا ایک پڑوسی ہے، پھر اس کے فضائل اور خوبیاں بیان کیں، اور اگر وہ میرے سامنے دو کھجوروں کے بارے میں گواہی دے تو میں اس کی گواہی کو معتبر قرار نہیں دوں گا (کیونکہ وہ جھوٹا ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 61]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18444)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 62
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ: مَا رَأَيْتُ أَيُّوبَ اغْتَابَ أَحَدًا قَطُّ، إِلَّا عَبْدَ الْكَرِيمِ يَعْنِي أَبَا أُمَيَّةَ، فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ، فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: كَانَ غَيْرَ ثِقَةٍ، لَقَدْ سَأَلَنِي، عَنْ حَدِيثٍ لِعِكْرِمَةَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ،
معمر نے کہا: میں نے ایوب کو کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اسے برا کہتے نہیں سنا، سوائے عبدالکریم، یعنی ابوامیہ کے۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا تو کہا: اللہ اس پر رحم کرے، غیر ثقہ ہے، اس نے مجھ سے عکرمہ سے روایت کی گئی ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا، پھر (لوگوں سے) کہا: میں نے عکرمہ سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 62]
معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایوب رحمہ اللہ کو کسی کی غیبت کرتے نہیں دیکھا سوائے عبدالکریم یعنی ابو امیہ کے، کیونکہ ایوب رحمہ اللہ نے ان کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے! وہ ثقہ نہیں تھا، اس نے مجھ سے عکرمہ رحمہ اللہ کی ایک حدیث دریافت کی، پھر کہنے لگا: میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 62]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18445)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 63
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو دَاوُدَ الأَعْمَى فَجَعَلَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: كَذَبَ مَا سَمِعَ مِنْهُمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ سَائِلًا، يَتَكَفَّفُ النَّاسَ زَمَنَ طَاعُونِ الْجَارِفِ،
عفان بن مسلم نے کہا: ہمام نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوداود اعمیٰ ہمارے ہاں آیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: ہمیں براء رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی اور ہمیں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی۔ ہم نے یہ بات قتادہ کو بتائی، انہوں نے کہا: اس نے جھوٹ بولا۔ اس نے ان سے نہیں سنا، وہ تو ایک منگتا تھا، انسانوں کی بیخ کنی کرنے والے طاعون (کے دوران) میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھرتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 63]
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے پاس ابو داؤد اعمیٰ آیا اور کہنے لگا: ہمیں براء اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی۔ چنانچہ اس واقعے کا تذکرہ ہم نے قتادہ رحمہ اللہ سے کیا، تو انہوں نے کہا: جھوٹ بولتا ہے، اس نے کسی صحابی سے نہیں سنا۔ یہ تو مانگت (سوالی) تھا۔ تباہ کن طاعون کے وقت لوگوں کے سامنے بھیک مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 63]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة الاشراف)) برقم (19213)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 64
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو دَاوُدَ الأَعْمَى، عَلَى قَتَادَةَ، فَلَمَّا قَامَ، قَالُوا: إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَقِيَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ بَدْرِيًّا، فَقَالَ قَتَادَةُ: هَذَا كَانَ سَائِلًا قَبْلَ الْجَارِفِ، لَا يَعْرِضُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا، وَلَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ، فَوَاللَّهِ مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً، وَلَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً، إِلَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ،
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی کہ ابوداود اعمیٰ قتادہ کے ہاں آیا، جب وہ کھڑا ہوا (اور چلا گیا) تو لوگوں نے کہا: اسے یہ زعم ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ سے ملاقات کی۔ اس پر قتادہ کہنے لگے: (طاعون کی) وبائے عام سے پہلے یہ ایک منگتا تھا، اس کا (علم حدیث) ایسی کسی چیز سے کوئی سروکار نہ تھا، وہ اس بارے میں بات تک نہ کرتا تھا۔ بخدا نہ حسن (بصری) نے (کبھی) کسی بدری سے بلاواسطہ حدیث ہمیں سنائی نہ سعید بن مسیب نے ایک سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور بدری سے براہ راست سنی ہوئی کوئی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 64]
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو داؤد اعمیٰ، قتادہ رحمہ اللہ کے ہاں آیا، پھر جب وہ چلا گیا تو حاضرین نے کہا: اس کا دعویٰ ہے کہ میں اٹھارہ بدری صحابیوں سے ملا ہوں، تو قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ تو طاعون سے پہلے مانگتا تھا، ان احادیث سے اس کو کچھ دلچسپی یا واسطہ نہ تھا اور نہ ان کے بارے میں گفتگو کرتا تھا۔ اللہ کی قسم! ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ نے کسی بدری صحابی سے براہِ راست سن کر حدیث نہیں سنائی اور نہ ہی سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے ہمیں کسی بدری سے روبرو سن کر حدیث سنائی، سوائے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 64]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة الاشراف)) برقم (18720 و 19212)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 65
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيَّ الْمَدَنِيَّ، كَانَ يَضَعُ أَحَادِيثَ كَلَامَ حَقٍّ، وَلَيْسَتْ مِنْ أَحَادِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَرْوِيهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جریر نے رقبہ (بن مسقلہ بن عبداللہ عبدی کوفی رضی اللہ عنہ جلیل القدر تابعی) سے روایت کی کہ ابوجعفر (عبداللہ بن مسعود بن عون بن جعفر بن ابی طالب) ہاشمی مدائنی احادیث گھڑا کرتا تھا، سچائی (یا حکمت) پر مبنی کلام (پیش کرتا) وہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین میں سے نہ ہوتا تھا لیکن اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 65]
رقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو جعفر ہاشمی مدنی حق اور سچی باتوں کو احادیث بنا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا تھا، جبکہ وہ احادیث نبوی نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 65]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18650)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 66
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ.
ابوداود طیالسی نے شعبہ سے، انہوں نے یونس بن عبید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، (یونس نے) کہا: عمرو بن عبید (معروف معتزلی جو پہلے حضرت حسن بصری کی مجلس میں حاضر رہا کرتا تھا) حدیث (کی روایت) میں جھوٹ بولا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 66]
یونس بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمرو بن عبید (معتزلی) حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 66]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19559)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 67
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، قَالَ: كَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَكِنَّهُ أَرَادَ، أَنْ يَحُوزَهَا إِلَى قَوْلِهِ الْخَبِيثِ
معاذ بن معاذ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے کہا: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے (روایت کرتے ہوئے) یہ حدیث سنائی: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں۔ انہوں نے کہا: بخدا! عمرو نے (اس حدیث کی روایت حسن بصری کی طرف منسوب کرنے میں) جھوٹ بولا لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس (صحیح حدیث) کو اپنی جھوٹی بات سے ملا دے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ رحمہ اللہ سے پوچھا: عمرو بن عبید ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ عوف رحمہ اللہ نے قسم اٹھا کر کہا: عمرو جھوٹا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث سے اپنے خبیث نظریے کو تقویت پہنچائے، اور اس کو ثابت کرے۔ ( «حَوَزَ» کا معنی ہے جمع کرنا، اکٹھا کرنا[صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19182)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 68
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ، قَدْ لَزِمَ أَيُّوبَ وَسَمِعَ مِنْهُ، فَفَقَدَهُ أَيُّوبُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّهُ قَدْ لَزِمَ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ، قَالَ حَمَّادٌ: فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا مَعَ أَيُّوبَ، وَقَدْ بَكَّرْنَا إِلَى السُّوقِ، فَاسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَيُّوبُ، وَسَأَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ أَيُّوبُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَزِمْتَ ذَاكَ الرَّجُلَ.قَالَ حَمَّادٌ: سَمَّاهُ يَعْنِي عَمْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّهُ يَجِيئُنَا بِأَشْيَاءَ غَرَائِبَ، قَالَ: يَقُولُ لَهُ أَيُّوبُ: إِنَّمَا نَفِرُّ أَوْ نَفْرَقُ مِنْ تِلْكَ الْغَرَائِبِ،
عبیداللہ بن عمر قواریری نے کہا: ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایک آدمی تھا، وہ ایوب (سختیانی کی علمی مجلس میں حاضری) کا التزام کرتا تھا اور اس نے ان سے (حدیث کا) سماع کیا تھا۔ ایوب نے اسے غیر حاضر پا کر اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا: جناب ابوبکر (ایوب کی کنیت)! وہ عمرو بن عبید سے منسلک ہو گیا ہے۔ حماد نے کہا: ایک دن میں ایوب کے ساتھ تھا، ہم صبح سویرے بازار کی طرف گئے تو اس آدمی نے ایوب کا استقبال کیا۔ ایوب نے اسے سلام کہا اور (حال احوال) پوچھا، پھر ایوب کہنے لگے: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اس آدمی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہو۔ حماد نے کہا: انہوں نے اس کا، یعنی عمرو کا نام لیا۔ وہ کہنے لگا: ہاں، جناب ابوبکر! وہ غرائب (ایسی باتیں جنہیں کوئی نہیں جانتا) ہمارے سامنے لاتا ہے۔ کہا: ایوب اس سے کہنے لگے: ہم انہی (عجیب و) غریب باتوں سے بھاگتے ہیں یا ڈرتے ہیں (کہ یہ جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 68]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی ہمیشہ ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ رہتا اور ان سے حدیث سنتا تھا۔ چنانچہ ایوب رحمہ اللہ نے اسے گم پایا (تو ساتھیوں سے پوچھا) تو حاضرینِ مجلس نے کہا: اے ابوبکر! وہ تو عمرو بن عبید کے ساتھ چپک گیا ہے، یعنی اس کا ہم نشین بن گیا ہے، ہمیں علم ہوا ہے۔ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں صبح سویرے ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ بازار کی طرف جا رہا تھا تو سامنے سے وہ شخص آگیا، چنانچہ ایوب رحمہ اللہ نے اسے سلام کیا اور حال احوال پوچھا، پھر ایوب رحمہ اللہ نے اس سے کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو اس آدمی کا ہم نشین ہو گیا ہے؟ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ نے عمرو کا نام لیا، اس نے کہا: ہاں اے ابوبکر! کیونکہ وہ ہمیں عجیب و غریب باتیں سناتا ہے۔ ایوب رحمہ اللہ نے اس سے کہا: انہی عجائب سے تو ہم بھاگتے یا ڈرتے ہیں۔ (کیونکہ ان غرائب کو احادیث بتانا جھوٹ ہے، اور اگر یہ آراء یا اقوال ہیں تو بدعت ہیں۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 68]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18446)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 69
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا، قَالَ: قِيلَ لِأَيُّوبَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَى، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَا يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ، فَقَالَ: كَذَبَ، أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ،
سلیمان بن حرب نے کہا: ہم سے ابن زید، یعنی حماد نے بیان کیا، کہا: ایوب سے عرض کی گئی: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے روایت بیان کی کہے (کہ انہوں نے) کہا: جسے نبیذ (شراب) سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے نہ مارے جائیں۔ تو انہوں نے (ایوب سختیانی) نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، میں نے (خود) حسن سے سنا، وہ کہتے تھے: جسے نبیذ سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے مارے جائیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 69]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ کو بتایا گیا کہ عمرو بن عبید، حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کرتا ہے کہ نبیذ سے نشہ آنے پر نشئی کو حد (کوڑے) نہیں لگائیں گے، تو انہوں نے کہا: اس نے جھوٹ بولا ہے، میں نے خود حضرت حسن رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ نبیذ سے نشہ آنے پر نشئی کو حد لگائی جائے گی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 69]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18447 و 18501)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 70
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ، يَقُولُ: بَلَغَ أَيُّوبَ، أَنِّي آتِي عَمْرًا، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ يَوْمًا، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَا تَأْمَنُهُ عَلَى دِينِهِ، كَيْفَ تَأْمَنُهُ عَلَى الْحَدِيثِ؟،
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں: جناب ایوب سختیانی کو یہ خبر پہنچی کہ میں عمرو (بن عبید) کے ہاں (درس میں) جاتا ہوں تو ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہا: تم نے غور کیا ایک ایسا آدمی آیا جس کے دین پر تمہیں اعتبار نہ ہو، تم اس کی حدیث پر اعتماد نہ کرو گے! [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 70]
سلام بن مطیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ کو پتا چلا کہ میں عمرو کے پاس جاتا ہوں، تو ایک دن وہ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: بتاؤ! ایک شخص کے دین پر تمہیں اعتماد نہیں ہے، اس پر حدیث کے سلسلے میں کیسے اعتماد کرو گے؟ یعنی: اس کی حدیث پر اعتماد نہیں ہو سکتا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 70]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18448)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 71
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ،
سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے ابوموسیٰ (اسرائیل بن موسیٰ بصری، نزیل ہند) سے سنا، کہہ رہے تھے: ہمیں عمرو بن عبید نے بدعت کا شکار ہونے سے پہلے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 71]
ابو موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بدعتی (معتزلی، قدری) ہونے سے پہلے عمرو بن عبید نے ہمیں احادیث سنائیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 71]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19600)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 72
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى شُعْبَةَ، أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ لَا تَكْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ كِتَابِي.
معاذ عنبری نے کہا: میں نے واسط کے قاضی ابوشیبہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے شعبہ کی طرف لکھا تو انہوں نے جواب میں میری طرف لکھ بھیجا، اس سے کوئی چیز روایت نہ کرو اور میرا خط پھاڑ دو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 72]
معاذ عنبری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قاضیِ واسط ابو شیبہ کے بارے میں شعبہ رحمہ اللہ کو خط لکھ کر پوچھا، انہوں نے مجھے جواب لکھ کر بھیجا: اس سے کوئی حدیث نہ لکھو اور میرا خط چاک کر دو۔ (تاکہ وہ اس خط کے سبب مجھے نشانہ نہ بنائے۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 72]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18806)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 73
وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَفَّانَ، قَالَ: حَدَّثْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ، عَنْ ثَابِتٍ، فَقَالَ: كَذَبَ، وَحَدَّثْتُ هَمَّامًا، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: كَذَبَ،
عفان (بن مسلم) نے کہا: میں نے حماد بن سلمہ کو صالح مری کے واسطے سے ایک حدیث سنائی جو اس نے ثابت سے روایت کی تو انہوں نے (حماد نے) کہا: اس نے جھوٹ بولا۔ (اسی طرح) میں نے ہمام کو صالح مری سے ایک حدیث سنائی تو انہوں نے بھی کہا: اس نے جھوٹ بولا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 73]
عفان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کو صالح مری رحمہ اللہ کی ثابت رحمہ اللہ سے ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹا ہے۔ اور میں نے ہمام رحمہ اللہ کو صالح مری کی ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے بھی کہا: اس نے جھوٹ بولا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 73]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18590 و 19514)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 74
وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ: ايتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ، فَقُلْ لَهُ: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، فَإِنَّهُ يَكْذِب، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بِأَشْيَاءَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَكَمِ: أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ؟ فَقَالَ: لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهِمْ، وَدَفَنَهُمْ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا؟ قَالَ: يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، قُلْتُ: مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَى؟ قَالَ: يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ
ابوداود نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے مجھ سے کہا: جریر بن حازم کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم حسن بن عمارہ سے (حدیث) روایت کرو کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابوداود نے کہا: میں نے شعبہ سے عرض کی: وہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: اس نے ہمیں حکم سے (روایت کردہ) احادیث سنائیں جن کی ہم نے اصل نہ پائی۔ (کہا) میں نے عرض کی: کیا چیز روایت کی؟ کہا: میں نے حکم سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا فرمائی؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی (جبکہ) حسن بن عمارہ نے حکم ہی سے مقسم کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کیا۔ (اسی طرح) میں نے حکم سے پوچھا: آپ اولاد زنا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ میں نے پوچھا: یہ روایت کس حوالے سے بیان کی جاتی ہے؟ کہا: حضرت حسن بصری سے (جبکہ) حسن بن عمارہ نے کہا: ہم سے حکم نے یحییٰ بن جزار کے حوالے سے یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 74]
ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: تم جریر بن حازم رحمہ اللہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: آپ کے لیے حسن بن عمارہ سے روایت بیان کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیسے ہے؟ (آپ کو کیسے پتہ چلا ہے) انہوں نے جواب دیا: حسن نے ہمیں حکم رحمہ اللہ سے چند احادیث سنائیں، جن کی مجھے کوئی اصل یا بنیاد نہیں ملی۔ میں نے کہا: وہ کون سی حدیثیں ہیں؟ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حکم سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے؟ حکم نے کہا: نہیں پڑھی۔ جبکہ حسن بن عمارہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی اور ان کو دفن کیا۔ میں نے حکم سے دریافت کیا: آپ کا زنا کی اولاد کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟ انہوں نے کہا: ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ میں نے پوچھا: کس کی روایت ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے۔ جبکہ حسن بن عمارہ محدثین رحمہ اللہ کے نزدیک بالاتفاق ضعیف ہے، اور حسن بن عمارہ یہ روایت حکم رحمہ اللہ کی سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 74]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (6469 و 10316 و 18782 و 18807)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 75
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، وَذَكَرَ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، فَقَالَ: حَلَفْتُ، أَلَّا أروي عنه شيئا ولا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَحْدُوجٍ، وَقَالَ: لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَكَانَ يَنْسُبُهُمَا إِلَى الْكَذِبِ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ، وَذَكَرْتُ عِنْدَهُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَنَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ،
حسن حلوانی نے کہا: میں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہوں نے زیاد بن میمون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں نے حلف اٹھایا ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوج سے کبھی روایت نہ کروں گا (اور کہا:) میں زیاد بن میمون سے ملا، اس سے ایک حدیث سنانے کا کہا تو اس نے مجھے وہ حدیث بکر مزنی سے روایت کرکے سنائی، پھر (کچھ عرصے بعد) میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث موَرّق سے بیان کی، پھر ایک بار اور اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث حسن (بصری) سے سنائی۔ وہ (یزید بن ہارون) ان دونوں (زیاد بن میمون اور خالد بن محدوج) کو جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حلوانی نے کہا: میں نے عبدالصمد سے حدیث سنی اور ان کے سامنے زیاد بن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 75]
حسن حلوانی رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے یزید بن ہارون رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے زیاد بن میمون کا ذکر کر کے کہا: میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوج سے کوئی روایت بیان نہیں کروں گا، کیونکہ میں زیاد بن میمون کو ملا، اور اس سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، تو اس نے مجھے وہ بکر مزنی رحمہ اللہ سے سنائی، پھر میں نے اس کی طرف دوبارہ رجوع کیا، تو اس نے مجھے وہ مورق سے سنا دی، پھر میں اسے سہ بارہ ملا تو اس نے مجھے وہ حسن رحمہ اللہ سے سنا دی، اور یزید بن ہارون رحمہ اللہ ان دونوں (زیاد، خالد) کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ حلوانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبدالصمد رحمہ اللہ کے پاس زیاد بن میمون کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 75]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18980 و 19553)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 76
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ: قَدْ أَكْثَرْتَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، فَمَا لَكَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ، الَّذِي رَوَى لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ لِيَ: اسْكُتْ، فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا، عَنْ أَنَسٍ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ، أَلَيْسَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ، مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، إِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ، فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ، أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي، فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: أَتُوبُ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ، فَتَرَكْنَاهُ،
محمود بن غیلان نے کہا: میں نے ابوداود طیالسی سے کہا: آپ نے عباد بن منصور سے بہت زیادہ روایتیں لی ہیں، پھر کیا ہوا کہ آپ نے عطارہ والی روایت جو نضر بن شمیل نے ہمارے سامنے بیان کی، ان سے نہیں سنی؟ انہوں نے مجھ سے کہا: خاموش رہو، میں اور عبدالرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھتے ہوئے کہا: یہ احادیث جو تم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہو (کیا ہیں؟) تو وہ کہنے لگا: تم دونوں دیکھو کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کر لیتا ہے تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا! کہا: ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں نے ان (احادیث) میں سے انس رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، نہ کم نہ زیادہ، اگر لوگ نہیں جانتے تو (کیا) تم دونوں بھی نہیں جانتے کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ملا! ابوداود نے کہا: پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ وہ (وہی) روایتیں بیان کرتا ہے تو میں اور عبدالرحمن اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا: میں توبہ کرتا ہوں، پھر اس کے بعد بھی وہ وہی حدیثیں بیان کرتا تھا تو ہم نے اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 76]
محمود بن غیلان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو داؤد طیالسی رحمہ اللہ سے کہا: آپ نے عباد بن منصور سے بہت سی روایات بیان کی ہیں، تو کیا وجہ ہے؟ آپ نے اس سے عطارہ کی حدیث نہیں سنی، جو ہمیں نضر بن شمیل رحمہ اللہ نے سنائی ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: خاموش ہو جا! کیونکہ میں اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ دونوں زیاد بن میمون کو ملے، تو ہم نے اس سے پوچھا: یہ احادیث جو تم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہو؟ (ان کی کیا حقیقت ہے) تو اس نے کہا: بتاؤ ایک آدمی گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کر لیتا ہے، تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کر لیتا؟ ہم نے کہا: معاف کر دیتا ہے۔ اس نے کہا: میں نے ان احادیث میں سے کم یا زیادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، اگر عام لوگوں کو علم نہیں ہے تو کیا آپ دونوں کو بھی علم نہیں ہے؟ میری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں بعد میں خبر پہنچی کہ وہ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے، تو میں اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اس کے پاس آئے، تو اس نے کہا: میں توبہ کرتا ہوں، بعد میں وہ پھر بیان کرنے لگا، تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا (کہ یہ تو جھوٹا آدمی ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 76]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18782 و 18807)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 77
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِي، قَالَ: سَمِعْتُ شَبَابَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا، فَيَقُولُ: سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ: قَالَ شَبَابَةُ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا! قَالَ: يَعْنِي تُتَّخَذُ كُوَّةٌ فِي حَائِطٍ، لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ، قَال مُسْلِمٌ: وسَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ: مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَاعِيل،
حسن حلوانی نے بیان کیا، کہا: میں نے شبابہ سے سنا (کہا: عبدالقدوس ہمارے سامنے حدیث بیان کرتا تھا اور کہتا تھا: سوید بن عقلہ) شبابہ نے کہا: میں نے عبدالقدوس سے سنا، کہتا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح کو عرض بنانے سے منع فرمایا ہے (کہا) اس سے کہا گیا: اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا: مطلب یہ ہے کہ دیوار میں سوراخ رکھا جائے تاکہ اس میں ہوا داخل ہو۔ (امام) مسلم نے کہا: میں نے عبیداللہ بن عمر قواریری سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حماد بن زید سے سنا، وہ (مہدی بن ہلال کے علمی مجلس منعقد کرنے سے چند دن بعد) ایک آدمی سے کہہ رہے تھے: یہ نمکین چشمہ کیا ہے جو آپ کی طرف سے پھوٹا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اے ابواسماعیل! (آپ کی بات ٹھیک ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
شبابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالقدوس ہمیں حدیث سناتا اور راوی کا نام سوید بن غفلہ لیتا تھا اور متن یوں سناتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الرُّوحَ عَرَضًا» (روح کو عرض بنانے) سے منع فرمایا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟ یعنی اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہوا کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں سوراخ یا کھڑکی رکھنا منع فرمایا ہے۔ عبید اللہ بن عمیر قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن زید رحمہ اللہ کو کسی آدمی سے کہتے ہوئے سنا، جبکہ وہ شخص مہدی بن ہلال کے پاس چند روز بیٹھ چکا تھا: یہ تمہاری طرف پھوٹنے والا نمکین چشمہ کیسا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے ابو اسماعیل! (یہ حماد بن زید رحمہ اللہ کی کنیت ہے) وہ ایسا ہی ہے، یعنی واقعی ضعیف ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18589 و 18798)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 78
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ، قَالَ: مَا بَلَغَنِي عَنِ الْحَسَنِ حَدِيثٌ، إِلَّا أَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَرَأَهُ عَلَيَّ.
عفان نے کہا: میں نے ابوعوانہ سے سنا، کہا: مجھے حسن (بصری) سے کوئی حدیث نہ پہنچی مگر میں اسے ابان بن ابی عیاش کے پاس لے گیا تو اس نے اسے میرے سامنے پڑھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 78]
ابو عوانہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے حسن رحمہ اللہ سے جو روایت بھی پہنچی، میں وہ لے کر ابان بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آگیا، تو اس نے وہ مجھے (جھوٹ کے طور پر) سنا دی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 78]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19518)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 79
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ، قَالَ عَلِيٌّ:" فَلَقِيتُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا، خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً،
علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا: میں نے اور حمزہ زیات نے ابان بن ابی عیاش سے تقریباً ایک ہزار احادیث سنیں۔ علی نے کہا: پھر (کچھ عرصے بعد) میں حمزہ سے ملا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ احادیث جو ابان سے سنی تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ نے ان میں بہت معمولی حصے، پانچ یا چھ حدیثوں کے سوا کسی چیز کو نہ پہچانا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 79]
علی بن مسہر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اور حمزہ زیات رحمہ اللہ نے ابان بن ابی عیاش رحمہ اللہ سے تقریباً ایک ہزار روایات سنیں۔ علی بن مسہر رحمہ اللہ کہتے ہیں: بعد میں، میں حمزہ رحمہ اللہ سے ملا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ابان سے سنی ہوئی احادیث پیش کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے چند ایک، پانچ یا چھ کے سوا کسی حدیث کو نہ پہچانا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 79]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18596)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 80
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ: اكْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ،
زکریا بن عدی نے کہا: مجھ سے ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ سے وہی احادیث لکھو جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کی ہیں، وہ نہ لکھو جو اس نے غیر معروف لوگوں سے روایت کی ہیں اور اسماعیل بن عیاش سے، جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کیں یا غیر معروف سے، کچھ نہ لکھو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 80]
زکریا بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، مجھ سے ابو اسحاق فزاری رحمہ اللہ نے کہا: بقیہ سے صرف وہ احادیث لکھو جو وہ معروف اور مشہور راویوں سے بیان کرتا ہے اور جو روایات وہ غیر معروف راویوں سے بیان کرتا ہے وہ نہ لکھو، اور اسماعیل بن عیاش سے کسی قسم کی روایت نہ لکھو، چاہے وہ معروف راویوں سے بیان کرتا ہو یا غیر معروف سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 80]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الامثال، باب: ما جاء في مثل الله علباده بعد حديث (2859) انظر ((التحفة)) برقم (18391)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 81
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ، لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَكْنِي الْأَسَامِيَ وَيُسَمِّي الْكُنَى، كَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ وَعَبْدُ الْقُدُّوسِ،
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا: میں نے عبداللہ کے اصحاب (شاگردوں) میں سے ایک سے سنا، کہا: ابن مبارک نے فرمایا: بقیہ اچھا آدمی ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ وہ ناموں کو کنیتوں سے بدل دیتا ہے اور کنیتوں کو ناموں سے۔ وہ ایک زمانے تک ہمیں ابوسعید وحاظی سے روایتیں سناتا رہا، ہم نے اچھی طرح غور کیا تو وہ عبدالقدوس نکلا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 81]
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بقیہ رحمہ اللہ اچھے آدمی تھے، اگر وہ ناموں کی جگہ کنیت اور کنیت کی جگہ نام نہ لیتے۔ ایک عرصے تک وہ ہمیں ابو سعید وحاظی سے روایت سناتے رہے، جب ہم نے غور و فکر کیا تو معلوم ہوا کہ وہ عبدالقدوس ہے (جو ضعیف راوی ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 81]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18930)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 82
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ كَذَّابٌ، إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: كَذَّابٌ،
عبدالرزاق کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک کو (ایسا کرتے) نہیں دیکھا کہ وہ کھل کر اپنی یہ بات (رائے) کہہ دیں کہ فلاں جھوٹا ہے، سوائے عبدالقدوس کے۔ میں نے انہیں خود یہ کہتے سنا کہ وہ جھوٹا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 82]
عبدالرزاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو کبھی عبدالقدوس کے سوا کسی کو صاف طور پر جھوٹا کہتے نہیں سنا، میں نے ان سے اس کو «كَذَّابٌ» کہتے سنا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 82]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18931)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 83
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ، وَذَكَرَ الْمُعَلَّى بْنَ عُرْفَانَ، فَقَال: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ بِصِفِّينَ، فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: أَتُرَاهُ بُعِثَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟.
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے ابونعیم سے سنا (اور انہوں نے معلی بن عرفان کا ذکر کیا) اور کہا: اس نے کہا: ہم سے ابووائل نے بیان کیا، کہا: صفین میں ابن مسعود ہمارے سامنے نکلے تو ابونعیم نے کہا: ان کے بارے میں تمہاری رائے ہے کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 83]
ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ معلیٰ بن عرفان رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں ابو وائل رحمہ اللہ نے بتایا کہ جنگِ صفین کے موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے آئے۔ تو ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا: کیا تمہارے خیال کے مطابق وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 83]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 84
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: اغْتَبْتَهُ؟ قَالَ إِسْمَاعِيل: مَا اغْتَابَهُ، وَلَكِنَّهُ حَكَمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ.
عفان بن مسلم سے روایت ہے، کہا: ہم اسماعیل بن عُلیہ کے ہاں تھے تو ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی سے روایت (بیان) کی۔ میں نے کہا: یہ مضبوط (ثقہ کا ہم پلہ) نہیں۔ تو اس آدمی نے کہا: تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اسماعیل کہنے لگے: انہوں نے اس کی غیبت نہیں کی بلکہ حکم (فیصلہ) بیان کیا ہے وہ ثبت نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 84]
عفان بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے حدیث بیان کی تو میں نے کہا: یہ تو ثقہ اور قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اس نے کہا: تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: اس نے غیبت نہیں کی، لیکن حقیقت بتائی ہے کہ وہ ثقہ نہیں ہے (اور راوی کی اصلیت ظاہر کرنا غیبت نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 84]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18437)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 85
وحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُ مَالِكًا، عَنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةِ، فَقَالَ: لَيْسُوا بِثِقَةٍ، فِي حَدِيثِهِمْ وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: لَوْ كَانَ ثِقَةً، لَرَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي
بشر بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبدالرحمن کے بارے میں پوچھا جو سعید بن مسیب سے احادیث روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے مالک بن انس سے ابوحویرث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ (پھر) میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں سوال کیا جس سے ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں تو فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے صالح مولیٰ توامہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا: ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ثقہ نہیں۔ میں نے امام مالک سے ان پانچوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: یہ سب حدیث کے بیان کرنے میں ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا جس کا (اب) میں نام بھول گیا ہوں تو انہوں نے کہا: کیا تم نے میری کتابوں میں اس کا نام دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں۔ فرمایا: اگر ثقہ ہوتا تو تم اس کا ذکر میری کتابوں میں دیکھتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 85]
بشر بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے محمد بن عبدالرحمن، جو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتا ہے، کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اور میں نے ان سے توامہ کے آزاد کردہ غلام صالح کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ ثقہ نہیں ہے۔ میں نے ان سے ابو الحویرث (عبدالرحمن بن معاویہ) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ معتبر نہیں ہے۔ میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں پوچھا، جس سے ابن ابی ذئب (محمد بن عبدالرحمن بن مغیرہ القرشی) روایت کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اور میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ قابلِ اعتماد نہیں۔ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے ان پانچ کے بارے میں دریافت کیا، چنانچہ انہوں نے ان سب کے بارے میں فرمایا: وہ حدیث بیان کرنے میں معتبر نہیں ہیں۔ اور میں نے ان سے ایک اور آدمی کے بارے میں پوچھا جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، تو انہوں نے جواب دیا: کیا تم نے اس سے میری کتابوں میں روایت دیکھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! فرمایا: اگر وہ ثقہ ہوتا تو اس سے میری کتابوں میں روایت دیکھ لیتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 85]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19249)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 86
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَ مُتَّهَمًا،
ہم حجاج نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذئب نے شرحبیل بن سعد کے حوالے سے حدیث بیان کی اور وہ متہم تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 86]
حجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں ابن ابی ذئب رحمہ اللہ نے شرحبیل بن سعد سے روایات سنائیں، لیکن وہ حدیث میں «مُتَّہَم» تھا، یعنی اس پر کذب بیانی کا الزام ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 86]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19316)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 87
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق الطَّالَقَانِيّ َ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَرَّرٍ، لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ،
ابواسحاق طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبداللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔ طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبداللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 87]
حضرت ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن محرر سے ملنے کا اس قدر اشتیاق تھا کہ اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ یا عبداللہ بن محرر سے مل لو، تو میں یہ پسند کرتا کہ پہلے اس سے ملوں پھر جنت میں داخل ہوں، لیکن جب میں نے اس کو دیکھا تو میرے نزدیک مینگنی کی اس سے زیادہ قدر تھی (یعنی جب اس قدر شوق اور عقیدت کے بعد ملاقات کا موقع ملا، تو وہ انتہائی نکما نکلا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 87]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18932)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 88
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ: لَا تَأْخُذُوا عَنْ أَخِي،
ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا: ابواسحاق نے کہا: عبیداللہ بن عمرو نے کہا: زید، یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا: میرے بھائی (یحییٰ بن ابی انیسہ) سے روایت نہ لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 88]
عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، زید رحمہ اللہ یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا: میرے بھائی سے روایت نہ لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 88]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18667)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 89
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ يَحْيَي بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ كَذَّابًا.
عبداللہ بن جعفر رقی نے عبیداللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا، کہا: یحییٰ بن ابی انیسہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 89]
عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ بن انیسہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 89]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18994)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 90
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ فَرْقَد عِنْدَ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِنَّ فَرْقَدًا، لَيْسَ صَاحِبَ حَدِيثٍ،
حماد بن زید سے روایت ہے، کہا: ایوب سختیانی کے سامنے فرقد کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: فرقد حدیث (کی مہارت رکھنے) والا نہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 90]
حماد بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کے سامنے فرقد (سخی، عابد، زاہد) کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: وہ حدیث کا اہل نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 90]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18449)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 91
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، فَضَعَّفَهُ جِدًّا، فَقِيلَ لِيَحْيَى: أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْر ٍ،
مجھ سے عبدالرحمن بن بشر عبدی نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، جب ان کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اسے انتہائی ضعیف قرار دیا۔ (امام) یحییٰ سے کہا گیا: ہاں۔ پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک انسان بھی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 91]
عبدالرحمن بن بشر عبدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے اسے بہت ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا وہ یعقوب بن عطاء سے بھی زیادہ ضعیف ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کرتا ہو گا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 91]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19539)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ضَعَّفَ حَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ الأَعْلَى وَضَعَّفَ يَحْيَى مُوسَى بْنَ دِينَارٍ، قَالَ: حَدِيثُهُ رِيحٌ وَضَعَّفَ مُوسَى بْنَ دِهْقَانَ وَعِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى الْمَدَنِيّ،
بشر بن حکم نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا اور (اسی طرح) یحییٰ نے موسیٰ بن دینار کو بھی ضعیف قرار دیا (اور) کہا: اس کی (بیان کردہ) حدیث ہوا (جیسی) ہے اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ مدنی کو (بھی) ضعیف قرار دیا۔ کہا: اور میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا: تم جب جریر کے پاس پہنچو تو تین (راویوں) کی احادیث کے سوا اس کا سارا علم لکھ لینا۔ عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی احادیث اس سے نہ لکھنا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
بشر بن حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا، اور یحییٰ بن موسیٰ کی تضعیف کی اور فرمایا: اس کی حدیث «رِيحٌ» ہوا ہے، یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور انہوں نے موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ ابی عیسیٰ مدنی کو بھی ضعیف قرار دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92B2
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ: مَا ذَكَرْنَا مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ، عَنْ مَعَايِبِهِمْ كَثِيرٌ يَطُولُ الْكِتَابُ بِذِكْرِهِ، عَلَى اسْتِقْصَائِهِ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ، وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ، فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِكَ، وَبَيَّنُوا
امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسی کے مانند ہے جو ہم نے متہم راویوں کے بارے میں اہل حدیث کا کلام ذکر کیا ہے اور ان کے عیوب بہت زیادہ ہیں جن کے بیان کرنے سے کتاب لمبی ہو جائے گی اور جس قدر ہم نے بیان کر دیا ہے، وہ اس شخص کے لیے کافی ہے جو اس قوم کا مذہب سمجھ بوجھ جائے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B2]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں