صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب التشديد في النياحة:
باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 935 ترقیم شاملہ: -- 2161
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ ".
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عمرہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل (شہادت) ہونے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس طرح) مسجد میں (بیٹھے کہ آپ) کے چہرہ انور پر غم کا پتا چل رہا تھا۔ کہا: میں دروازے کی جھری۔۔۔ دروازے کی درز۔۔۔ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! جعفر (کے خاندان) کی عورتیں۔۔۔“ اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا، آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ چلا گیا، وہ (دوبارہ) آپ کے پاس آیا اور بتایا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی، آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ گیا اور پھر (تیسری بار) آپ کے پاس آکر کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! وہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔“ کہا: ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: ”اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! نہ تم وہ کام کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے (بار بار بتا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف (دینا) ترک کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2161]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر پہنچی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غم کے آثار محسوس ہو رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑ سے دیکھ رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جا کر انہیں روکو۔“ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا کہ وہ اس کی بات نہیں مان رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ ”جاؤ جا کر انہیں منع کرو۔“ وہ گیا اور پھر آ کر کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ہم پر غالب آ گئی ہیں (بات نہیں مان رہی ہیں۔)“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کلامی کی: ”اللہ تعالیٰ تیری ناک خاک آلود کرے (تمہیں ذلیل و خوار کرے)! اللہ کی قسم! تم وہ کام نہیں کر سکتے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار بتا کر) آپ کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 935 ترقیم شاملہ: -- 2162
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِيِّ ".
عبداللہ بن نمیر، معاویہ بن صالح اور عبدالعزیز بن مسلم نے یحییٰ بن سعید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور عبدالعزیز کی حدیث میں ہے: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2162]
امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کی ہے، جس میں ایک راوی عبدالعزیز «مِنَ الْعَنَاءِ» ”من العناء“ کی بجائے «مِنَ الْعَيِّ» ”من العی“ کہتا ہے، معنی ایک ہی ہے (”عناء“ مشقت اور تکان کو کہتے ہیں اور ”عی“ کا معنی بھی یہی ہے یعنی ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اور تھکاوٹ میں ڈالنے سے باز نہیں آئے۔“) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة