صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة عليه:
باب: قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 971 ترقیم شاملہ: -- 2248
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ "،
جریری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی انگارے پر (اس طرح) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2248]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی انگارے پر (اس طرح) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 971 ترقیم شاملہ: -- 2249
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبدالعزیز اور سفیان دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2249]
”امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے دو دوسرے اساتذہ سے بھی، اس سند سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة