صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب جواز الاخذ بغير سؤال ولا تطلع
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2405
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا: کسی ایسے آدمی کو عنایت فرما دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کر دیا تو میں نے عرض کی: کسی ایسے فرد کو عطا کر دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور ایسا جو مال تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2405]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے کچھ عطا فرماتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے آدمی کو دیجیے جس کو مجھ سے اس کی زیادہ ضرورت ہو!“ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مجھے بہت سارا مال دیا تو میں نے عرض کیا: ”کسی ایسے فرد کو دیجیے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور جو مال تمھیں اس طرح ملے کہ نہ تو تم نے اس کے لیے دل میں چاہت اور طمع کی اور نہ ہی تم نے سوال کیا تو اس کو لے لیا کرو۔ اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کی طرف توجہ یا اس کا خیال دل میں نہ لاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2406
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض کیا کرتے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو دیجیے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لیجیے اور اسے اپنا مال بنا لیجیے یا اس صدقہ کو دیجیے (اور اپنا اصول بنا لو) جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے دل میں اس کی چاہت اور طمع نہیں کی اور نہ ہی اس کا سوال کیا، تو اس کو لے لیجیے اور جو مال اس طرح نہ ملے، اس کا دل میں خیال نہ لاؤ۔“ سالم بیان کرتے ہیں: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے اور جو چیز ملتی تھی، اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2407
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2407]
”امام صاحب ایک دوسری سند سے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ "،
لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقے (کی وصولی) کے لئے عامل مقرر کیا، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں (وصول کردہ) مال لا کر ادا کر دیا، تو انہوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کی: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی (رضا کی) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ابن الساعدی مالکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا، تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں صدقہ کا مال لا کر دے دیا، انہوں نے میرے کام کی مزدوری مجھے دینے کا حکم دیا تو میں نے عرض کیا: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی رضا کی خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے پاس ہے، تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے لے لو کیونکہ میں نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے کام کی مزدوری دینا چاہی تو میں نے بھی تمہارے والا جواب دیا (تمہارے والی بات کہی) تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں بغیر مانگے کوئی چیز دی جائے تو اسے استعمال کرو (اور چاہو تو) صدقہ کر دو۔““ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2409
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن سعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل بنایا۔۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ابن الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا“ اور انہوں نے لیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة