صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب غلظ تحريم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار وانه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة:
باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 109 ترقیم شاملہ: -- 300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا، فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ".
وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے آپ کو لوہے (کے ہتھیار) سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہے گا، اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں اسے گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرتا رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 300]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے آپ کو لوہے (کے ہتھیار) سے قتل کیا تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا، آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اس کو اپنے پیٹ میں گھونپے گا۔ جس نے زہر پی کر خود کشی کی وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اس کو گھونٹ گھونٹ کر پیے گا۔ اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 109
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الطب، باب: ما جاء فيمن قتل نفسه بسم او غيره:وقال هذا حديث حسن صحيح - بعد حديث (2044) وابن ماجه في ((سننه)) في الطب، باب: النهي عن الدواء الخبيث مختصرا برقم (3460) انظر ((التحفة)) برقم (12466)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 109 ترقیم شاملہ: -- 301
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَان.
جریر، عبثر بن قاسم اور شعبہ سے بھی، سابقہ سند کے ساتھ، مذکورہ بالا روایت بیان کی گئی ہے۔ شعبہ کی روایت میں ہے: سلیمان (اعمش) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے سنا، (انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اپنے سماع کی وضاحت کی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 301]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ (سلیمان، اعمش رحمہ اللہ کا نام ہے اور ذکوان ابو صالح رحمہ اللہ کا) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 109
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الطب، باب: شرب السم والدواء وبما يخاف منه والخبيث برقم (5442) والترمذي في ((جامعه)) في الطب، باب: ما جاء فيمن قتل نفسه بسم او غيره برقم (2044) والنسائي في ((المجتبى)) 67/4 في الجنائز، باب: ترك الصلاة على من قتل نفسه - انظر ((التحفة)) برقم (12394)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة