صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نكاح المتعة وبيان انه ابيح ثم نسخ ثم ابيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة:
باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3410
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حدثنا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، وَابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا، عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سورة المائدة آية 87 "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا: میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے قیس سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے (آپ سے) دریافت کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے (یا ضرورت کی کسی اور چیز) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (یہ آیت) تلاوت کی: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ» ”اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3410]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ بیویاں نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے عرض کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورت سے ایک کپڑے کے عوض ایک مدت مقررہ تک کے لیے نکاحِ متعہ کی اجازت دی، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اے ایمان والو! نہ حرام ٹھہراؤ ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال ٹھہرائی ہیں، اور نہ حدود سے تجاوز کرو، یقیناً اللہ حدود توڑنے والوں کو پسند نہیں فرماتا﴾ [سورة المائدة: 87] ۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3411
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ: قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ،
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا: ”پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی۔“ انہوں نے (نام لے کر ”عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھی“ نہیں کہا)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3411]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں «قَرَأَ عَبْدُاللَّهِ» ”عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھا“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3412
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْتَخْصِي، وَلَمْ يَقُلْ: نَغْزُو.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا: ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو (ہم جہاد کرتے تھے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «كُنَّا» ”ہم تھے“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة