🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ عَمْرٌو , سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ:" أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ" , وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الْأَعْمَشُ , سَمِعَ سَالِمًا , سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4154]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم تمام اہل زمین سے افضل ہو۔ ہم اس وقت چودہ سو (1400) افراد تھے۔ انہوں نے کہا: اگر میں آج بینا ہوتا تو تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا (جس کے نیچے بیعت ہوئی تھی)۔ اعمش نے سفیان بن عیینہ کی متابعت کی ہے کہ واقعی ان کی تعداد چودہ سو (1400) تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ، لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چھاگل میں رکھ دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3576]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھی، جس سے آپ نے وضو فرمایا۔ لوگ جلدی جلدی پانی لینے کے لیے آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کریں بلکہ پینے کے لیے بھی پانی نہیں ہے، صرف اسی قدر پانی کی مقدار ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے اس چھاگل پر اپنا دست مبارک رکھ دیا تو آپ کی انگلیوں سے پانی ایسے پھوٹ کر بہنے لگا جیسے چشموں سے ابل کر نکلتا ہے۔ چنانچہ ہم سب نے وہ پانی پیا اور اس سے وضو بھی کیا۔ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ اس وقت کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہمیں یہ پانی کافی ہوتا، تاہم اس وقت بھی پندرہ سو آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں