صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
89. باب في قوله تعالى: {وانذر عشيرتك الاقربين}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
ترقیم عبدالباقی: 206 ترقیم شاملہ: -- 504
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "،
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے صفیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! مجھ سے (میرے مال میں سے) جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 504]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ شعراء کی آیت ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو (ایمان لا کر نیک اعمال کر لو)، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، اے عبدالمطلب کے بیٹے عباس رضی اللہ عنہ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا! میں تم سے اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا! مجھ سے جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 504]
ترقیم فوادعبدالباقی: 206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في (صحيحه) في الوصايا، باب: هل يدخل النساء والولد في الاقارب برقم (2753) تعليقا - وفي التفسير، باب: ﴿ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ برقم (4771) ايضا معلقا وأخرجه النسائي في ((المجتبي)) في الوصايا، باب اذا اوصي لعشيرته الأقربين 248/6 - انظر ((التحفة)) برقم (15328)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 206 ترقیم شاملہ: -- 505
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.
ایک اور سند سے اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 505]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 505]
ترقیم فوادعبدالباقی: 206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13660)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة