صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب إكرام الضيف وفضل إيثاره:
باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
ترقیم عبدالباقی: 2054 ترقیم شاملہ: -- 5359
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، فَقَالَ: " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ؟ "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟، قَالَتْ: لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، قَالَ: فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ، قَالَ: فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ ".
جریر بن عبدالحمید نے فضیل بن غزوان سے، انہوں نے ابوحازم اشجعی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے (کھانے پینے کی) بڑی تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے۔“ تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا (راوی) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا (یعنی خوش ہوا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5359]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: میں بھوکا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کے پاس پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی یہی بات کہی، حتی کہ ان سب نے یہی جواب دیا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میرے پاس صرف پانی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آج رات اس کی مہمان نوازی کرے گا، اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔“ تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: میں، اے اللہ کے رسول! وہ اس کو لے کر اپنے گھر چلا گیا اور اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے میرے بچوں کی خوراک کے، اس نے کہا: انہیں کسی چیز سے بہلا دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ گل کر دینا اور اسے یوں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں، تو جب وہ کھانے کے لیے بڑھے تو اٹھ کر چراغ بجھا دینا، سو وہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھا لیا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات تم نے اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا، اللہ تعالیٰ اس پر بہت خوش ہوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2054 ترقیم شاملہ: -- 5360
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: " نَوِّمِي الصِّبْيَةَ وَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 ".
وکیع نے فضیل بن غزوان سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا، بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور جو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کر دو، تب یہ آیت نازل ہوئی: ”وَیُؤْثِرُونَ عَلَیٰ أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ“ وہ (دوسروں کو) خود پر ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں سخت احتیاج لاحق ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5360]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی ایک انصاری کا رات کو مہمان بنا اور اس کے پاس اپنے اور بچوں کی خوراک کے سوا کچھ نہ تھا تو اس نے اپنی بیوی کو کہا، بچوں کو سلا دے اور چراغ گل کر دے اور جو کچھ تیرے پاس ہے، وہ مہمان کو پیش کر دے، اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ”وہ اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود فاقہ سے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2054 ترقیم شاملہ: -- 5361
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ، فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ.
ابن فضیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کے لیے کچھ بھی نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص ہے جو اس کو مہمان بنائے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے!“ انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہو گئے، انہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، وہ اس (مہمان) کو اپنے گھر لے گئے، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی، انہوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5361]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مہمان نوازی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص ہے، جو اس کی مہمان نوازی کرے، «رَحِمَهُ اللَّهُ» ”اللہ اس پر رحم فرمائے۔““ تو ایک انصاری ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ) نامی کھڑا ہوا اور اسے اپنے گھر لے گیا اور آگے جریر کی طرح حدیث بیان کی اور وکیع کی طرح آیت کے اترنے کا تذکرہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة