صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء وخاتم الذهب والحرير على الرجل وإباحته للنساء وإباحة العلم ونحوه للرجل ما لم يزد على اربع اصابع:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5388
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
ابوخیثمہ زہیر نے کہا: ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے ساتھ شریک ہونے، چھینک کا جواب دینے، (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے، انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن میں (کھانے) پینے، ارغوانی (سرخ) گدوں سے (اگر وہ ریشم کے ہوں)، مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں (جو ریشم کے ہوتے تھے۔) اور (کسی بھی قسم کے) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا (استبراق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک۔) [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5388]
معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کرتے ہیں کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ کہتے سنا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار پرسی، جنازہ کے ساتھ جانے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم پوری کرنے یا قسم دینے والے کی بات پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور ہمیں انگوٹھیوں یا سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ریشمی گدوں پر بیٹھنے، قسی، ریشم، استبرق اور دیباج پہننے سے منع فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5389
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ.
ابوعوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی، سوائے ”اپنی قسم یا قسم دینے والے (کی قسم)“ کے الفاظ کے، انہوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا: اور اس کے بجائے گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5389]
امام صاحب ایک اور استاد سے اشعث بن سلیم ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں قسم کو پورا کرنے یا قسم دینے والے کی تصدیق کرنے کا ذکر نہیں ہے اور اس کی جگہ گم شدہ چیز کے اعلان کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5390
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ: مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ.
علی بن مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا: ”اور چاندی (کے برتن) میں پینے سے (منع کیا) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5390]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے زہیر کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں بغیر شک کے قسم پوری کرنے کا ذکر کرتے ہیں اور حدیث میں یہ اضافہ کرتے ہیں: ”چاندی کے برتن میں پانی پینے سے، کیونکہ جو اس میں دنیا میں پیے گا، آخرت میں نہیں پی سکے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5391
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ادریس نے کہا: ہمیں ابواسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5391]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ابوکریب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں جریر اور ابن مسہر رحمہما اللہ والا اضافہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5392
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ.
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، سوائے ان کے روایت کردہ الفاظ: ”سلام عام کرنے“ کے بجائے کہا: ”اور سلام کا جواب دینے“ اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5392]
اور یہی روایت پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں اسلام عام کرنے کی جگہ سلام کا جواب دینا بیان کیا ہے، اور کہا ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے چھلے سے منع فرمایا۔“ اور امام صاحب پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5393
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر ”سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5393]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں شک کے بغیر بیان کیا ہے: ”سلام کو عام کرنا اور سونے کی انگوٹھی پہننا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة