سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: طہارت کے مسائل
Purification (Kitab Al-Taharah)
4. باب كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ
4. باب: قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے۔
Chapter: It Is Dislikes To Face The Qiblah While Relieving Oneself.
حدیث نمبر: 9
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب رواية، قال:" إذا اتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط ولا بول ولكن شرقوا او غربوا، فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت قبل القبلة، فكنا ننحرف عنها ونستغفر الله".
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رِوَايَةً، قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا، فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَكُنَّا نَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف رخ کر لیا کرو ۱؎، (ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) پھر ہم ملک شام آئے تو وہاں ہمیں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ملے، تو ہم پاخانہ و پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لیتے تھے، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے۔
16543 - D 9 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطھارة 17 (264)، سنن الترمذی/الطھارة 6 (8)، سنن النسائی/الطھارة 20 (21)، 21 (22)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 17 (318)، (تحفة الأشراف: 3478)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 1 (1)، مسند احمد (5/416، 417، 421)، سنن الدارمی/الطھارة 6 (692) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اہل مدینہ کا قبلہ مدینہ سے جنوبی سمت میں واقع ہے، اسی کا لحاظ کرتے ہوئے اہل مدینہ کو مشرق یا مغرب کی جانب منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور جن کا قبلہ مشرق یا مغرب کی طرف ہے ایسے لوگ قضائے حاجت کے وقت شمال یا جنوب کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے بیٹھیں گے۔

Narrated Abu Ayyub: That he (the Holy Prophet, sal Allahu alayhi wa sallam) said: "When you go to the privy, neither turn your face nor your back towards the qiblah at the time of excretion or urination, but turn towards the east or the west. (Abu Ayyub said): When we came to Syria, we found that the toilets already built there were facing the qiblah, We turned our faces away from them and begged pardon of Allaah.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 9



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 7
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، قال: قيل له: لقد علمكم نبيكم كل شيء حتى الخراءة، قال: اجل، لقد" نهانا صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة بغائط او بول، وان لا نستنجي باليمين، وان لا يستنجي احدنا باقل من ثلاثة احجار، او نستنجي برجيع او عظم".
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: لَقَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ، لَقَدْ" نَهَانَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَأَنْ لا نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، وَأَنْ لا يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے (بطور استہزاء) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی، تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں، بیشک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
16541 - D 7 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 17 (262)، سنن الترمذی/الطھارة 12 (16)، سنن النسائی/الطھارة 37 (41)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (316)، (تحفة الأشراف: 4505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/437، 438، 439) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Salman al-Farsi: It was said to Salman: Your Prophet teaches you everything, even about excrement. He replied: Yes. He has forbidden us to face the qiblah at the time of easing or urinating, and cleansing with right hand, and cleansing with less than three stones, or cleansing with dung or bone.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 7



قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 8
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن المبارك، عن محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما انا لكم بمنزلة الوالد، اعلمكم، فإذا اتى احدكم الغائط، فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها ولا يستطب بيمينه، وكان يامر بثلاثة احجار وينهى عن الروث والرمة".
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لوگو!) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں، تم کو (ہر چیز) سکھاتا ہوں، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور نہ (ہی) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (استنجاء کے لیے) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے۔
16542 - D 8 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 36 (40)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (313)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 250) (حسن)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ as saying: I am like father to you. When any of you goes to privy, he should not face or turn his back towards the qiblah. He should not cleanse with his right hand. He (the Prophet, ﷺ) also commanded the Muslims to use three stones and forbade them to use dung or decayed bone.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 8



قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 10
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابي زيد، عن معقل بن ابي معقل الاسدي، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غائط"، قال ابو داود: وابو زيد هو مولى بني ثعلبة.
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَبُو زَيْدٍ هُوَ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ.
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں۔
16544 - D 10 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 17 (319)، (تحفة الأشراف: 11463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (منکر)» ‏‏‏‏ (سند میں واقع راوی ”ابوزید“ مجہول ہے، نیز اس نے ”قبلتین“ کہہ کر ثقات کی مخالفت کی ہے)

Narrated Maqil ibn Abu Maqil al-Asadi: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden us to face the two qiblahs at the time of urination or excretion.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 10



قال الشيخ الألباني: منكر

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده ضعيف / جه 319
قال البوصيري في زوائد ابن ماجه: ”أبو زيد مجهول الحال فلحديث ضعيف به“ و ضعفه الحافظ في فتح الباري (246/1)
حدیث نمبر: 13
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، قال: سمعت محمد بن إسحاق، يحدث، عن ابان بن صالح، عن مجاهد،عن جابر بن عبد الله، قال:" نهى نبي الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة ببول، فرايته قبل ان يقبض بعام يستقبلها".
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، (لیکن) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت کی حالت میں) قبلہ رو دیکھا ۱؎۔
16547 - D 13 - U

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 7 (9)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 18 (325)، (تحفة الأشراف: 2574) (حسن)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: گویا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ وہم تھا کہ ممانعت عام تھی، صحراء اور آباد علاقہ دونوں کو شامل تھی، اسی وجہ سے آپ نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل سے یہ نہی (ممانعت) منسوخ ہو گئی۔

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet of Allah ﷺ forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 13



قال الشيخ الألباني: حسن