الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


سنن نسائي کل احادیث (5761)
حدیث نمبر سے تلاش:


سنن نسائي
كتاب الأشربة
کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
16. بَابُ: التَّرَخُّصِ فِي انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَحْدَهُ
16. باب: صرف سوکھی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5571
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْلَطَ بُسْرٌ بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٌ بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٌ بِبُسْرٍ" , وَقَالَ:" مَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُ فَرْدًا تَمْرًا فَرْدًا، أَوْ بُسْرًا فَرْدًا، أَوْ زَبِيبًا فَرْدًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھ کچی کھجور کو سوکھی کھجور میں ملانے، یا کشمش (خشک انگور) کو سوکھی کھجور میں، یا کشمش کو ادھ کچی کھجور میں ملانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: جو شخص تم میں سے پینا چاہے تو ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پیے، سوکھی کھجور الگ یا ادھ کچی کھجور الگ یا کشمش (خشک انگور) الگ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، (تحفة الأشراف: 4254) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

حدیث نمبر: 5572
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُخْلَطَ بُسْرًا بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبًا بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبًا بِبُسْرٍ"، وَقَالَ:" مَنْ شَرِبَ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُ فَرْدًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ اسْمُهُ عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھ کچی کو سوکھی کھجور میں ملانے یا کشمش (خشک انگور) کو سوکھی کھجور میں یا کشمش کو ادھ کچی کھجور میں ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا: تم میں سے جو کوئی پینا چاہے تو ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ کر کے پئے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوالمتوکل کا نام علی بن داود ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5572]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن