الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


سنن دارمي کل احادیث (3535)
حدیث نمبر سے تلاش:


سنن دارمي
من كتاب الصللاة
نماز کے مسائل
159. باب النَّهْيِ أَنْ يُسْجَدَ لأَحَدٍ:
159. کسی کے لئے سجدہ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1502
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: "لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقِّهِمْ".
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حیرہ (کوفے کا ایک شہر) گیا تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجده کرتے ہیں، (واپس آ کر) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لئے سجدہ نہ کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں سے کہتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس سبب کی وجہ سے جو مردوں کا حق عورتوں پر الله تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1504] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2140] ، [بيهقي 291/7] ، [ابن حبان 4171] ، [موارد الظمآن 1290]

حدیث نمبر: 1503
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فَلِأَسْجُدَ لَكَ. قَالَ: "لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدُ لِزَوْجِهَا".
ابوبریدہ نے روایت کیا، ان کے والد نے کہا: ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی شخص کو کسی کا سجده کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1505] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور اس کو امام حاکم نے [المستدرك 172/4] میں ذکر کیا ہے۔ لیکن دیگر شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے، جیسا کہ اوپر تخریجِ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔

وضاحت: (تشریح احادیث 1501 سے 1503)
یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنا یا کسی اور کا سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کے سجدے سے روکا اور اللہ کے سامنے سجدے کی دعوت دی، اس لئے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، شمس و قمر، حجر و شجر کسی کے سامنے جھکنا، اس کا سجدہ کرنا جائز نہیں، بلکہ یہی شرکِ اکبر ہے جس کو مٹانے کے لئے پیغمبرِ اسلام مبعوث کئے گئے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏﴿لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلّٰهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ﴾ [حم السجده: 37] » تم شمس و قمر کو سجدہ نہ کرو بلکہ سجدہ اس ذات پاک کو کرو جس نے انہیں پیدا فرمایا۔
دوسری آیت میں ہے: «﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ...﴾ [الحج: 18] » کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ اللہ کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں سب آسمان والے اور سب زمینوں والے، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور بہت سے انسان بھی، اور بہت سے وہ لوگ بھی جن پر عذاب ثابت ہو چکا .....، یعنی ساری ہی کائنات اللہ کے حضور سجدہ ریز ہے پھر انسان کیوں ان کے لئے سجدہ کرے جو خود الله تعالیٰ کا سجدہ کرتے ہیں۔