الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


مشكوة المصابيح کل احادیث (6294)
حدیث نمبر سے تلاش:


مشكوة المصابيح
كتاب الفضائل والشمائل
كتاب الفضائل والشمائل
--. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام
حدیث نمبر: 5895
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أكره فَأَتَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» . فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صِرْتُ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٍ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَسمعت خضخضة المَاء قَالَ فَاغْتَسَلَتْ فَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتِ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرح فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ خيرا. رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں اپنی مشرکہ والدہ کو اسلام کی دعوت پیش کرتا تھا، ایک روز میں نے اسے دعوت پیش کی تو اس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان میں کچھ ایسے الفاظ کہے جو مجھے ناگوار گزرے، میں روتا ہوا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب فرما دے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما۔ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا پر خوش ہوتا ہوا وہاں سے چلا، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا، میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر فرمایا: ابوہریرہ! اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ، میں نے پانی گرنے کی آواز سن لی تھی، انہوں نے غسل کیا، اپنی قمیص پہنی، اور عجلت میں چادر بھی نہ لی اور دروازہ کھول کر فرمایا: ابوہریرہ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں خوشی کے آنسو بہاتا ہوا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5895]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (158/ 2491)»

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح