الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


مختصر صحيح بخاري کل احادیث (2230)
حدیث نمبر سے تلاش:

مختصر صحيح بخاري
تہجد کی نماز کا بیان
1. رات کے وقت نماز تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 590
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: اے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے لیے ہے، تو مدبر ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں اور تیری ہی تعریف ہے، تو نور ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں اور تیری ہی تعریف ہے، تو بادشاہ ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں اور تیری ہی تعریف ہے، تو سچا ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا ملنا برحق ہے اور تیری بات سچی ہے اور جنت و دوزخ برحق ہے اور کل پیغمبر برحق ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا فرمانبردار ہوں اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے مخالفین کے ساتھ جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی کو حاکم بناتا ہوں تو میرے اگلے پچھلے، ظاہر پوشیدہ گناہوں کو معاف فرما دے، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔ یا فرمایا: تیرے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 590]
2. نماز شب یعنی تہجد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 591
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جو شخص کوئی خواب دیکھتا تھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا تھا تو مجھے بھی آرزو ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں اور میں نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد میں سویا کرتا تھا چنانچہ میں نے (ایک دن) خواب میں دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہے اور مجھے دوزخ کی طرف لے گئے تو یکایک (میں دیکھتا ہوں کہ) وہ ایسی پیچ دار بنی ہوئی ہے جیسے کنواں اور اس کے دو کھمبے ہیں۔ اس میں کچھ لوگ ہیں جن کو میں نے پہچان لیا۔ پس میں کہنے لگا کہ دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ تم ڈرو نہیں۔ اس خواب کو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا (جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ہمیشرہ تھیں) سے بیان کیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ کیا ہی اچھا آدمی ہے، کاش! تہجد پڑھتا ہوتا۔ تو اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت کم سوتے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 591]
3. مریض کے لیے قیام اللیل (تہجد) کے چھوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 592
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ایک رات یا دو رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کے لیے) نہیں اٹھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 592]
4. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہجد اور نوافل کی ترغیب دینا بغیر اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو واجب کریں۔
حدیث نمبر: 593
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شب ان کے اور سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا بنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم دونوں نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری جانیں تو اللہ کے اختیار میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے جاتے تھے اور یہ فرما رہے تھے: اور انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 593]
حدیث نمبر: 594
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام، حالانکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہوتا تھا اس خوف سے ترک کر دیتے تھے کہ لوگ اس پر عمل کریں گے اور وہ کہیں ان پر فرض نہ کر دیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت کبھی نہیں پڑھی اور میں اسے پڑھتی ہوں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 594]
5. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کو اس قدر نماز پڑھنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے۔
حدیث نمبر: 595
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر قیام فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں یا (یہ کہا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیوں پر ورم آ جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا تھا (کہ اس قدر عبادت شاقہ نہ کیجئیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرماتے تھے: کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 595]
6. جو شخص اخیر رات کو سوتا رہا۔
حدیث نمبر: 596
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو تمام نمازوں سے زیادہ پسند داؤد علیہ السلام کی نماز جیسی نماز ہے اور تمام روزوں میں زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو داؤد علیہ السلام کے روزے جیسا روزہ ہے اور وہ نصب شب سوتے تھے اور تہائی رات میں نماز پڑھتے تھے اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سو رہتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 596]
حدیث نمبر: 597
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو عمل ہمیشہ کیا جا سکے (وہ عمل) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کو) کس وقت اٹھتے تھے؟ انہوں نے کہا اس وقت اٹھتے تھے جب مرغ کی آواز سن لیتے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 597]
حدیث نمبر: 598
ایک روایت میں ہے (اشعث کہتے ہیں) کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرغ کی آواز سن لیتے تھے اس وقت نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 598]
حدیث نمبر: 599
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک دوسری روایت میں کہتی ہیں کہ میں نے اخیر شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس سوتے ہوئے ہی پایا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 599]

1    2    3    Next