الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


صحيح مسلم کل احادیث (7563)
حدیث نمبر سے تلاش:

صحيح مسلم
كِتَاب الْقَسَامَةِ
قسموں کا بیان
حدیث نمبر: 4284
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ ".
یزید بن ہارون نے ہشیم سے، انہوں نے عباد بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قسم، حلف لینے والے کی نیت کے مطابق ہو گی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم میں قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہے۔
5. باب الاِسْتِثْنَاءِ:
5. باب: قسم میں ان شاء اللہ کہنا۔
حدیث نمبر: 4285
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً، فَقَالَ: لَأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَتَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ، فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ اسْتَثْنَى لَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
محمد (بن سیرین) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں، انہوں نے کہا: (واللہ) آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا تو ان میں سے ہر بیوی حاملہ ہو گی اور ہر بیوی (ایک شہسوار) بچے کو جنم دے گی، جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا۔ تو ایک کے سوا ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ادھورے (ناقص الخلقت) بچے کو جنم دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو ان میں سے ہر بیوی شہسوار بچے کو جنم دیتی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں، تو انہوں نے کہا، آج رات میں سب کے ہاں جاؤں گا، اور ان میں سے ہر ایک کو حمل ٹھہرے گا، اور ان میں سے ہر ایک شاہسوار جوان جنے گی، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا تو ان میں سے صرف ایک کو حمل ٹھہرا اور ادھرنگ بچہ پیدا ہوا، یعنی ناقص الخلقت انسان پیدا ہوا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ان میں سے ہر ایک شاہسوار جوان جنتی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔
حدیث نمبر: 4286
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ: صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَوَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ "،
ہشام بن حجیر نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: "اللہ کے نبی سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: (واللہ) آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا، وہ سب ایک ایک بچے کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا۔تو ان سے ان کے کسی ساتھی یا فرشتے نے کہا: ان شاءاللہ کہیں۔ انہوں نے نہ کہا، انہیں بھلا دیا گیا، ان کی عورتوں میں سے ایک عورت کے سوا کسی نے بچے کو جنم نہ دیا، اس نے بھی ادھورے بچے کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ (قسم) ان کی ضرورت (اپنی اولاد کے ذریعے سے جہاد فی سبیل اللہ) کی تکمیل کا سبب بھی بن جاتی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا: میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر ایک ایسا جوان جنے گی، جو اللہ کی راہ میں جنگ لڑے گا، تو انہیں ان کے ساتھی یا فرشتہ نے کہا، ان شاءاللہ کہہ لیجئے، وہ نہ کہہ سکے بھول گئے، ان میں سے کسی بیوی نے بھی بچہ نہ جنا، سوائے ایک کے، اس نے ادھ رنگ بچہ جنا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے، قسم میں حانث نہ ہوتے اور اپنے مقصد کو بھی ضرور پا لیتے۔
حدیث نمبر: 4287
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند یا اسی کے ہم معنی روایت بیان کی
امام صاحب ایک اور سند سے بھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کی مثل یا اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4288
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقِيلَ لَهُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ، فَأَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ ".
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: آج رات میں ستر عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا، ان میں سے ہر عورت (بیوی یا کنیز) ایک بچے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا۔ تو ان سے کہا گیا: ان شاءاللہ کہئے۔ انہوں نے نہ کہا (انہیں بھلا دیا گیا)۔ وہ ان کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے ادھے انسان کو جنم دیا۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ (قسم) ان کے دل کی حاجت پوری ہونے کا ذریعہ بھی بن جاتی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا، میں آج رات ستر (70) بیویوں سے مباشرت کروں گا، ان میں سے ہر ایک جوان جنے گی، وہ اللہ کی راہ میں لڑے گا، تو ان سے کہا گیا، ان شاءاللہ کہہ لیجئے، تو وہ نہ کہہ سکے، سب بیویوں کے پاس گئے، ان میں ایک کے سوا کسی نے بچہ نہ جنا، وہ بھی ادھورا انسان تھا، ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے، تو حانث نہ ہوتے، اور اپنی حاجت و ضرورت کو بھی پا لیتے۔
حدیث نمبر: 4289
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَجَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ "،
ورقاء نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: "حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک شہسوار بچے کو جنم دے گی جو (بڑا ہو کر) اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا۔ تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ کہیں۔ انہوں نے ان شاءاللہ نہ کہا۔ وہ ان سب کے پاس گئے تو ان میں سے ایک عورت کے سوا کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی آدھے بچے کو جنم دیا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر وہ ان شاءاللہ کہہ دیتے تو وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے کہا، اللہ کی قسم! میں آج رات نوے (90) بیویوں کے پاس جاؤں گا، ہر ایک شہسوار جنے گی، وہ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لے گا، تو ان کے ساتھی نے کہا، ان شاءاللہ کہہ لیجئے، تو وہ ان سب کے پاس گئے، اور ان میں صرف ایک کو حمل ٹھہرا اور ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو وہ سب شہسوار بن کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔
حدیث نمبر: 4290
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
موسیٰ بن عقبہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: "ان میں سے ہر ایک کے حمل میں ایسا بچہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے، ابو الزناد ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک کو بچہ کا حمل ٹھہرتا، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔
6. باب النَّهْيِ عَنِ الإِصْرَارِ عَلَى الْيَمِينِ فِيمَا يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ الْحَالِفِ مِمَّا لَيْسَ بِحَرَامٍ:
6. باب: جب قسم سے گھر والوں کا نقصان ہو تو قسم نہ توڑنا منع ہے بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ تھی: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں اپنی قسم پر اصرار کرنا اس کے لیے اللہ کے ہاں اس سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اس قسم کے لیے اللہ کا مقرر کردہ کفارہ دے۔" (اور اسے توڑ کر درست کام کرے اور گھر والوں کو آرام پہنچائے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے کسی ایک کا اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کھا کر اس پر جم جانا یا اصرار کرنا، اللہ کے ہاں اس کے لیے اس سے زیادہ گناہ کا سبب ہے کہ وہ اس کا وہ کفارہ ادا کرے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔
7. باب نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ:
7. باب: کافر کفر کی حالت میں کوئی نذر مانے پھر مسلمان ہو جائے۔
حدیث نمبر: 4292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ: فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ "،
یحییٰ بن سعید قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنی نذر پوری کرو
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے دور میں مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف بیٹھنے کی نذر مانی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔
حدیث نمبر: 4293
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وقَالَ حَفْصٌ: مِنْ بَيْنِهِمْ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَالثَّقَفِيُّ، فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِكَافُ لَيْلَةٍ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقَالَ: جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِكْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ.
ابواسامہ، عبدالوہاب ثقفی، حفص بن غیاث اور شعبہ، ان سب نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان میں سے حفص نے کہا: (یہ حدیث) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ابواسامہ اور ثقفی کی حدیث میں ایک رات اعتکاف کرنے کا تذکرہ ہے اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: دن کے اعتکاف کی نذر مانی۔ حفص کی حدیث میں دن یا رات کا ذکر نہیں ہے
امام صاحب اپنے چھ اساتذہ کی چار سندوں سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، ان راویوں میں سے حفص اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بتاتے ہیں، اور باقی راوی حضرت ابن عمر کی طرف منسوب کرتے ہیں، ابو اسامہ اور ثقفی کی روایت میں، رات کے اعتکاف کا تذکرہ ہے، اور شعبہ کی حدیث میں ہے، میں نے اپنے اوپر ایک دن کا اعتکاف لازم کیا تھا، اور حفص کی حدیث میں، دن یا رات کسی کا ذکر نہیں ہے۔

Previous    1    2    3    4    5    6    7    8    Next