صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب المؤمن امره كله خير:
باب: مومن کا معاملہ سارے کا سارا خیر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2999 ترقیم شاملہ: -- 7500
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ جَمِيعًا، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ".
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو (اللہ کی رضا کے لیے) صبر کرتا ہے، یہ (بھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7500]
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مومن کامعاملہ تعجب خیز ہے،اس کی ہرحالت،ہرمعاملہ خیر ہے،مومن کے سوا یہ شرف کسی کو حاصل نہیں ہے،اگر اسے مسرت وشادمانی حاصل ہوتی ہے،وہ شکر ادا کرتاہے،جو اس کے لیے خیر وخوبی کا باعث ہے اوراگراسے تنگی وترشی لاحق ہوتی ہے،صبرکرتا ہے،جو اسکے لیے خیر(اجروثواب) کا سبب بنتا ہے،" [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7500]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2999
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← صهيب الرومي