الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


الادب المفرد کل احادیث (1322)
حدیث نمبر سے تلاش:


الادب المفرد
كِتَابُ
كتاب
410. بَابُ الطِّيَرَةِ مِنَ الْجِنِّ
410. جن سے بدشگونی لینا
حدیث نمبر: 912
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ إِذَا وُلِدُوا، فَتَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ، فَأُتِيَتْ بِصَبِيٍّ، فَذَهَبَتْ تَضَعُ وِسَادَتَهُ، فَإِذَا تَحْتَ رَأْسِهِ مُوسَى، فَسَأَلَتْهُمْ عَنِ الْمُوسَى، فَقَالُوا‏:‏ نَجْعَلُهَا مِنَ الْجِنِّ، فَأَخَذَتِ الْمُوسَى فَرَمَتْ بِهَا، وَنَهَتْهُمْ عَنْهَا وَقَالَتْ‏:‏ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الطِّيَرَةَ وَيُبْغِضُهَا، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَنْهَى عَنْهَا‏.‏
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس نومولود بچے لائے جاتے تو وہ ان کے لیے برکت کی دعا کرتیں۔ ایک دفعہ ایک بچہ لایا گیا۔ وہ اس کا تکیہ رکھنے لگیں تو اس کے نیچے استرا تھا۔ انہوں نے استرے کے متعلق استفسار کیا تو ان لوگوں نے بتایا: ہم جنات سے بچاؤ کے لیے یہ رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استرا اٹھا کر پھینک دیا، اور انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدشگونی کو ناپسند کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے نفرت تھی۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس سے منع کرتی تھیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 669 و أبويعلى كما فى المطالب العالية: 191/11»

قال الشيخ الألباني: ضعيف