الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔


صحيح مسلم کل احادیث (7563)
حدیث نمبر سے تلاش:


صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
90. بَابُ تَرْغِيبِ النَّاسِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ
90. باب: فتوحات کے دور میں مدینہ منورہ میں رہنے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 3364
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شام فتح کرلیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔"
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام فتح ہو گا، تو مدینہ سے کچھ لوگ اپنے اہل و عیال کو لے کر اپنی سواریوں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے، حالانکہ مدینہ میں ان کے لیے رہنا بہتر ہو گا، اے کاش! وہ اس کو جانتے، پھر یمن فتح ہو گا، تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے متعلقین کو لے کر اپنی سواریوں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے، درآں حالیکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا، کاش وہ اس حقیقت کو جانتے، پھر عراق فتح ہو گا، تو کچھ لوگ اپنے اہل کو لے کر، سواریوں کو ہانکتے نکلیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا، کاش وہ سمجھتے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1388
حدیث نمبر: 3365
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا، کاش وہ جانتے ہوتے۔ پھر شام فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا، کاش وہ جانتے۔ پھر عراق فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا، کاش وہ جانتے۔
حضرت سفیان بن ابی زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یمن فتح کیا جائے گا تو کچھ لوگ سواریوں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے، اور اپنے اہل و عیال اور اپنے فرمانبردار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا، کاش وہ (اس کی خوبیوں اور برکات) کو جانتے پھر شام فتح کیا جائے گا، تو کچھ لوگ اس علاقہ کو مزیّن اور محبوب ٹھہراتے ہوئے لوگوں کو چلنے کی دعوت دیں گے، اور اپنے اہل اور اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ کی رہائش ان کے حق میں بہتر ہو گی، کاش وہ سمجھتے، پھر عراق مفتوح ہو گا، کچھ لوگ اس کی سرسبز و شادابی کی دعوت دیں گے، اور اپنے متعلقین اور اطاعت کیشوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ کی اقامت ان کے لیے بہتر ہو گی، کاش وہ اس کا ادراک کر سکتے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1388