24. باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه:
باب: رات کے آخر میں دعا کرنے اور ذکر کرنے کی ترغیب اور اس میں قبولیت کا ذکر۔
ترقیم عبدالباقی: 758 ترقیم شاملہ: -- 1774
حدثنا حدثنا إسحاق بن منصور، اخبرنا ابو المغيرة، حدثنا الاوزاعي، حدثنا يحيى، حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا مضى شطر الليل او ثلثاه، ينزل الله تبارك وتعالى إلى السماء الدنيا، فيقول: هل من سائل يعطى؟ هل من داع يستجاب له؟ هل من مستغفر يغفر له؟ حتى ينفجر الصبح ".
ابوبن سلمہ عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ اسے بخشا جائے حتیٰ کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1774]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر اترتے ہیں اور فرماتے ہیں: کیا کوئی سائل ہے کہ اسے دیا جائے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی بخشش کا طلب گار ہے کہ اسے بخشا جائے؟ حتیٰ کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔ یعنی صبح ہو جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة