24. باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه:
باب: رات کے آخر میں دعا کرنے اور ذکر کرنے کی ترغیب اور اس میں قبولیت کا ذکر۔
ترقیم عبدالباقی: 758 ترقیم شاملہ: -- 1775
حدثني حدثني حجاج بن الشاعر، حدثنا محاضر ابو المورع، حدثنا سعد بن سعيد، قال: اخبرني ابن مرجانة، قال: سمعت ابا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ينزل الله في السماء الدنيا لشطر الليل او لثلث الليل الآخر، فيقول: من يدعوني فاستجيب له؟ او يسالني فاعطيه "، ثم يقول: من يقرض غير عديم ولا ظلوم، قال مسلم ابن مرجانة هو سعيد بن عبد الله، ومرجانة امه،
محاضر ابومورع نے کہا: ہم سے سعد بن سعید (بن قیس انصاری) نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابن مرجانہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدھی رات یا رات کی آخری تہائی کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ یا مجھ سے سوال کرے، میں اسے عطا کروں؟ پھر فرما تا ہے: کون اس (ذات) کو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ حق مارنے والی ہے (اللہ تعالیٰ کو)؟“ امام مسلم نے کہا: ابن مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ (ابوالعثمان المدنی) ہیں اور مرجانہ ان کی والدہ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1775]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آدھی رات یا رات کے آخری تہائی حصے کے وقت آسمانِ دنیا پر اترتے ہیں اور فرماتے ہیں: کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں، یا مجھ سے سوال کرے گا میں اسے عنایت کروں؟ اور فرماتے ہیں: کون اس ذات کو قرض دے گا جو محتاج و فقیر نہیں ہے اور نہ حق مارنے والا ہے؟“ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابنِ مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ ہے اور مرجانہ ان کی ماں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة