60. باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها:
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 135 ترقیم شاملہ: -- 347
حدثني عبد الوارث بن عبد الصمد، قال: حدثني ابي، عن جدي، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يزال الناس يسالونكم عن العلم، حتى يقولوا: هذا الله خلقنا، فمن خلق الله؟ "، قال: وهو آخذ بيد رجل، فقال: صدق الله ورسوله، قد سالني اثنان وهذا الثالث، او قال: سالني واحد وهذا الثاني.
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 347]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے، یہ اللہ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟“ اور وہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے تو دو آدمی سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، یا کہا: مجھ سے ایک نے سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14442)»
حكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة