60. باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها:
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 135 ترقیم شاملہ: -- 349
وحدثني عبد الله بن الرومي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عكرمة وهو ابن عمار، حدثنا يحيى، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يزالون يسالونك يا ابا هريرة حتى يقولوا: " هذا الله، فمن خلق الله؟ "، قال: فبينا انا في المسجد، إذ جاءني ناس من الاعراب، فقالوا: يا ابا هريرة، هذا الله، فمن خلق الله؟ قال: فاخذ حصى بكفه فرماهم، ثم قال: قوموا قوموا، صدق خليلي.
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں گے: یہ (ہر چیز کا خالق) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر (ایک دفعہ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے: اے ابوہریرہ! یہ اللہ ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ (ابوسلمہ نے) کہا: تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا: اٹھو اٹھو! (یہاں سے جاؤ) میرے خلیل (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بالکل سچ فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 349]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ تجھ سے سوال کرتے رہیں گے اے ابو ہریرہ! یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں تھا کہ اچانک میرے پاس کچھ بدوی آئے اور کہنے لگے: اے ابو ہریرہ! یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو انھوں نے مٹھی میں کنکر لے کر پھینکے، پھر کہا: اٹھو اٹھو میرے خلیل نے سچ فرمایا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15403)»
حكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة