19. باب في الجهمية
باب: جہمیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4722
حدثنا محمد بن عمرو، اخبرنا سلمة يعني ابن الفضل، حدثني محمد يعني ابن إسحاق، حدثني عتبة بن مسلم مولى بني تيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: فذكر نحوه، قال:" فإذا قالوا ذلك فقولوا: الله احد {1} الله الصمد {2} لم يلد ولم يولد {3} ولم يكن له كفوا احد {4} سورة الإخلاص آية 1-4، ثم ليتفل عن يساره ثلاثا، وليستعذ من الشيطان".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4722]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، وہ فرماتے تھے، اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ لوگ یہ کہیں تو تم کہو: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۞ اللَّهُ الصَّمَدُ ۞ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۞ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1-4] اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی نہیں جو اس کی برابری کر سکے۔ پھر چاہیے کہ بائیں جانب کچھ لعاب تھوکے اور «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: « تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/ عمل الیوم واللیة (661)، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14978) (حسن) »
وضاحت: ۱؎: احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (75)