رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: ابو بكر ابي مريم الغساني 1950
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: شداد بن اوس الانصاري ( 3764 ) ، ضمرة بن حبيب الزبيدي ( 3978 ) ، ابو بكر بن ابي مريم الغساني ( 1950 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، عمرو بن عون السلمي ( 6177 ) ، عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ( 4900 ) ، ابو بكر بن ابي مريم الغساني ( 1950 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، سفيان بن وكيع الرؤاسي ( 3446 ) ، حدیث ۔۔۔ شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اور « من دان نفسہ » کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے ، ۳- عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں : اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے ، اور « عرض الأكبر » (آخرت کی پیشی) کے لیے تدبیر کرو ، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا ، ۴- میمون بن مہران کہتے ہیں : بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے ۔
Terms matched: 6  -  Score: 2253  -  4k
رواۃ الحدیث: معاذ بن جبل الانصاري ( 7547 ) ، عبد الله بن قيس الكندي ( 5019 ) ، يزيد بن قطيب السكوني ( 8471 ) ، الوليد بن سفيان الغساني ( 1778 ) ، ابو بكر بن ابي مريم الغساني ( 1950 ) ، الوليد بن مسلم القرشي ( 1807 ) ، الحكم بن المبارك الباهلي ( 1359 ) ، عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ( 4900 ) ، حدیث ۔۔۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” ملحمہ عظمی (بڑی لڑائی) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال (یہ تینوں واقعات) سات مہینے کے اندر ہوں گے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۳- اس باب میں صعب بن جثامہ ، عبداللہ بن بسر ، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 6  -  Score: 1627  -  3k
رواۃ الحدیث: سعد بن ابي وقاص الزهري ( 3232 ) ، راشد بن سعد المقرائي ( 2854 ) ، ابو بكر بن ابي مريم الغساني ( 1950 ) ، إسماعيل بن عياش العنسي ( 1050 ) ، الحسن بن عرفة العبدي ( 1276 ) ، حدیث ۔۔۔ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت « قل ہو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم » ” کہہ دو (اے محمد ! ) وہ (اللہ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے “ (الانعام : ۶۵) ، کے متعلق فرمایا : ” آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے “ (یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
Terms matched: 6  -  Score: 1471  -  3k
رواۃ الحدیث: ثوبان بن بجدد القرشي ( 2055 ) ، راشد بن سعد المقرائي ( 2854 ) ، ابو بكر بن ابي مريم الغساني ( 1950 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، علي بن حجر السعدي ( 5757 ) ، حدیث ۔۔۔ ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے ، آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا : ” کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھوں پر بیٹھے ہو “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ثوبان کی حدیث ، ان سے موقوفاً بھی مروی ہے ۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ان کی موقوف روایت زیادہ صحیح ہے ، ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 6  -  Score: 1314  -  3k


Search took 0.531 seconds