الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند الشهاب کل احادیث 1499 :حدیث نمبر
مسند الشهاب
احادیث 1 سے 200
1. الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
1. اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
حدیث نمبر: 1
Save to word اعراب
1 - اخبرنا ابو محمد عبد الرحمن بن عمر بن محمد بن سعيد بن إسحاق بن إبراهيم بن يعقوب التجيبي، ابنا احمد بن محمد بن زياد، ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي، ثنا يزيد بن هارون، ابنا يحيى بن سعيد ان محمدا هو ابن إبراهيم التيمي اخبره انه، سمع علقمة بن وقاص الليثي، يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول على المنبر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الاعمال بالنيات، وإنما لامرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله وإلى رسوله فهجرته إلى الله وإلى رسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه» هذا حديث صحيح اخرجه البخاري، عن القعنبي، عن مالك1 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أبنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدًا هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ
1-علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے سنا آپ فرما رہے تھے: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور بے شک انسان کے لیے وہی (صلہ) ہے جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو (فی الواقع) اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہوتو (فی الواقع) اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے بخاری نے قعنبی سے، انہوں نے مالک سے روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 1، أبو داود: 2201، وابن ماجه برقم: 4227»
حدیث نمبر: 2
Save to word اعراب
2 - اخبرنا ابو الحسن علي بن موسى بن الحسين المعروف بابن السمسار بدمشق، ثنا ابو زيد محمد بن احمد المروزي، ثنا محمد بن يوسف الفربري، ثنا ابو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، ثنا عبد الله بن مسلمة، ثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الاعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه» 2 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ الْحُسَيْنِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ السِّمْسَارِ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»
2- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔

تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 54، أخرجه مسلم 1907، الترمذي: 1647، النسائي: 3467»

وضاحت:
تشریح- یہ حدیث مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے، اس کا شمار ان احادیث میں ہوتا ہے جو اسلام کی اساس اور بنیاد ہیں، اس میں بتایا گیا ہے کہ تما م اعمال کا دارومدار اور انحصار نیت پر ہے، انسان کو اس کی نیت کا پھل ملے گا، نیت اچھی ہو تو پھل بھی اچھا اور اگر نیت بری ہے تو پھل بھی برا ملے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نیت کا محل دل ہے۔ دل کے ارادے کا نام نیت ہے زبان سے اس کا تعلق نہیں۔ زبان سے ادا کیے ہوئے الفاظ نیت نہیں قول کہلاتے ہیں۔
2. الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ
2. مجلسلیں امانت ہیں
حدیث نمبر: 3
Save to word اعراب
3 - اخبرنا إسماعيل بن رجاء العسقلاني الخصيب، ثنا ابو احمد محمد بن محمد القيسراني، ثنا محمد بن جعفر الخرائطي، ثنا عمر بن شبة، ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب، ح واخبرنا ابو عبد الله الحسين بن محمد بن ميمون النصيبي، ثنا ابو بكر احمد بن الحسن العسكري، ثنا ابو عمرو عثمان بن احمد المعروف بابن السماك، ثنا ابو موسى عيسى بن محمد الإسكافي، ثنا امية بن خالد، ثنا حسين بن عبد الله بن ضميرة، عن ابيه، عن جده، عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المجالس بالامانة» وفي حديث النصيبي: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول3 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ الْخَصِيبُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو مُوسَى عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْكَافِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ» وَفِي حَدِيثِ النَّصِيبِيِّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
3- سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں امانت ہوتی ہیں۔ اور نصیبی کی روایت میں ہے کہ میں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، تاريخ مدينة السلام: 468/12 - مكارم الاخلاق للخرائطي: 817» حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ کذاب ہے۔

وضاحت:
فائدہ: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی بات کہہ کر ادھر ادھر دیکھے تو وہ امانت ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث پر یہ بات باندھا ہے: مجلسیں امانت ہیں [أخرجه الترمذي: 1959 وسنده حسن]
3. الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ
3. جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4
Save to word اعراب
4 - اخبرنا ابو محمد عبد الرحمن بن عمر التجيبي، ثنا ابو سعيد احمد بن محمد بن زياد، ثنا إبراهيم بن عبد الرحيم بن دنوقا الجمال، ثنا إبراهيم بن مهدي، ثنا الحسن بن محمد ابو محمد البلخي، عن إسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المستشار مؤتمن، فإن شاء اشار وإن شاء سكت، فإن اشار فليشر بما لو نزل به فعله» 4 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ دَنُوقَا الْجَمَّالُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ، فَإِنْ شَاءَ أَشَارَ وَإِنْ شَاءَ سَكَتَ، فَإِنْ أَشَارَ فَلْيُشِرْ بِمَا لَوْ نَزَلَ بِهِ فَعَلَهُ»
4- سیدہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے لہٰذا اگر وہ چاہے تو مشورہ دے اور اگر چاہے تو خاموش رہے پھر ا گر وہ مشورہ دے تو اسے چاہیے کہ ایسا مشورہ دے کہ اگر وہ (صورت) خود اسے پیش آتی تو وہ اس پر عمل کرتا۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، العزلة للخطابي109-السلسلة الضعيفة: 4676» ۔ اسماعیل بن مسلم اور حسن بن محمد ابومحمد بھی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 5
Save to word اعراب
5 - وانا ابو محمد عبد الرحمن بن عمر، ابنا احمد بن إبراهيم بن جامع، ابنا علي بن عبد العزيز، ثنا محمد بن سعيد بن الاصبهاني، اخبرني عبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن كريب، عن كريب، عن ابن عباس، قال: وعد رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا خادما فاتي بخادم فقال: يا رسول الله اختر لي، فقال رسول الله: «المستشار مؤتمن، خذ هذا» 5 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا خَادِمًا فَأُتِيَ بِخَادِمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اخْتَرْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ، خُذْ هَذَا»
5- سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے خادم کا وعدہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خادم لایا گیا تو اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول اللہ! آپ میرے لیے پسند فرمائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے تم اسے لے لو۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، المعجم الكبير للطبراني: 12162» محمد بن کر یب ضعیف ہے۔

وضاحت:
فائدہ: سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ [أبو داود: 5128 صحيح]
4. الْعِدَةُ عَطِيَّةٌ
4. وعدہ عطیہ ہے
حدیث نمبر: 6
Save to word اعراب
6 - اخبرنا ابو العباس إسماعيل بن عبد الرحمن الصفار، ثنا ابو الحسن علي بن عبد الله بن الفضل الدارمي، ثنا سعيد بن عمرو السكوني، ثنا بقية بن الوليد، عن ابي إسحاق الفزاري، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال: لا يعد احدكم صبيه ثم لا ينجز له، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «العدة عطية» 6 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو السَّكُونِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَا يَعِدُ أَحَدُكُمْ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعِدَةُ عَطِيَّةٌ»
6- سیدنا عبد الله رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے وہ پورا نہ کر سکے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: وعدہ ایک عطیہ ہے۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، حلية الاولياء: 6499 - علل الحديث لابن ابي حاتم 2814» امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے کہا: کہ یہ حدیث باطل ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں۔ السلسلة الضعيفة: 1554
5. الْعِدَةُ دَيْنٌ
5. وعدہ ایک قرض ہے
حدیث نمبر: 7
Save to word اعراب
7 - اخبرنا ابو العباس إسماعيل بن عبد الرحمن، ثنا ابو الحسن علي بن عبد الله ثنا ابو يعلى حمزة بن داود بن سليمان الابلي، ثنا سعيد بن مالك، قال: ثنا عبد الله بن محمد بن ابي الاشعث، ثنا الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة والاسود، عن علي بن ابي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العدة دين» 7 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثنا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأُبُلِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْأَشْعَثَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعِدَةُ دَيْنٌ»
7- سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعدہ ایک قرض ہے۔

تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، المعجم الاوسط: 3513- تاريخ دمشق: -253/52» ابراہیم نخعی اور اعمش مدلس راویوں کا عنعنہ ہے۔ فائدہ: عبد اللہ بن محمد بن ابی اشعث کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ اعمش کے واسطے سے ایک منکر خبر میں آیا ہے، میں اسے نہیں جانتا۔ (میزان الاعتدال: 2/ 490)
6. الْحَرْبُ خُدْعَةٌ
6. جنگ چال بازی کا نام ہے
حدیث نمبر: 8
Save to word اعراب
8 - انا ابو محمد عبد الرحمن بن عمر الصفار، ابنا احمد بن إبراهيم بن جامع، ثنا علي بن عبد العزيز، ثنا ابو عمر الحوضي، ثنا الحسن بن ابي جعفر، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب، عن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول: «الحرب خدعة» 8 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ»
8- سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔

تخریج الحدیث: «صحيح، ابوداود: 2637، المصنف لعبد الرزاق: 5/ 398»
حدیث نمبر: 9
Save to word اعراب
9 - اخبرنا عبد الرحمن بن عمر، ثنا احمد بن إبراهيم بن جامع، ثنا علي بن عبد العزيز، ثنا محمد بن منصور، ثنا سفيان، عن عمرو، وهو ابن دينار، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الحرب خدعة» هذا حديث صحيح اخرجه البخاري عن صدقة بن الفضل9 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ
9- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بےشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ چال بازی (کا نام) ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے بخاری نے صدقہ بن فضل سے روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم 1739، ابوداود: 2636، ترمذي: 1675»
حدیث نمبر: 10
Save to word اعراب
10 - اخبرنا ابو الحسن علي بن موسى السمسار بدمشق، ثنا ابو زيد، محمد بن احمد المروزي، ثنا محمد بن يوسف الفربري، ابنا محمد بن إسماعيل البخاري، ثنا صدقة بن الفضل، انا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع جابرا، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الحرب خدعة» 10 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ»
10- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ چال بازی (کانام) ہے۔

تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري برقم: 3030»

1    2    3    4    5    Next    

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.