رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: باذام الكوفي 1823
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
4 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: فاختة بنت ابي طالب الهاشمية ( 6382 ) ، باذام الكوفي ( 1823 ) ، السدي الكبير ( 1031 ) ، إسرائيل بن يونس السبيعي ( 982 ) ، عبيد الله بن موسى العبسي ( 5437 ) ، عبد بن حميد الكشي ( 4232 ) ، حدیث ۔۔۔ ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے شادی کا پیغام دیا ، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی ، پھر اللہ نے یہ آیت « إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورہن وما ملكت يمينك مما أفاء اللہ عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي ہاجرن معك وامرأۃ مؤمنۃ إن وہبت نفسہا للنبي » ” اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے “ (الاحزاب : ۵۰) ، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں (فتح مکہ کے موقع پر) « الطلقاء » آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی ، (اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
Terms matched: 3  -  Score: 126  -  5k
رواۃ الحدیث: حاتم بن ابي صغيرة القشيري ( 2207 ) ، سليم بن اخضر البصري ( 3540 ) ، احمد بن عبدة الضبي ( 469 ) ، فاختة بنت ابي طالب الهاشمية ( 6382 ) ، باذام الكوفي ( 1823 ) ، سماك بن حرب الذهلي ( 3638 ) ، حاتم بن ابي صغيرة القشيري ( 2207 ) ، عبد الله بن بكر الباهلي ( 4746 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، محمود بن غيلان العدوي ( 7352 ) ، حدیث ۔۔۔ ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت « وتأتون في ناديكم المنكر » کے بارے میں فرمایا : ” وہ (اپنی محفلوں میں) لوگوں پر کنکریاں پھینکتے تھے (بدتمیزی کرتے) اور ان کا مذاق اڑاتے تھے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں ۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔
Terms matched: 3  -  Score: 126  -  3k
رواۃ الحدیث: تميم بن اوس الدارى ( 1994 ) ، عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، باذام الكوفي ( 1823 ) ، سالم بن ابي امية القرشي ( 3181 ) ، ابن إسحاق القرشي ( 6811 ) ، محمد بن سلمة الباهلي ( 6997 ) ، الحسن بن احمد الاموي ( 1243 ) ، حدیث ۔۔۔ تمیم داری ؓ سے روایت ہے ، وہ اس آیت « يا أيہا الذين آمنوا شہادۃ بينكم إذا حضر أحدكم الموت » کے سلسلے میں کہتے ہیں : میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں ، ہم دونوں نصرانی تھے ، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے ، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا ، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا ، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا ، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا ، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی ۔ (اتفاق ایسا ہوا کہ) وہ بیمار پڑ گیا ، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں ۔ جب وہ مر گیا تو ہم نے یہ پیالہ لے لیا اور ہزار درہم میں اسے بیچ دیا ، پھر ہم نے اور عدی بن بداء نے اسے آپس میں تقسیم کر لیا ، پھر ہم اس کے بیوی بچوں کے پاس آئے اور جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انہیں واپس دے دیا ، جب انہیں چاندی کا جام نہ ملا تو انہوں نے ہم سے اس کے متعلق پوچھا ، ہم نے کہا کہ جو ہم نے آپ کو لا کر دیا اس کے سوا اس نے ہمارے پاس کچھ نہ چھوڑا تھا ، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے مدینہ جانے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا ، تو میں اس گناہ سے ڈر گیا ، چنانچہ میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور پیالہ کی صحیح خبر انہیں دے دی ، اور اپنے حصہ کے پانچ سو درہم انہیں ادا کر دئیے ، اور انہیں یہ بھی بتایا کہ میری طرح (عدی بن بداء) کے پاس بھی پیالہ کی قیمت کے پانچ سو درہم ہیں پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس پکڑ کر لائے ، آپ نے ان سے ثبوت مانگا تو وہ لوگ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے ۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لیں جسے اس کے اہل دین اہم اور عظیم تر سمجھتے ہوں تو اس نے قسم کھا لی ۔ اس پر آیت « يا أيہا الذين آمنوا شہادۃ بينكم إذا حضر أحدكم الموت » سے لے کر « أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانہم » تک نازل ہوئی ۔ تو عمرو بن العاص ...
Terms matched: 3  -  Score: 126  -  10k
رواۃ الحدیث: فاختة بنت ابي طالب الهاشمية ( 6382 ) ، هارون ابن ام هانئ ( 7967 ) ، سماك بن حرب الذهلي ( 3638 ) ، حماد بن سلمة البصري ( 2492 ) ، فاختة بنت ابي طالب الهاشمية ( 6382 ) ، باذام الكوفي ( 1823 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، فاختة بنت ابي طالب الهاشمية ( 6382 ) ، جعدة المخزومي ( 2131 ) ، سماك بن حرب الذهلي ( 3638 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، ابو داود الطيالسي ( 3585 ) ، محمود بن غيلان العدوي ( 7352 ) ، حدیث ۔۔۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی ؓ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا ، اس کا نام جعدہ تھا ، ام ہانی اس کی دادی تھیں ، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا ۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا ۔ پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں تو روزے سے تھی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے ، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے “ ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے ؟ کہا : نہیں ، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی ۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے ۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے ، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے ، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے ، اس میں « أمين نفسہ » ہے ، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے « أمير نفسہ أو أمين نفسہ » شک کے ساتھ کہا ۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی « أمين أو أمير نفسہ » شک کے ساتھ وارد ہے ۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے ۔ یہی سفیان ثوری ، احمد ، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۔
Terms matched: 3  -  Score: 126  -  7k


Search took 0.426 seconds