رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير المهاجر الغنوي 1898
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
3 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، عيسى بن يونس السبيعي ( 6343 ) ، إبراهيم بن موسى التميمي ( 890 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا : میں نے زنا کر لیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” واپس جاؤ “ ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی ، دوسرے دن وہ پھر آئی ، اور کہنے لگی : شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں ، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ “ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی ، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا “ چنانچہ وہ چلی گئی ، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی ، اور کہا : اسے میں جن چکی ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو “ دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی ، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا ، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے ، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے ، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے ، تو وہ رجم کر دی گئی ۔ خالد ؓ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے ، ان سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” خالد ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی “ ، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، محمد بن عبد الله الزبيرى ( 7100 ) ، احمد بن إسحاق الاهوازي ( 411 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ اور ماعز بن مالک ؓ دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے ، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے ، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے (اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بريدة بن الحصيب الاسلمي ( 1841 ) ، عبد الله بن بريدة الاسلمي ( 4740 ) ، بشير بن المهاجر الغنوي ( 1898 ) ، خلاد بن يحيى السلمي ( 2725 ) ، جعفر بن مسافر التنيسي ( 2165 ) ، حدیث ۔۔۔ بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ” تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی “ یعنی ترک ، پھر فرمایا : ” تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے ، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے ، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا ، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے ، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے ، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کر دیا جائے گا « أو کماقال » (جیسا آپ ﷺ نے فرمایا) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  3k


Search took 0.517 seconds