رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
کتاب/کتب میں: صحیح مسلم
12 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، يحيى بن يحيى النيسابوري ( 8350 ) ، حدیث ۔۔۔ وہی جو اوپر گزرا ۔ اس میں یہ ہے کہ سہل نے یہ کہا : مجھ کو ایک اونٹنی نے ان اونٹنیوں میں سے لات ماری باڑے میں ۔
Terms matched: 4  -  Score: 552  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار نے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ سے روایت کیا جو ان کے گھر میں رہتے تھے ان میں سے ایک سہل بن ابی حثمہ ؓ تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے اور فرمایا : ” یہی سود ہے ، یہی مزابنہ ہے ۔ “ مگر آپ ﷺ نے اجازت دی عریہ کو بیع میں ایک درخت یا دو درخت کی کھجور کوئی گھر والا (اپنے بال بچوں کے کھانے کے لیے) خریدے اور اس کے بدلے اندازے سے خشک کھجور دے تر کھجور کھانے کو ۔
Terms matched: 4  -  Score: 344  -  3k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، عبد الله بن مسلمة الحارثي ( 5085 ) ، حدیث ۔۔۔ بشر بن یسار سے روایت ہے ، عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری ؓ جو بنی حارثہ میں سے تھے خیبر کو گئے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور ان دنوں وہاں امن و امان تھا اور یہودی وہاں رہتے تھے ، پھر وہ دونوں جدا ہوئے اپنے کاموں کو تو عبداللہ بن سہل ؓ مارے گئے اور ایک حوض میں ان کی نعش ملی ۔ محیصہ ؓ نے اس کو دفن کیا ، پھر مدینہ میں آیا اور عبدالرحمٰن بن سہل مقتول کا بھائی اور محیصہ اور حویصہ ؓ (چچا زاد بھائی) ان تینوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ ؓ کا حال بیان کیا اور جہاں وہ مارا گیا تھا تو بشیر نے روایت کی ان لوگوں سے جن کو نبی ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے اس نے پایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان سے تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے قاتل کو لیتے ہو ۔ “ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے نہیں دیکھا نہ ہم وہاں موجود تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو یہود اپنے تئیں صاف کر لیں گے تمہارے الزام سے پچاس قسمیں کھا کر ۔ “ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم کیونکر قبول کریں گے قسمیں کافروں کی ۔ آخر بشیر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ کی دیت اپنے پاس سے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  4k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے ، یحییٰ نے کہا : شاید بشیر نے رافع بن خدیج کا بھی نام لیا کہ ان دونوں نے کہا : سیدنا عبداللہ بن سہل بن زید ؓ اور سیدنا محیصہ بن مسعود بن زید ؓ دونوں نکلے جب خیبر میں پہنچے تو الگ الگ ہو گئے ۔ پھر سیدنا محیصہ ؓ نے دیکھا کہ عبداللہ بن سہل ؓ کو کسی نے مار کر ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے دفن کیا عبداللہ کو پھر آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل ۔ عبدالرحمٰن سے سب سے چھوٹے تھے انہوں نے چاہا بات کرنا اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو سن میں بڑا ہے اس کی بڑائی کر ۔ “ (یعنی اس کو بات کرنے دے حالانکہ عبدالرحمٰن مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور محیصہ اور حویصہ چچا کے بیٹے تھے پر یہاں دعویٰ سے غرض نہ تھی صرف واقعات سننے تھے ۔) عبدالرحمٰن چپ ہو رہا اور حویصہ اور محیصہ نے باتیں کیں ، عبدالرحمٰن بھی ان کے ساتھ بولا ، پھر بیان کیا رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے مارے جانے کے مقام کو آپ ﷺ نے فرمایا ان تینوں سے ”تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے مورث کا خون حاصل کرتے ہو ۔ “ (یعنی قصاص یا دیت اور وارث تو صرف عبدالرحمٰن ؓ تھے لیکن آپ ﷺ نے تینوں کی طرف خطاب کیا اور غرض یہی تھی کہ عبدالرحمٰن ؓ قسم کھائیں) تینوں نے کہا : ہم کیونکر قسم کھائیں ؟ خون کے وقت ہم نہ تھے آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے ۔ “ انہوں نے کہا : ہم کافروں کی قسمیں کیونکر قبول کریں گے ؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حال دیکھا تو دیت دی ۔ (اپنے پاس سے) ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  6k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، عبيد الله بن عمر الجشمي ( 5422 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل ؓ دونوں خیبر کی طرف گئے اور کھجور کے درخت میں جدا ہو گئے ۔ عبداللہ بن سہل ؓ مارے گئے ۔ لوگوں نے یہود پر گمان کیا (یعنی یہودیوں نے مارا ہو گا) پھر عبداللہ ؓ کا بھائی عبدالرحمٰن آیا ۔ اور اس کے چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ ؓ سے سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ۔ عبدالرحمٰن اپنے بھائی کا حال بیان کرنے لگا اور وہ تینوں میں چھوٹا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بڑائی کر بڑے کی یا بڑے کو کہنا چاہیئے ۔ “ پھر حویصہ اور محیصہ ؓ نے حال بیان کیا عبداللہ بن سہل کا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم سے پچاس آدمی یہود کے کسی آدمی پر قسم کھائیں کہ وہ قاتل ہے وہ اپنے گلے کی رسی دے دے گا (یعنی اپنے تئیں سپرد کر دے گا تمہارے قتل کے لیے) انہوں نے کہا : جب یہ واقعہ ہوا تو ہم نے نہیں دیکھا ، ہم کیونکر قسم کھائیں گے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو یہود پچاس قسمیں کھا اپنے تئیں پاک کریں گے ۔ “ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ تو کافر ہیں ۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے دیت دی عبداللہ بن سہل ؓ کی ۔ سہل نے کہا : میں ان اونٹوں کے باندھنے کی جگہ گیا تو ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  5k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہیل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ سے یعنی درخت پر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے مگر عرایا والوں کو اس کی اجازت دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، عمرو بن محمد الناقد ( 6195 ) ، حدیث ۔۔۔ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث نقل کی گئی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  1k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، محمد بن رمح التجيبي ( 6968 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی عریہ کی بیع میں اندازہ کر کے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، عبد الله بن نمير الهمداني ( 5128 ) ، محمد بن نمير الهمداني ( 7136 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے ، چند لوگ ان کی قوم میں سے خیبر کو گئے وہاں الگ الگ ہو گئے پھر ایک ان میں سے مقول ملا اور بیان کیا حدیث کو اخیر تک اور کہا کہ برا جانا رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون ضائع ہونا تو سو اونٹ دیئے صدقے کے اونٹوں میں سے دیت کے لیے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ( 5280 ) ، محمد بن ابي عمر العدني ( 7317 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، حدیث ۔۔۔ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  1k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، بشر بن المفضل الرقاشي ( 1868 ) ، عبيد الله بن عمر الجشمي ( 5422 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح جیسے اوپر گزرا ۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی اور اس میں یہ نہیں ہے کہ ایک اونٹنی نے مجھ کو لات ماری ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ( 5280 ) ، محمد بن المثنى العنزي ( 6861 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عمرو بن محمد الناقد ( 6195 ) ، حدیث ۔۔۔ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k


Search took 0.386 seconds