رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
9 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، الحسن بن محمد الزعفراني ( 1296 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، حماد بن زيد الازدي ( 2491 ) ، محمد بن عبيد الغبري ( 7150 ) ، عبيد الله بن عمر الجشمي ( 5422 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے ، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی ، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو “ (اور انہیں گفتگو کا موقع دو) یا یوں فرمایا : ” بڑے کو پہلے بولنے دو “ چنانچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے “ ان لوگوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار ؟ ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی ، سہل کہتے ہیں : ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا ، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی ، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون ، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو ؟ “ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے ، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے ، تو انہوں نے ابتداء « تبرئكم يہود بخمسين يمينا يحلفون » سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  7k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، سعيد بن عبيد الطائي ( 3367 ) ، الفضل بن دكين الملائي ( 1548 ) ، الحسن بن محمد الزعفراني ( 1296 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے ، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے ، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے ، اس پر آپ نے فرمایا : ” پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے “ وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے ، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  4k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، يحيى بن زكريا الهمداني ( 8264 ) ، اسد بن موسى الاموي ( 541 ) ، الربيع بن سليمان المرادي ( 1410 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا : ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سفيان بن عيينة الهلالي ( 3443 ) ، عثمان بن ابي شيبة العبسي ( 5551 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (درخت پر پھلے) کھجور کو (سوکھے) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو « تمر » (سوکھی کھجور) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن حيان الجعفري ( 3580 ) ، عبد الله بن سعيد الكندي ( 4836 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار ؓ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم ﷺ کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے ، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، عبد ربه بن نافع الكناني ( 5298 ) ، يحيى بن آدم الاموي ( 8192 ) ، الحسين بن الاسود العجلي ( 1337 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا ، انہوں نے کہا ، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریات اور مصائب و مشکلات کے لیے رکھا جاتا تھا جو انہیں پیش آتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: اسم مبهم ( 1131 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، محمد بن الفضيل الضبي ( 7237 ) ، الحسين بن الاسود العجلي ( 1337 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا ، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  2k
رواۃ الحدیث: بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، سليمان بن بلال القرشي ( 3574 ) ، يحيى بن حسان البكري ( 8250 ) ، محمد بن مسكين اليمامي ( 7267 ) ، حدیث ۔۔۔ بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے ، پھر آپ ﷺ نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے ، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم ﷺ بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا ، اور رسول اللہ ﷺ نے اٹھارہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے ، اسی نصف میں وطیح ، کتیبہ اور سلالم (دیہات کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے ، جب یہ سب اموال رسول اللہ ﷺ کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے یہود کو بلا کر ان سے (بٹائی پر) معاملہ کر لیا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 288  -  3k


Search took 0.381 seconds