رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بشير يسار الحارثي 1915
کتاب/کتب میں: سنن ترمذی
2 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، يزيد بن هارون الواسطي ( 8488 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، يحيى بن سعيد الانصاري ( 8272 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے ، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہو گئے ، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ، کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا ، آپ نے انہیں دفنا دیا ، پھر وہ (یعنی راوی حدیث) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے ، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے (اس معاملہ میں آپ سے) گفتگو کرنا چاہتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” بڑے کا لحاظ کرو ، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی ، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہو گئے ، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا ، آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے (کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہو جاؤ (یا کہا) قاتل کے خون کے مستحق ہو جاؤ ؟ “ ان لوگوں نے عرض کیا : ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کر لیں ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت خود ادا کر دی ۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ۳- مدینہ کے بعض فقہاء قسامہ کی بنا پر قصاص درست سمجھتے ہیں ، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں : قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں ، صرف دیت واجب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  7k
رواۃ الحدیث: سهل بن ابي حثمة الانصاري ( 3665 ) ، رافع بن خديج الانصاري ( 2865 ) ، بشير بن يسار الحارثي ( 1915 ) ، الوليد بن كثير القرشي ( 1802 ) ، حماد بن اسامة القرشي ( 2484 ) ، الحسن بن علي الهذلي ( 1284 ) ، حدیث ۔۔۔ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی ، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 292  -  2k


Search took 0.370 seconds