رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر عبد الله المزني 1933
تمام کتب میں:
51 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، الحسن البصري ( 1239 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، محمد بن حاتم السمين ( 6912 ) ، محمد بن بشار العبدي ( 6879 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا مغیرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو مسح کیا پیشانی پر اور عمامہ پر اور موزوں پر ۔
Terms matched: 5  -  Score: 1083  -  2k
رواۃ الحدیث: عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، الحسن البصري ( 1239 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، يحيى بن سعيد القطان ( 8271 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا ، اپنی پیشانی پر مسح کیا ، مغیرہ نے عمامہ (پگڑی) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا ۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے تھے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 1083  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، حماد بن سلمة البصري ( 2492 ) ، عفان بن مسلم الباهلي ( 5653 ) ، احمد بن حنبل الشيباني ( 488 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 993  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، خالد بن عبد الله الطحان ( 2663 ) ، عمرو بن عون السلمي ( 6177 ) ، حدیث ۔۔۔ بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے ایک شخص نے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ ، شہد اور ستو پلاتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں ؟ ابن عباس نے کہا : نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج ، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے ، آپ ﷺ کے پیچھے اسامہ بن زید ؓ تھے ، آپ ﷺ نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ ؓ کو دے دیا ، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو “ ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا ، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 993  -  3k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، غالب بن ابي غيلان الراسبي ( 6350 ) ، خالد بن عبد الرحمن السلمي ( 2660 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، احمد بن محمد المروزي ( 490 ) ، حدیث ۔۔۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب دوپہر میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
Terms matched: 5  -  Score: 945  -  2k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، غالب بن ابي غيلان الراسبي ( 6350 ) ، خالد بن عبد الرحمن السلمي ( 2660 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، محمد بن مقاتل المروزي ( 7287 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے غالب قطان نے بکر بن عبداللہ مزنی کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے آپ نے فرمایا کہ جب ہم (گرمیوں میں) نبی کریم ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز دوپہر دن میں پڑھتے تھے تو گرمی سے بچنے کے لیے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 945  -  3k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، غالب بن ابي غيلان الراسبي ( 6350 ) ، خالد بن عبد الرحمن السلمي ( 2660 ) ، عبد الله بن المبارك الحنظلي ( 4716 ) ، سويد بن نصر المروزي ( 3719 ) ، حدیث ۔۔۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 903  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، عامر الاحول ( 4111 ) ، عبد الوارث بن سعيد العنبري ( 5270 ) ، مسدد بن مسرهد الاسدي ( 7426 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا ارادہ کیا ، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرائیں ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، وہ کہنے لگی : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ ، تو انہوں نے کہا : وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے ، اور کہا ہے : مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، اس نے کہا : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا “ ۔ اس نے کہا : اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے “ ۔
Terms matched: 5  -  Score: 903  -  4k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، جبير بن حية الثقفي ( 2094 ) ، زياد بن جبير الثقفي ( 3077 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سعيد بن عبيد الله الثقفي ( 3370 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، عبد الله بن جعفر القرشي ( 4764 ) ، الفضل بن يعقوب الرخامي ( 1563 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا ، ان سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے سعید بن عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا ، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ بن شعبہ ؓ نے (ایران کی فوج کے سامنے) کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو (فی سبیل اللہ) قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا ۔
Terms matched: 5  -  Score: 889  -  3k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، جبير بن حية الثقفي ( 2094 ) ، زياد بن جبير الثقفي ( 3077 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سعيد بن عبيد الله الثقفي ( 3370 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، عبد الله بن جعفر القرشي ( 4764 ) ، الفضل بن يعقوب الرخامي ( 1563 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ، کہا ہم سے سعید بن عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا ، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر ہر دو نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن حیہ نے بیان کیا کہ کفار سے جنگ کے لیے عمر ؓ نے فوجوں کو (فارس کے) بڑے بڑے شہروں کی طرف بھیجا تھا ۔ (جب لشکر قادسیہ پہنچا اور لڑائی کا نتیجہ مسلمانوں کے حق میں نکلا) تو ہرمزان (شوستر کا حاکم) اسلام لے آیا ۔ عمر ؓ نے اس سے فرمایا کہ میں تم سے ان (ممالک فارس وغیرہ) پر فوج بھیجنے کے سلسلے میں مشورہ چاہتا ہوں (کہ پہلے ان تین مقاموں فارس ، اصفہان اور آذربائیجان میں کہاں سے لڑائی شروع کی جائے) اس نے کہا جی ہاں ! اس ملک کی مثال اور اس میں رہنے والے اسلام دشمن باشندوں کی مثال ایک پرندے جیسی ہے جس کا سر ہے ، دو بازو ہیں ۔ اگر اس کا ایک بازو توڑ دیا جائے تو وہ اپنے دونوں پاؤں پر ایک بازو اور ایک سر کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے ۔ اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے ۔ لیکن اگر سر توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں دونوں بازو اور سر سب بےکار رہ جاتا ہے ۔ پس سر تو کسریٰ ہے ، ایک بازو قیصر ہے اور دوسرا فارس ! اس لیے آپ مسلمانوں کو حکم دے دیں کہ پہلے وہ کسریٰ پر حملہ کریں ۔ اور بکر بن عبداللہ اور زیاد بن جبیر دونوں نے بیان کیا کہ ان سے جبیر بن حیہ نے بیان کیا کہ ہمیں عمر ؓ نے (جہاد کے لیے) بلایا اور نعمان بن مقرن ؓ کو ہمارا امیر مقرر کیا ۔ جب ہم دشمن کی سر زمین (نہاوند) کے قریب پہنچے تو کسریٰ کا ایک افسر چالیس ہزار کا لشکر ساتھ لیے ہوئے ہمارے مقابلہ کے لیے بڑھا ۔ پھر ایک ترجمان نے آ کر کہا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص (معاملات پر) گفتگو کرے ۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے (مسلمانوں کی نمائندگی کی اور) فرمایا کہ جو تمہارے مطالبات ہوں ، انہیں بیان کرو ۔ اس نے پوچھا آخر تم لوگ ہو کون ؟ مغیرہ ؓ نے کہا کہ ہم عرب کے رہنے والے ہیں ، ہم انتہائی بدبختیوں اور مصیبتوں ...
Terms matched: 5  -  Score: 889  -  10k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، هشيم بن بشير السلمي ( 8062 ) ، سريح بن يونس المروروذي ( 3220 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا انس ؓ نے کہا : سنا میں نے رسول اللہ ﷺ کو لبیک پکارتے تھے حج اور عمرہ دونوں کی ۔ بکر نے کہا کہ میں نے یہی حدیث سیدنا ابن عمر ؓ سے بیان کی تو انہوں نے کہا : فقط حج کی لبیک پکاری ۔ سو میں سیدنا انس ؓ سے ملا اور ان سے کہا کہ سیدنا ابن عمر ؓ تو یوں کہتے ہیں ۔ سیدنا انس ؓ نے کہا کہ تم لوگ ہم کو بچہ جانتے ہو ۔ میں نے بخوبی سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : ” لبیک ہے عمرہ کی اور حج کی ۔ “
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  3k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، نفيع بن رافع المدني ( 7930 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، محمد بن عبد الاعلى القيسي ( 7050 ) ، عبيد الله بن معاذ العنبري ( 5435 ) ، حدیث ۔۔۔ ابورافع سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی اور اس میں سجدہ کیا (نماز کے بعد) میں نے کہا : یہ سجدہ تم نے کیسا کیا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے تو یہ سجدہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے کیا اور میں اس کو کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ ﷺ سے ملوں ، ابن عبدالاعلیٰ کی روایت میں یوں ہے کہ میں یہ سجدہ ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، بشر بن المحتفز البصري ( 1867 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، النضر بن شميل المازني ( 1716 ) ، سليمان بن سلم الهدادي ( 3594 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں “ ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، نفيع بن رافع المدني ( 7930 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، عبد الاعلى بن عبد الاعلى القرشي ( 4207 ) ، عياش بن الوليد الرقام ( 6274 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عیاش نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے ابورافع سے ، وہ ابوہریرہ ؓ سے ، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی ۔ اس وقت میں جنبی تھا ۔ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آخر آپ ﷺ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا ۔ آپ ﷺ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے ، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  3k
رواۃ الحدیث: بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، داود بن ابي هند القشيري ( 2772 ) ، خالد بن عبد الله الطحان ( 2663 ) ، وهبان بن بقية الواسطي ( 8166 ) ، حدیث ۔۔۔ بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوذر کو بھیجا آگے یہی حدیث مروی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دونوں حدیثوں میں یہ زیادہ صحیح ہے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  1k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن عمر العدوي ( 4967 ) ، نافع مولى ابن عمر ( 7863 ) ، ايوب السختياني ( 746 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، حماد بن سلمة البصري ( 2492 ) ، موسى بن إسماعيل التبوذكي ( 7721 ) ، حدیث ۔۔۔ نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  2k
رواۃ الحدیث: الحارث بن ربعي السلمي ( 1190 ) ، عبد الله بن رباح الانصاري ( 4802 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، حماد بن سلمة البصري ( 2492 ) ، سليمان بن حرب الواشحي ( 3579 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ ﷺ اپنی دائیں کروٹ لیٹتے اور اگر صبح سے پہلے پڑاؤ ڈالتے تو اپنے بازو کھڑے کرتے اور ہتھیلی پر چہرہ رکھتے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 812  -  2k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سعيد بن عبيد الهنائي ( 3368 ) ، كثير بن فائد البصري ( 6568 ) ، الضحاك بن مخلد النبيل ( 1494 ) ، عبد الله بن إسحاق الجوهري ( 4668 ) ، حدیث ۔۔۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ کہتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا ، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں ، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے ، اے آدم کے بیٹے ! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی ۔ اے آدم کے بیٹے ! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا) “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: کلمہ توحید پر ایمان لانا گناہوں کے کفارہ کفارے کا باعث ذریعہ ہے ۔
Terms matched: 5  -  Score: 800  -  4k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، يزيد بن زريع العيشي ( 8418 ) ، محمد بن المنهال الضرير ( 6865 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ مزنی فرزند بکر نے کہا کہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کعبہ کے نزدیک کہ ایک گاؤں کا آدمی آیا اور اس نے کہا : کیا سبب ہے کہ میں تمہارے چچا کی اولاد کو دیکھتا ہوں کہ وہ شہد کا شربت اور دودھ پلاتے ہیں اور تم کھجور کا شربت پلاتے ہو کیا تم نے محتاجی کے سبب سے اسے اختیار کیا ہے یا بخیلی کی وجہ سے ؟ تو سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا : الحمداللہ نہ ہم کو محتاجی ہے نہ بخیلی ۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ نبی ﷺ تشریف لائے اپنی اونٹنی پر اور ان کے پیچھے اسامہ ؓ تھے اور آپ ﷺ نے پانی مانگا سو ہم ایک پیالہ کھجور کے شربت کا لائے اور آپ ﷺ نے پیا اور اس میں سے جو بچا وہ اسامہ ؓ کو پلایا اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے خوب اچھا کام کیا اور ایسا ہی کیا کرو ۔ “ سو ہم اس کو بدلنا نہیں چاہتے جس کا حکم رسول اللہ ﷺ دے چکے ہیں ۔
Terms matched: 5  -  Score: 800  -  4k
رواۃ الحدیث: انس بن مالك الانصاري ( 720 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سعيد بن عبيد الله الثقفي ( 3370 ) ، يوسف بن يزيد البصري ( 8596 ) ، محمد بن ابي بكر المقدمي ( 6760 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یوسف ابومعشر براء نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن عبداللہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی ۔
Terms matched: 5  -  Score: 800  -  2k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، عاصم الاحول ( 4064 ) ، حفص بن غياث النخعي ( 2448 ) ، محمد بن عبد العزيز اليشكري ( 7080 ) ، حدیث ۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” دیکھ لو ، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے “ ۔
Terms matched: 5  -  Score: 722  -  2k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، محمد بن عبد الاعلى القيسي ( 7050 ) ، امية بن بسطام العيشي ( 699 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا مغیرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے مسح کیا موزوں پر اور پیشانی پر اور عمامہ پر ۔
Terms matched: 5  -  Score: 722  -  2k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، ثابت بن اسلم البناني ( 2009 ) ، معمر بن ابي عمرو الازدي ( 7633 ) ، عبد الرزاق بن همام الحميري ( 4533 ) ، الحسن بن ابي الربيع الجرجاني ( 1310 ) ، حدیث ۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جاؤ اسے دیکھ لو ، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے “ ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا ، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا ، اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا ، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی ، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا : اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے ، تو تم دیکھ لو ، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں ، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا ، مغیرہ ؓ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کو دیکھا ، اور اس سے شادی کر لی ، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا ۔
Terms matched: 5  -  Score: 722  -  4k
رواۃ الحدیث: ابو رافع القبطي ( 548 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، حميد بن ابي حميد الطويل ( 2531 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، ابو سعيد الخدري ( 3260 ) ، بكر بن قيس الناجي ( 1936 ) ، قتادة بن دعامة السدوسي ( 6458 ) ، همام بن يحيى العوذي ( 8097 ) ، يزيد بن هارون الواسطي ( 8488 ) ، ابن ابي شيبة العبسي ( 5049 ) ، حدیث ۔۔۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے ، وہ بات میرے کان نے سنی ، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ ایک آدمی تھا جس نے ننانوے خون (ناحق) کئے تھے ، پھر اسے توبہ کا خیال آیا ، اس نے روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا ، تو اسے ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا ، وہ اس کے پاس آیا ، اور کہا : میں ننانوے آدمیوں کو (ناحق) قتل کر چکا ہوں ، کیا اب میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : (واہ) ننانوے آدمیوں کے (قتل کے) بعد بھی (توبہ کی امید رکھتا ہے) ؟ اس شخص نے تلوار کھینچی اور اسے بھی قتل کر دیا ، اور سو پورے کر دئیے ، پھر اسے توبہ کا خیال آیا ، اور روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا ، اسے جب ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا تو وہ وہاں گیا ، اور اس سے کہا : میں سو خون (ناحق) کر چکا ہوں ، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس نے جواب دیا : تم پر افسوس ہے ! بھلا تمہیں توبہ سے کون روک سکتا ہے ؟ تم اس ناپاک اور خراب بستی سے (جہاں تم نے اتنے بھاری گناہ کئے) نکل جاؤ ، اور فلاں نیک اور اچھی بستی میں جاؤ ، وہاں اپنے رب کی عبادت کرنا ، وہ جب نیک بستی میں جانے کے ارادے سے نکلا ، تو اسے راستے ہی میں موت آ گئی ، پھر رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے ، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں ، اس نے ایک پل بھی میری نافرمانی نہیں کی ، تو رحمت کے فرشتوں نے کہا : وہ توبہ کر کے نکلا تھا (لہٰذا وہ رحمت کا مستحق ہوا) ۔ راوی حدیث ہمام کہتے ہیں کہ مجھ سے حمید طویل نے حدیث بیان کی ، وہ بکر بن عبداللہ سے اور وہ ابورافع ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : (جب فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا تو) اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ (ان کے فیصلے کے لیے) بھیجا ، دونوں قسم کے فرشتے اس کے پاس فیصلہ کے لیے آئے ، تو اس نے کہا : دیکھو دونوں بستیوں میں سے وہ کس سے زیادہ قریب ہے ؟ (فا...
Terms matched: 5  -  Score: 722  -  8k
رواۃ الحدیث: المغيرة بن شعبة الثقفي ( 1665 ) ، عروة بن المغيرة الثقفي ( 5595 ) ، الحسن البصري ( 1239 ) ، بكر بن عبد الله المزني ( 1933 ) ، سليمان بن طرخان التيمي ( 3601 ) ، معتمر بن سليمان التيمي ( 7607 ) ، محمد بن عبد الاعلى القيسي ( 7050 ) ، حدیث ۔۔۔ سیدنا مغیرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں ۔
Terms matched: 5  -  Score: 722  -  2k
Result Pages: 1 2 3 Next >>


Search took 0.704 seconds