رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بكر مضر القرشي 1940
کتاب/کتب میں: صحیح بخاری
11 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، عبد الله بن مالك بن بحينة ( 5038 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے ، ان سے اعرج نے ، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ اسدی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ پیٹ سے الگ رکھتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلیں ہم لوگ دیکھ لیتے ، ابن بکیر نے بکر سے روایت کی اس میں یوں ہے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 656  -  3k
رواۃ الحدیث: كريب بن ابي مسلم القرشي ( 6588 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، ميمونة بنت الحارث الهلالية ( 7825 ) ، كريب بن ابي مسلم القرشي ( 6588 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، يزيد بن قيس الازدي ( 8366 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے بکیر نے ، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں (ام المؤمنین) میمونہ بنت حارث ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم ﷺ سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی ۔ پھر جس دن نبی کریم ﷺ کی باری آپ کے گھر آنے کی تھی ، انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو معلوم بھی ہوا ، میں نے ایک لونڈی آزاد کر دی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، اچھا تم نے آزاد کر دیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں ! فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ننھیال والوں کو دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ۔ اس حدیث کو بکیر بن مضر نے عمرو بن حارث سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے کریب سے روایت کیا کہ میمونہ ؓ نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ۔ اخیر تک ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: شوہر کی اجازت کے بغیر اپنا مال ہدیہ کرنا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 592  -  4k
رواۃ الحدیث: ام سلمة زوج النبي ( 8101 ) ، كريب بن ابي مسلم القرشي ( 6588 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، عبد الله بن وهب القرشي ( 5147 ) ، يحيى بن سليمان الجعفي ( 8277 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے ، کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی اور بکر بن مضر نے یوں بیان کیا کہ عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث سے روایت کیا ، ان سے بکیر نے اور ان سے کریب (ابن عباس ؓ کے غلام) نے بیان کیا کہ ابن عباس ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ نے انہیں عائشہ ؓ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ ام المؤمنین سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق ان سے پوچھنا اور یہ کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ انہیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پڑھنے سے روکا تھا ۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ میں ان دو رکعتوں کے پڑھنے پر عمر ؓ کے ساتھ (ان کے دور خلافت میں) لوگوں کو مارا کرتا تھا ۔ کریب نے بیان کیا کہ پھر میں ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کا پیغام پہنچایا ۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اس کے متعلق ام سلمہ سے پوچھو ، میں نے ان حضرات کو آ کر اس کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھ کو ام سلمہ ؓ کی خدمت میں بھیجا ، وہ باتیں پوچھنے کے لیے جو عائشہ سے انہوں نے پچھوائی تھیں ۔ ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے خود بھی رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ عصر کے بعد دو رکعتوں سے منع کرتے تھے لیکن آپ ﷺ نے ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی ، پھر میرے یہاں تشریف لائے ، میرے پاس اس وقت قبیلہ بنو حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ یہ دیکھ کر میں نے خادمہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور اسے ہدایت کر دی کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور عرض کرنا کہ ام سلمہ ؓ نے پوچھا ہے : یا رسول اللہ ! میں نے تو آپ سے ہی سنا تھا اور آپ نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن میں آج خود آپ کو دو رکعت پڑھتے دیکھ رہی ہوں ۔ اگر نبی کریم ﷺ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پھر پیچھے ہٹ جانا ۔ خادمہ نے میری ہدایت کے مطابق کیا اور نبی کریم ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی ۔ پھر جب آپ فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوامیہ کی بیٹی...
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  8k
رواۃ الحدیث: جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عبد الله بن مالك بن بحينة ( 5038 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حدیث بیان کی بکر بن مضر نے جعفر سے ، وہ ابن ہرمز سے ، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی اور لیث نے یوں کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نماز میں دونوں ہاتھوں کو کشادہ رکھنا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، عبيد الله بن عبد الله الهذلي ( 5409 ) ، عراك بن مالك الغفاري ( 5582 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، خلف بن خالد القرشي ( 2733 ) ، حدیث ۔۔۔ مجھ سے خلف بن خالد قرشی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراق بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  2k
رواۃ الحدیث: جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، الليث بن سعد الفهمي ( 6641 ) ، عبد الله بن مالك بن بحينة ( 5038 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے ، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی ۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔
Terms matched: 4  -  Score: 500  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، عبيد الله بن عبد الله الهذلي ( 5409 ) ، عراك بن مالك الغفاري ( 5582 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، عثمان بن صالح السهمي ( 5524 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراک بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  2k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن العباس القرشي ( 4883 ) ، عبيد الله بن عبد الله الهذلي ( 5409 ) ، عراك بن مالك الغفاري ( 5582 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، يحيى بن بكير القرشي ( 8297 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا ، ان سے جعفر نے ، ان سے عراک بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا ۔
Terms matched: 4  -  Score: 448  -  2k
رواۃ الحدیث: ابو هريرة الدوسي ( 4396 ) ، سعيد بن المسيب القرشي ( 3299 ) ، محمد بن شهاب الزهري ( 7272 ) ، يونس بن يزيد الايلي ( 8621 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، عبد الرحمن بن القاسم العتقي ( 4311 ) ، سعيد بن تليد الرعيني ( 3386 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے بکر بن مضر نے ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے ۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا « أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي‏ » کہ کیا تجھ کو یقین نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 429  -  5k
رواۃ الحدیث: سلمة بن الاكوع الاسلمي ( 3513 ) ، يزيد بن ابي عبيد الاسلمي ( 8376 ) ، بكير بن عبد الله القرشي ( 1951 ) ، عمرو بن الحارث الانصاري ( 6080 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے سلمہ بن اکوع کے مولیٰ یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ « وعلى الذين يطيقونہ فديۃ طَعام مسكين‏ » تو جس کا جی چاہتا تھا روزہ چھوڑ دیتا تھا اور اس کے بدلے میں فدیہ دے دیتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا ۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بکیر کا انتقال یزید سے پہلے ہو گیا تھا ۔ بکیر جو یزید کے شاگرد تھے یزید سے پہلے 120 ھ میں مر گئے تھے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  3k
رواۃ الحدیث: عبد الله بن مالك بن بحينة ( 5038 ) ، عبد الرحمن بن هرمز الاعرج ( 4506 ) ، جعفر بن ربيعة القرشي ( 2148 ) ، بكر بن مضر القرشي ( 1940 ) ، قتيبة بن سعيد الثقفي ( 6460 ) ، حدیث ۔۔۔ قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا ، انہوں نے اعرج سے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ نے ، کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر پڑھائی ۔ آپ کو چاہیے تھا بیٹھنا لیکن آپ ﷺ (بھول کر) کھڑے ہو گئے پھر نماز کے آخر میں بیٹھے ہی بیٹھے دو سجدے کئے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k


Search took 0.477 seconds