رواة الحدیث

نتائج
نتیجہ مطلوبہ تلاش لفظ / الفاظ: بلال رباح الحبشي 1963
کتاب/کتب میں: سنن ابي داود
5 رزلٹ جن میں تمام الفاظ آئے ہیں۔
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبد الله بن لحي الهوزني ( 5032 ) ، ممطور الاسود الحبشي ( 7663 ) ، زيد بن سلام الحبشي ( 3141 ) ، معاوية بن سلام الحبشي ( 7580 ) ، الربيع بن نافع الحلبي ( 1418 ) ، حدیث ۔۔۔ عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال ؓ سے حلب میں ملاقات کی ، اور کہا : بلال ! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کا خرچ کیسے چلتا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا ، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے ، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا ، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا ، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا : بلال ! میرے پاس وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں ، مجھ سے لے لیا کریں ، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی (اس سے لینے لگا) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا : اے حبشی ! میں نے کہا :   « يا لباہ » حاضر ہوں ، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا : تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ میں نے کہا : قریب ہے ، اس نے کہا : مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا ، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے ، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے (میں بھی وہاں گیا) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی ، میں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے (اگر ادا نہ کیا) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا ، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ ال...
Terms matched: 4  -  Score: 690  -  15k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، عبيد الله بن زيادة البكري ( 5386 ) ، عبد الله بن العلاء الربعي ( 4711 ) ، عبد القدوس بن الحجاج الخولاني ( 4602 ) ، احمد بن حنبل الشيباني ( 488 ) ، حدیث ۔۔۔ عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں ، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا ، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں ، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی ، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے ، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے ، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی ، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا “ ، بلال نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو کافی صبح کر دی ، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : ” جتنی دیر میں نے کی ، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا “ ۔
Terms matched: 4  -  Score: 489  -  4k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، شداد مولى عياض الجزري ( 3762 ) ، جعفر بن برقان الكلابي ( 2143 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، زهير بن حرب الحرشي ( 3036 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے “ ، اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال ؓ کو نہیں پایا ہے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو عبد الرحمن ( 9253 ) ، ابو عبد الله التيمي ( 259 ) ، عبد الله بن حفص القرشي ( 4776 ) ، شعبة بن الحجاج العتكي ( 3795 ) ، معاذ بن معاذ العنبري ( 7561 ) ، عبيد الله بن معاذ العنبري ( 5435 ) ، حدیث ۔۔۔ ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، بلال نے کہا : آپ ﷺ قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے تشریف لے جاتے ، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا ، آپ ﷺ وضو کرتے اور اپنے عمامہ (پگڑی) اور دونوں موق (جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پر مسح کرتے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 396  -  2k
رواۃ الحدیث: بلال بن رباح الحبشي ( 1963 ) ، ابو عثمان النهدي ( 4492 ) ، عاصم الاحول ( 4064 ) ، سفيان الثوري ( 3436 ) ، وكيع بن الجراح الرؤاسي ( 8160 ) ، إسحاق بن راهويه المروزي ( 927 ) ، حدیث ۔۔۔ بلال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ۔
Terms matched: 4  -  Score: 340  -  1k


Search took 0.387 seconds