کتاب المظالم والغصب
کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں
THE BOOK OF AL-MAZALIM.

فِي الْمَظَالِمِ والغصب
باب: لوگوں پر ظلم کرنے اور مال غصب کرنے کے بیان میں۔
Concerning oppressions and unlawful taking (of something) by violence.
، وَقَالَ مُجَاهِدٌ:‏‏‏‏ مُهْطِعِينَ سورة إبراهيم آية 43 مُدِيمِي النَّظَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ مُسْرِعِينَ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ سورة إبراهيم آية 43 يَعْنِي جُوفًا لَا عُقُولَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ ‏‏‏‏ 44 ‏‏‏‏ وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الأَمْثَالَ ‏‏‏‏ 45 ‏‏‏‏ وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ ‏‏‏‏ 46 ‏‏‏‏ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ‏‏‏‏ 47 ‏‏‏‏ سورة إبراهيم آية 44-47، ‏‏‏‏‏‏وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَارُ ‏‏‏‏ 42 ‏‏‏‏ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ سورة إبراهيم آية 41-42 رَافِعِي الْمُقْنِعُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُقْمِحُ وَاحِدٌ.
اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ ابراہیم میں فرمایا اور ظالموں کے کاموں سے اللہ تعالیٰ کو غافل نہ سمجھنا۔ اور اللہ تعالیٰ تو انہیں صرف ایک ایسے دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ اور وہ سر اوپر کو اٹھائے بھاگے جا رہے ہوں گے۔ «مقنع» ‏‏‏‏ اور «مقمح» دونوں کے معنے ایک ہی ہیں۔ مجاہد نے فرمایا کہ «مهطعين‏» کے معنے برابر نظر ڈالنے والے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «مهطعين‏» کے معنی جلدی بھاگنے والا، ان کی نگاہ خود ان کی طرف نہ لوٹے گی۔ اور دلوں کے چھکے چھوٹ جائیں گے کہ عقل بالکل نہیں رہے گی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے محمد! لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آ اترے گا، جو لوگ ظلم کر چکے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! (عذاب کو) کچھ دنوں کے لیے ہم سے اور مؤخر کر دے، تو اب کی بار ہم تیرا حکم سن لیں گے اور تیرے انبیاء کی تابعداری کریں گے۔ جواب ملے گا کیا تم نے پہلے یہ قسم نہیں کھائی تھی کہ تم پر کبھی ذوال نہیں آئے گا؟ اور تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ چکے ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم پر یہ بھی ظاہر ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ ہم نے تمہارے لیے مثالیں بھی بیان کر دی ہیں۔ انہوں نے برے مکر اختیار کیے اور اللہ کے یہاں ان کے یہ بدترین مکر لکھ لیے گئے۔ اگرچہ ان کے مکر ایسے تھے کہ ان سے پہاڑ بھی ہل جاتے (مگر وہ سب بیکار ثابت ہوئے) پس اللہ کے متعلق ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ وہ اپنے انبیاء سے کئے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ بلاشبہ اللہ غالب اور بدلہ لینے والا ہے۔
1- بَابُ قِصَاصِ الْمَظَالِمِ:
باب: ظلموں کا بدلہ کس کس طور پر لیا جائے گا۔
(1) CHAPTER. Retaliation (on the Day of Judgement) in cases of oppressions.
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا". وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ.
ہم سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو معاذ بن ہشام نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا۔ یونس بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا۔

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: Allah's Apostle said, "When the believers pass safely over (the bridge across) Hell, they will be stopped at a bridge in between Hell and Paradise where they will retaliate upon each other for the injustices done among them in the world, and when they get purified of all their sins, they will be admitted into Paradise. By Him in Whose Hands the life of Muhammad is everybody will recognize his dwelling in Paradise better than he recognizes his dwelling in this world."
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 620
2- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ ہود میں یہ فرمانا کہ ”سن لو! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“۔
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “…No doubt! The curse of Allah is on the Zalimun (polytheists, oppressors, and the wrong-doers) (V.11:18)
حدیث نمبر: 2441
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ "إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏أَيْ رَبِّ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، ان سے صفوان بن محرزمازنی نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جا رہا تھا۔ کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے (قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔

Narrated Safwan bin Muhriz Al-Mazini: While I was walking with Ibn `Umar holding his hand, a man came in front of us and asked, "What have you heard from Allah's Apostle about An-Najwa?" Ibn `Umar said, "I heard Allah's Apostle saying, 'Allah will bring a believer near Him and shelter him with His Screen and ask him: Did you commit such-and-such sins? He will say: Yes, my Lord. Allah will keep on asking him till he will confess all his sins and will think that he is ruined. Allah will say: 'I did screen your sins in the world and I forgive them for you today', and then he will be given the book of his good deeds. Regarding infidels and hypocrites (their evil acts will be exposed publicly) and the witnesses will say: These are the people who lied against their Lord. Behold! The Curse of Allah is upon the wrongdoers." (11.18)
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 621
3- بَابُ لاَ يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ:
باب: کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے اور نہ کسی ظالم کو اس پر ظلم کرنے دے۔
(3) CHAPTER. A Muslim should not oppress another Muslim,nor should be hand him over to an oppressor.
حدیث نمبر: 2442
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, "A Muslim is a brother of another Muslim, so he should not oppress him, nor should he hand him over to an oppressor. Whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfill his needs; whoever brought his (Muslim) brother out of a discomfort, Allah will bring him out of the discomforts of the Day of Resurrection, and whoever screened a Muslim, Allah will screen him on the Day of Resurrection . "
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 622
4- بَابُ أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا:
باب: ہر حال میں مسلمان بھائی کی مدد کرنا چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
(4) CHAPTER. Help your brother whether he is an oppressor or he is an oppressed one.
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن ابی بکر بن انس اور حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔

Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one."
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 623
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ:‏‏‏‏ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)۔

Narrated Anas: Allah's Apostle said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one. People asked, "O Allah's Apostle! It is all right to help him if he is oppressed, but how should we help him if he is an oppressor?" The Prophet said, "By preventing him from oppressing others."
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 624
5- بَابُ نَصْرِ الْمَظْلُومِ:
باب: مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔
(5) CHAPTER. To help the oppressed.
حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ:‏‏‏‏ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، ‏‏‏‏‏‏وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَدَّ السَّلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِجَابَةَ الدَّاعِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ".
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا، کہ میں نے معاویہ بن سوید سے سنا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا تھا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم فرمایا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع بھی فرمایا تھا (جن چیزوں کا حکم فرمایا تھا ان میں) انہوں نے مریض کی عیادت، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت کرنے والے (کی دعوت) قبول کرنے، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا۔

Narrated Muawiya bin Suwaid: I heard Al-Bara' bin `Azib saying, "The Prophet orders us to do seven things and prohibited us from doing seven other things." Then Al-Bara' mentioned the following:-- (1) To pay a visit to the sick (inquiring about his health), (2) to follow funeral processions, (3) to say to a sneezer, "May Allah be merciful to you" (if he says, "Praise be to Allah!"), (4) to return greetings, (5) to help the oppressed, (6) to accept invitations, (7) to help others to fulfill their oaths. (See Hadith No. 753, Vol. 7)
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 625
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔

Narrated Abu Musa: The Prophet said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet then clasped his hands with the fingers interlaced (while saying that).
USC-MSA web (English) Reference: Book 43 , Number 626
6- بَابُ الاِنْتِصَارِ مِنَ الظَّالِمِ:
باب: ظالم سے بدلہ لینا۔
(6) CHAPTER. To retaliate upon an oppressor (by invoking Allah to punish him).
لِقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ:‏‏‏‏ لا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا سورة النساء آية 148 وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ سورة الشورى آية 39، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِبْرَاهِيمُ:‏‏‏‏ كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يُسْتَذَلُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَدَرُوا عَفَوْا.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ «لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم وكان الله سميعا عليما‏» اللہ تعالیٰ بری بات کے اعلان کو پسند نہیں کرتا۔ سوا اس کے جس پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ) «والذين إذا أصابهم البغى هم ينتصرون‏» اور وہ لوگ کہ جن پر ظلم ہوتا ہے تو وہ اس کا بدلہ لے لیتے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ سلف ذلیل ہونا پسند نہیں کرتے تھے، لیکن جب انہیں (ظالم پر) قابو حاصل ہو جاتا تو اسے معاف کر دیا کرتے تھے۔
7- بَابُ عَفْوِ الْمَظْلُومِ:
باب: ظالم کو معاف کر دینا۔
(7) CHAPTER. Forgiveness granted by the oppressed person.
، لِقَوْلِهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا سورة النساء آية 149 وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ‏‏‏‏ 40 ‏‏‏‏ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ ‏‏‏‏ 41 ‏‏‏‏ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏‏‏‏ 42 ‏‏‏‏ وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأُمُورِ ‏‏‏‏ 43 ‏‏‏‏ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ وَلِيٍّ مِنْ بَعْدِهِ وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ ‏‏‏‏ 44 ‏‏‏‏ سورة الشورى آية 40-44.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ «إن تبدوا خيرا أو تخفوه أو تعفوا عن سوء فإن الله كان عفوا قديرا‏» اگر تم کھلم کھلا طور پر کوئی نیکی کرو یا پوشیدہ طور پر یا کسی کے برے معاملہ پر معافی سے کام لو، تو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور بہت بڑی قدرت والا ہے۔ (سورۃ شوریٰ میں فرمایا) «وجزاء سيئة سيئة مثلها فمن عفا وأصلح فأجره على الله إنه لا يحب الظالمين * ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل * إنما السبيل على الذين يظلمون الناس ويبغون في الأرض بغير الحق أولئك لهم عذاب أليم * ولمن صبر وغفر إن ذلك لمن عزم الأمور‏، وترى الظالمين لما رأوا العذاب يقولون هل إلى مرد من سبيل» اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی سے بھی ہو سکتا ہے، لیکن جو معاف کر دے اور درستگی معاملہ کو باقی رکھے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ ہی پر ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جس نے اپنے پر ظلم کئے جانے کے بعد اس کا (جائز) بدلہ لیا تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ گناہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین پر ناحق فساد کرتے ہیں، یہی ہیں وہ لوگ جن کو درد ناک عذاب ہو گا۔ لیکن جس شخص نے (ظلم پر) صبر کیا اور (ظالم کو) معاف کیا تو یہ نہایت ہی بہادری کا کام ہے۔ اور اے پیغمبر! تو ظالموں کو دیکھے گا جب وہ عذاب دیکھ لیں گے تو کہیں گے اب کوئی دنیا میں لوٹ جانے کی بھی صورت ہے؟