سلسلہ صحیحہ 1337

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب ہر نماز کا وقت شروع ہوتا ہے تو ایک منادی کرنے والے کو بھیجا جاتا ہے ، وہ یوں اعلان کرتا ہے کہ : آدم کے بیٹو ! اٹھو اور اس آگ کو بھجاؤ جو تم نے اپنے نفسوں کے لیے جلائی ہے ۔ (جب وہ اس اعلان کا لحاظ کر کے ) کھڑے ہوتے ہیں اور وضو کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے گناہ گر جاتے ہیں اور جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو اس اور سابقہ نماز کے درمیانی وقفے میں ہونے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ پھر تم لوگ (گناہ کر کے ) آگ جلاتے ہو ، جونہی ظہر کی نماز کا وقت کا وقت ہوتا ہے تو اعلان کرنے والا پھر اعلان کرتا ہے : بنو آدم ! اٹھو اور اس آگ کو بھجاؤ جو تم نے اپنے نفسوں کے لیے جلائی ہے ۔ وہ پھر کھڑے ہوتے ہیں ، وضو کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ، یوں اس نماز اور سابقہ نماز کے مابین ہونے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ، جب مغرب کا وقت ہوتا ہے تو یہی معاملہ پیش آتا ہے اور جب عشاء کا وقت ہوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ۔ پس جب لوگ سوتے ہیں تو وہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض لوگ خیر سے متصف ہو کر دن گزارنے والے ہیں اور بعض شر میں لتھڑ کر ۔“ سلسلہ صحیحہ 1337

سلسلہ صحیحہ 3479

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو آدمی علم حاصل کرتا ہے ، لیکن اس کو (لوگوں کے سامنے ) بیان نہیں کرتا ، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے ، جو خزانہ جمع کرتا رہتا ہے ، لیکن اس میں سے خرچ نہیں کرتا ۔ “ سلسلہ صحیحہ 3479

سلسله صحيحه 2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لکھ کر علم کو مقید کرو ۔ “ یہ حدیث انس بن مالک ، سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھم سے مروی ہے ۔ سلسله صحيحه 2026

سلسلہ صحیحہ ۱۳۳۴

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی کے عمل کو دیکھ کر اس کے ( نیک و بد ) ہونے کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرو ، دیکھو کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے ، کیونکہ ( یہ حقیقت ہے کہ ) عامل کچھ زمانہ نیک اعمال کرتا رہتا ہے ، اگر انہی اعمال پر اس کو موت آ جائے تو وہ جنتی ہو گا ، لیکن اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ برے عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ( اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ) ۔ اسی طرح ایک انسان کچھ عرصہ تک برے عمل کرتا رہتا ہے ، اگر انہی پر اس کو موت آجائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا ، لیکن ہوتا یوں ہے کہ اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ نیک عمل شروع کر دیتا ہے ( اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ) ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے موت سے قبل نیک اعمال کی توفیق دے دیتے ہیں ، پھر اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔“

سلسلہ صحیحہ 511

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گنہگار کو بخش دے ، ماسوائے اس کے جو شرک کی حالت میں مرا یا وہ مومن جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ۔“ سلسلہ صحیحہ ۵۱۱

باب: اتباع سنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا”.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر 1