تفسير ابن كثير

سورة القصص
تفسیر سورۃ القصص

مسند احمد میں سیدنا معدیکرب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں سورۃ طسم سو آیتوں والی پڑھ کر سنائیں تو آپ نے فرمایا مجھے یاد نہیں، تم سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے جا کر سنو جنہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔ چنانچہ ہم آپ کے پاس گئے اور آپ نے ہمیں یہ مبارک سورت پڑھ کر سنائی۔ (مسند احمد:419/1:ضعیف)


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

طسم﴿1﴾ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴿2﴾ نَتْلُو عَلَيْكَ مِنْ نَبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴿3﴾ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴿4﴾ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴿5﴾ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴿6﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] طٰسم۔ (1) یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی۔ (2) ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ (3) یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے۔ (4) پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بےحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور [زمین] کا وارث بنائیں۔ (5) اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت واختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وه دکھائیں جس سے وه ڈر رہے ہیں۔ (6)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

کتاب روشن کی آیتیں ٭٭

حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ (2-البقرة:1) یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» (12-يوسف:3) ” ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں “۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔

چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔

لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ” ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا “۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔

جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» (7-الاعراف:137)۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴿7﴾ فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ﴿8﴾ وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴿9﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ہم نے موسیٰ [علیہ السلام] کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی ره اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج غم نہ کرنا، ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں۔ (7) آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار۔ (8) اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے۔ (9)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 9 ،8 ،7 ،

بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭

مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔

ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔

موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔

ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» (20-طه:39) ” میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا “۔

پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔

اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ” آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا “۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔

اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ” فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے “۔

روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں “۔

یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔

اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔

اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔