تفسير ابن كثير

سورة الذاريات
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا﴿2﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا﴿4﴾ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ﴿5﴾ وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ﴿6﴾ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ﴿7﴾ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ﴿8﴾ يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ﴿9﴾ قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ﴿10﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ﴿11﴾ يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ﴿12﴾ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ﴿13﴾ ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ﴿14﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر۔ (1) پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو۔ (2) پھر چلنے والیاں نرمی سے۔ (3) پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں۔ (4) یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں [سب] سچے ہیں۔ (5) اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے۔ (6) قسم ہے راہوں والے آسمان کی۔ (7) یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو۔ (8) اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو۔ (9) بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے۔ (10) جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں۔ (11) پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟۔ (12) ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ (13) اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے۔ (14)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 14 ،13 ،12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،


خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہوا، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ابر، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: کشتیاں، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: فرشتے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:442/11) اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ہوا، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: فرشتے اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: کشتیاں۔ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ (مسند بزار:2259:ضعیف)
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا

«حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ (سیرۃ ابن ھشام:231/1)
«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:445/11)
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔

پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» (37-الصافات:163-161) یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو

پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ﴿15﴾ آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ﴿16﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (15) ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ (16)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 16 ،15 ،

حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭

پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔

لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔

دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» (69-الحاقة:24) یعنی ” دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو “۔