تفسير ابن كثير

سورة الطور
تفسیر سورۃ الطور

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

وَالطُّورِ﴿1﴾ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ﴿2﴾ فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ﴿3﴾ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ﴿4﴾ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ﴿5﴾ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ﴿6﴾ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴿7﴾ مَا لَهُ مِنْ دَافِعٍ﴿8﴾ يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا﴿9﴾ وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا﴿10﴾ فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ﴿11﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] قسم ہے طور کی۔ (1) اور لکھی ہوئی کتاب کی۔ (2) جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے۔ (3) اورآباد گھر کی۔ (4) اور اونچی چھت کی۔ (5) اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی۔ (6) بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے۔ (7) اسے کوئی روکنے واﻻ نہیں۔ (8) جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا۔ (9) اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔ (10) اس دن جھٹلانے والوں کو [پوری] خرابی ہے۔ (11)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔ (صحیح بخاری:3207)
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، (الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع)

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل) ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المعمور کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل) ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» (21-الأنبياء:32)

ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے )۔

جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» (81-التكوير:6) جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -

علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ (مسند احمد:43/1:ضعیف)

دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔

ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔

ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ رب کعبہ کی قسم سچی ہے، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔

الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ﴿12﴾ يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴿13﴾ هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ﴿14﴾ أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ﴿15﴾ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴿16﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] جو اپنی بیہوده گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔ (12) جس دن وه دھکے دے دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے۔ (13) یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے۔ (14) [اب بتاؤ] کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ (15) جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا۔ (16)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 16 ،15 ،14 ،13 ،12 ،


اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔