تفسير ابن كثير

سورة النجم
تفسیر سورۃ النجم

صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔


 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴿1﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى﴿2﴾ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى﴿3﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴿4﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] قسم ہے ستارے کی جب وه گرے۔ (1) کہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے۔ (2) اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ (3) وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ (4)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 4 ،3 ،2 ،1 ،

تفسیر سورۂ النجم ٭٭

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:503/11)

بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» (56-الواقعة:80-75) ہے۔


پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ (مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد)
مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔ (مسند احمد:192/2،صحیح) یہ حدیث ابوداؤد (سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح) اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔

بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ (مسند بزار:121)

مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔ (مسند احمد:340/2:حسن)

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى﴿5﴾ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى﴿6﴾ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى﴿7﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔ (5) جو زور آور ہے پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا۔ (6) اور وه بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔ (7)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 7 ،6 ،5 ،

تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» (81-التكوير:19-21) ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔

یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ (سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح)

” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“

ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» (53-النجم:7) کا۔ (ضعیف)

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔

یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» (96-العلق:1) کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ (فتح الباری:360/12)

لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔

مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔

اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ (مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف)
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ (مسند احمد:322/1:ضعیف)
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں ( چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔

یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟

ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔

یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ (مستدرک حاکم:539/2:صحیح)