تفسير ابن كثير

سورة المنافقون
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ﴿1﴾ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿2﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ﴿3﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔ (1) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راه سے رک گئے بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں۔ (2) یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے۔ (3)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 3 ،2 ،1 ،

منافقین کی قسمیں کھانا ٭٭

اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ ” گو یہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر دراصل دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہٰذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لیے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں “۔

مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار رہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بداعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔

ضحاک رحمہ الله کی قرأت میں «أَيْمَانَهُمْ» ‏‏‏‏الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لیے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آ گئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہو چکی ہے، بظاہر تو خوش رو، خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کر لیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے۔

اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» (33-الأحزاب:19) الخ، ” تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گزرتے ہیں یہ بے ایمان ہیں، ان کے اعمال غارت ہیں، اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے “۔

پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آ جانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بے راہی پر چل رہے ہیں؟

وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴿4﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر [اپنا] کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر [سخت] آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔ (4)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 4 ،

علامات منافقین ٭٭

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے ۔ (مسند احمد:293/2:ضعیف)