تفسير ابن كثير

سورة القلم
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴿1﴾ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ﴿2﴾ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ﴿3﴾ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴿4﴾ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ﴿5﴾ بِأَيْيِكُمُ الْمَفْتُونُ﴿6﴾ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴿7﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه [فرشتے] لکھتے ہیں۔ (1) تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔ (2) اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے۔ (3) اور بیشک تو بہت بڑے [عمده] اخلاق پر ہے۔ (4) پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے۔ (5) کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے۔ (6) بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ (7)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 7 ،6 ،5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

نون سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ن سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ” لکھ “ اس نے کہا: کیا لکھوں؟ فرمایا ” تقدیر لکھ ڈال “ پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کر دیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:14/29:قال امام حاكم:صحیح) مطلب یہ ہے کہ یہاں ن سے مراد یہ مچھلی ہے۔
طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا، قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں؟ حکم ہوا، ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے، پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے۔ (طبرانی:8652-8653:ضعیف)

ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا: ” لکھ “ اس نے پوچھا: کیا؟ فرمایا ” جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے “ عمل، رزق، عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا ۔

اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ” مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا “۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»
اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے ـ کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتائیے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتا دیں، سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے ۔ (مسند احمد:108/3:صحیح)
دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا؟ فرمایا: جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا: انہیں پانی کون سا ملے گا؟ فرمایا: «سلسبیل» نامی نہر کا ۔ (صحیح مسلم:315)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد «ن» سے نور کی تختی ہے۔ ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34540:مرسل و ضعیف)

ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «ن» سے مراد دوات ہے اور «قلم» سے مراد قلم ہے۔ (ضعیف) حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں۔

ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے «نون» کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے «نون» یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا ” لکھ “ اس نے پوچھا: کیا لکھوں؟ فرمایا: ” جو قیامت تک ہونے والا ہے “، اعمال خواہ نیک ہوں، خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو، خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کون سی چیز دنیا میں کب آئے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہو جاتا ہے عمر پوری ہو جاتی ہے اجل آ پہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں بتاؤ آج کے دن کا کیا سامان ہے؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لیے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا، یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا ـ

اس بیان کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا؟ «اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ (45-الجاثية:29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کر لیا کرتے تھے۔

قلم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

یہ تو تھا لفظ «ن» کے متعلق بیان، اب «قلم» کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے «‏‏‏‏الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ» ‏‏‏‏ (96-العلق:4) یعنی ” اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا “، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا «ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ (68- القلم:1) یعنی ” اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔

نبی دیوانہ نہیں ہوتا ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی! تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لیے اجر عظیم ہے اور ثواب بے پایاں ہے جو نہ ختم ہو، نہ ٹوٹے، نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کر دیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بے حساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے “۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے ـ (تفسیر ابن جریر الطبری:34559)

اور حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ سائل سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا: بس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم تھا۔ (عبد الرزاق فی التفسیر:3275) مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورۃ مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

خلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

بنو سواد کے ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت «‏‏‏‏وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ (68-القلم:4) پڑھی اس نے کہا: کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سنو! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکایا اور حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حفصہ کے ہاں کا کھانا آ جائے تو برتن گرا دینا چنانچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا: اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ! اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔ (مسند احمد:111/6:ضعیف)

مطلب اس حدیث کا جو کئی طریق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے، یہ ہے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا، کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا؟ (صحیح بخاری:6038) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش خلق تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم، نہ تو ریشم ہے، نہ کوئی اور چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر ۔ (صحیح بخاری:1973)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک ٭٭

صحیح بخاری میں ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ آپ پست قامت تھے ۔ (صحیح بخاری:3549) اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

شمائل ترمذی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا، نہ بیوی بچوں کو، نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت دور ہو جاتے، کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لیے ضرور انتقام لیتے (صحیح بخاری:3560)

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں ۔ (مسند احمد:2/381:صحیح)

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی! آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا؟ “

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» ‏‏‏‏ (54-القمر:26) ” انہیں ابھی کل ہی معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا؟ “

جیسے اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ (34-سبأ:24) ” ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی پر “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ «مَفْتُونُ» مجنون کو کہتے ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے؟ «مَفْتُونُ» کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہو جائے۔ «أَييِّكُمُ» پر ب کو اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہو جائے کہ «‏‏‏‏فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ (68-القلم:5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہو جائے گا کہ ” تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے “ اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی «مَفْتُونُ» کی خبر دے دیں گے۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا کہ ” تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے “۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ﴿8﴾ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴿9﴾ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ﴿11﴾ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ﴿13﴾ أَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ﴿14﴾ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ﴿15﴾ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ﴿16﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان۔ (8) وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔ (9) اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ۔ (10) بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور۔ (11) بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار۔ (12) گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو۔ (13) اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے۔ (14) جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں۔ (15) ہم بھی اس کی سونڈ [ناک] پر داغ دیں گے۔ (16)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 16 ،15 ،14 ،13 ،12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” اے نبی! جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں، جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہیئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کر کھیلیں “۔ اور یہ بھی مطلب ہے کہ ” یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں “۔

پھر فرماتا ہے ” زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان “ - چونکہ جھوٹے شخصوں کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے، اس لیے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بے موقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مَّهِينٍ» سے مراد «کاذب» ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں «حَلَّافٍ» مکابرہ کرنے والا اور «مَّهِينٍ» ضعیف، «هَمَّازٍ» غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا ۔ (صحیح بخاری:216) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا۔ (صحیح بخاری:6056)

دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے۔ (مسند احمد:389/5:صحیح)

سب سے بہتر اور برتر شخص ٭٭

مسند احمد کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا: وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو ۔ (سنن ابن ماجہ:4119،قال الشيخ الألباني:ضعیف) ترمذی میں بھی یہ روایت ہے۔

پھر ان بد لوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ ” بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو، جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے “۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں ۔ (صحیح بخاری:4918)

اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق ۔ (مسند احمد:169/2:صحیح)

ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ» (68-القلم:13) کون ہے؟ فرمایا: بدخلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی ۔ (مسند احمد:4/227:صحیح) لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی، پیٹ بھر کھانے کو دیا، مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34603:مرسل) یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے۔

غرض «عُتُلٍّ» کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو، طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ «زَنِيمٍ» سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں «زَنِيمٍ» اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو بیک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ «زنیم» وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے۔

جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی ۔ (مجمع الزوائد:275/6:موضوع)

اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے ۔ (مسند احمد:6/109:ضعیف)
پھر فرمایا ” اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں “۔

اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ» (74-المدثر:26-11) ” مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کرکے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے «سَقَرَ» میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ «سَقَرَ» کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپٹ جاتی ہے اس پر انیس فرشتے متعین ہیں “۔

اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے “ یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشان دار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے، فی الواقع یہ بہت درست ہے۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا ۔ (طبرانی اوسط:8801:ضعیف)