تفسير ابن كثير

سورة الحاقة
 
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

الْحَاقَّةُ﴿1﴾ مَا الْحَاقَّةُ﴿2﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ﴿3﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ﴿4﴾ فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ﴿5﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ﺛابت ہونے والی۔ (1) ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟۔ (2) اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟۔ (3) اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا۔ (4) [جس کے نتیجہ میں] ﺛمود تو بے حد خوفناک [اور اونچی] آواز سے ہلاک کردیئے گئے۔ (5)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 5 ،4 ،3 ،2 ،1 ،

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» (91-الشمس:11) یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ﴿6﴾ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ﴿7﴾ فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ﴿8﴾ وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ﴿9﴾ فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَابِيَةً﴿10﴾ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ﴿11﴾ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ﴿12﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے۔ (6) جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک [اللہ نے] مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ (7) کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟۔ (8) فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں۔ (9) اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی [بالﺂخر] اللہ نے انہیں [بھی] زبردست گرفت میں لے لیا۔ (10) جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ (11) تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں، اور [تاکہ] یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ (12)
 
 


تفسیر آیت/آیات، 12 ،11 ،10 ،9 ،8 ،7 ،6 ،


یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» (41-فصلت:16)

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ” قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی “، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔ (صحیح بخاری:1035)

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔

پھر فرماتا ہے ” بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ “ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ” فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا “۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ” ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ “

جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» (50-ق:14) یعنی ” ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ “

اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» (26-الشعراء:105)

اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» (26-الشعراء:123)

اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» (26-الشعراء:141) یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

طوفان نوح ٭٭

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ” دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» (69-الحاقة:11) اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» (69-الحاقة:6) کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ” ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ “

جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» (43-الزخرف:13،12)، یعنی ” تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ “

اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» (36-يس:42،41) یعنی ” ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ “

قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔

پھر فرمایا ” یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے “، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔

ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔ ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل)

ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف) یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔