الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وأصحابه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين۔
اما بعد!
اللہ رب العزت کا بے حد احسان و کرم ہے کہ اس نے دار ابن بشیر للبحث والتحقيق کو علمی و تحقيقي میدان میں ایک اور منفر د، بیش قیمت اور شاہکار علمی پیش رفت کی توفیق عطا فرمائی۔
دیارِ یمن بالخصوص صنعاء ان تاریخی علاقوں میں شامل ہے جہاں اسلام کے ابتدائی دور ہی میں انوارِ رسالت کی شعاعیں پہنچیں اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعی اور تبع تابعین و محدثینِ عظام نے اس سرزمین کو اپنے علم، تقویٰ اور نصوصِ قرآن وحدیث کی ترویج و اشاعت سے منور فرمایا۔ اس علمی و تاریخی حیثیت کے پیشِ نظر، زیرِ نظر کتاب "سرزمینِ صنعاء (یمن و دمشق) میں آثارِ صحابہ و محدثین" قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
یہ کتاب اپنے موضوع، اسلوب اور مواد کے اعتبار سے اردو زبان میں پہلا اور منفرد کام ہے، جس میں فاضل مرتبین نے نہایت محنت اور سائنسی تحقیق و ترتیب کے ساتھ صنعاء کی تاریخ اور وہاں کے صحابہ و محدثین کے آثار و خدمات کو یکجا کیا ہے۔
کتاب کے اہم علمی و تحقيقي فوائد:
۱. اردو میں تاریخِ صنعاء و آثار پر اولین و منفرد جامع پیشکش:
اردو زبان میں صنعاء (یمن و دمشق) کے علمی و تاریخی اثرات، وہاں وارد ہونے والے صحابہ کرام اور محدثین کے احوال پر اس انداز کا کوئی جامع کام پہلے موجود نہیں تھا۔ یہ کتاب اس خلا کو احسن طریقے سے پر کرتی ہے۔
۲. صنعاء کی جغرافائی و تاریخی اہمیت کا احاطہ:
کتاب کے ابتدائی باب میں صنعاء کی قدیم وجدید تاریخ، اس کا جغرافیائی و علمی پس منظر اور خطۂ یمن میں اشاعتِ اسلام کے ابتدائی ادوار کا تفصیلی اور مستند جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
* ۳. صنعانی صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کے احوال و آثار کا استقصاء:
ان جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مستند و جامع ذکر جن کا تعلق صنعاء سے رہا، یا جنہوں نے وہاں قیام فرمایا اور دعوت و اشاعتِ دین میں اہم کردار ادا کیا۔
۴. صنعاء کے محدثین، روات اور علمی طبقات کا تعارف:
صنعاء سے تعلق رکھنے والے ممتاز محدثین، ائمۂ حدیث اور ان کے مرویات و طرقِ حدیث کی مفصل تدویں و تحقیق پیش کی گئی ہے، جو طالبانِ علومِ حدیث اور رجال کے لیے نایاب تحفہ ہے۔
۵. یمن و دمشق کے علمی و تاریخی روابط پر روشنی:
کتاب میں صنعاء، یمن اور دمشق کے باہمی علمی، تاریخی اور روایتی تعلقات اور سندِ حدیث کی نقل و حرکت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس سے اس دور کے تاریخی و دینی خطوط واضح ہوتے ہیں۔
جن جگہوں پر صحابہ کرام اور محدثین نے زندگیاں گزاری ہیں ان جگہوں سے قلبی محبت یے ، یہی وجہ ہے کہ شہروں کی مستقل متعدد تواریخ لکھ چکے ہیں مثلا،
سرزمین حجاز و اطراف میں آثار صحابہ و محدثین
سر زمین دمشق میں آثار صحابہ و محدثین
سر زمین غزہ و عسقلان میں آثار صحابہ و محدثین
سفر نامہ محدثین کی تلاش میں
الحمدللہ یہ سب مطبوع ہیں ۔
اس مبارک سلسلے مقصد یہ یے کہ نسل نو کو صحابہ کرام اور محدثین کی خدمات جلیلہ کا تعارف کروانا ہے شاید ہماری یہ کتب پڑھ کر کوئی اپنے آپ کو دین حنیف کی خدمت کے لیے وقف کر لے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری اس ادنی سی محنت کو اپنی بارگاہِ میں قبول و مقبول فرمائے، اور اسے طالبانِ علم، محققین اور عامۃ المسلمین کے لیے نفع بخش کا ذریعہ بنائے۔ آمین