الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
The Book on the Day of Friday
13. باب مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: منبر پر قرآن پڑھنے کا بیان۔
Chapter: What Has Been Related About The Recitation On The Minbar
حدیث نمبر: 508
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى بن امية، عن ابيه، قال: " سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا على المنبر ونادوا يا مالك ". قال: وفي الباب عن ابي هريرة، وجابر بن سمرة. قال ابو عيسى: حديث يعلى بن امية حديث حسن صحيح غريب، وهو حديث ابن عيينة، وقد اختار قوم من اهل العلم ان يقرا الإمام في الخطبة آيا من القرآن، قال الشافعي: وإذا خطب الإمام فلم يقرا في خطبته شيئا من القرآن اعاد الخطبة.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَقْرَأَ الْإِمَامُ فِي الْخُطْبَةِ آيًا مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِذَا خَطَبَ الْإِمَامُ فَلَمْ يَقْرَأْ فِي خُطْبَتِهِ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ أَعَادَ الْخُطْبَةَ.
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر پڑھتے سنا: «ونادوا يا مالك» ۱؎ اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک!
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ۲؎، شافعی کہتے ہیں: امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3230)، و10 (3266)، وتفسیر الزخرف 1 (4819)، صحیح مسلم/الجمعة 13 (871)، (تحفة الأشراف: 11838) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: الزخرف: ۷۷ ( «مالک» جہنم کے دروغہ کا نام ہے جس کو جہنمی پکار کر کہیں گے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہمیں موت ہی دیدے تاکہ جہنم کے عذاب سے نجات تو مل جائے، جواب ملے گا: یہاں ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے)
۲؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ میں سورۃ ق پوری پڑھا کرتے تھے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بطور وعظ ونصیحت کے قرآن کی کوئی آیت پڑھنی چاہیئے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (3 / 75)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.