الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
Chapters on the description of the Day of Judgement, Ar-Riqaq, and Al-Wara'
9. باب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصِّرَاطِ
باب: پل صراط کا بیان۔
Chapter: ….
حدیث نمبر: 2432
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن النعمان بن سعد، عن المغيرة بن شعبة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " شعار المؤمن على الصراط رب سلم سلم " , قال ابو عيسى: هذا حديث غريب من حديث المغيرة بن شعبة لا نعرفه إلا من حديث عبد الرحمن بن إسحاق، وفي الباب عن ابي هريرة.(مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِعَارُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الصِّرَاطِ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہو گا: «رب سلم سلم» میرے رب! مجھے سلامت رکھ، مجھے سلامت رکھ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق (واسطی ہی) کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11533) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں اور عبد الرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1973) // ضعيف الجامع الصغير (3398) //
حدیث نمبر: 2433
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي، حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا حرب بن ميمون الانصاري ابو الخطاب، حدثنا النضر بن انس بن مالك، عن ابيه، قال: سالت النبي صلى الله عليه وسلم , ان يشفع لي يوم القيامة , فقال: " انا فاعل " قال: قلت: يا رسول الله , فاين اطلبك، قال: " اطلبني اول ما تطلبني على الصراط "، قال: قلت: فإن لم القك على الصراط؟ قال: " فاطلبني عند الميزان "، قلت: فإن لم القك عند الميزان؟ قال: " فاطلبني عند الحوض فإني لا اخطئ هذه الثلاث المواطن " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه.(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَقَالَ: " أَنَا فَاعِلٌ " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ، قَالَ: " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ "، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ: " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا: ضرور کروں گا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپ نے فرمایا: سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا، میں نے عرض کیا: اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا: تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو؟ فرمایا: اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1624) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5595)، التعليق الرغيب (4 / 211)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.